دہشت گردی—ایک تقابلی جائزہ

آج کل کے جدید زمانے میں جدید ٹیکنالوجی، اور ذرائع ابلاغ کی مدد سے دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئ ہے- جس طرح سے دنیا کی اکانومی، کلچر گلوبلائز ہو رہے ہیں اسی طرح سے مسائل بھی گلوبلائز ہو رہے ہیں ان مسائل میں اول نمبر کا مسئلہ دہشتگردی ہے اور اس گلوبلائزیشن نے پوری گلوب کو ہی گن کے نشانے پر لا کھڑا کیاہے-
دہشت گردی کی سادہ ترین تعریف یوں کی جا سکتی ہے
Terrorism is the use of terrorizing methods of governing or resisting a government.
اور دہشت کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے
Terror is an intense, overpowering fear.
اس تعریف کی رو سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ تشددکا نا جائز استعمال دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، پھر چاہے وہ حکومت کی طرف سے ہو یا پھر کسی حکومت مخالف گروپ کی طرف سے-
دہشت گردی کی یہ تعریف کوئ حکومتی سطح پر مانی ہوئ تعریف نہیں ہے، حکومتی سطوحات پر اسکو سمجھنے کے لئے قائم معیار بہت پیچیدہ ہیں اور یہ معیار وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں اور انہی تبدیل شدہ معیارات کی بدولت ہیروز، دہشت گردوں میں اور دہشت گرد، ہیروز میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں-
یہاں ہم تاریخ کی روشنی میں انہی مثالوں کو دیکھیں گے جن میں اسی بدلتے ہوئے معیارات کی بدولت دہشت گرد، ہیروز میں اور ہیروز، دہشت گردوں میں تبدیل ہو گئے-
1930 کی دہائ میں اور 1940ء کی دہائ کے ابتدائ سالوں میں یہودیوں کو ایک دہشت گرد قوم کے طور پر جانا جاتا تھا اور فلسطینی علاقہ جات میں انک کاروائیاں دہشت گردی کے زمرے میں آتی تھیں- لیکن 1942ء میں جیسے ہی ہولوکاسٹ کی خبریں عام ہونا شروع ہوئیں تو پوری دنیا میں یہودیوں کے لئے ہمدردی کے جزبات پیدا ہونا شروع ہو گئے اور دہشت گرد قوم ایک مظلوم قوم میں تبدیل ہو گئ، اور دہشت گرد یکدم تحریک آزادی کے جیالے بن گئے جن کا مقصد یہودیوں کے لئے انکی مقدس سرزمیں پر ایک علیحدہ ریاست کا حصول تھا نتیجتا‘‘ اسرائیل کی ریاست کا قیام وجود میں آگیا اور ماضی کے دہشت گرد وزارت اعظمیٰ کی کرسی تک بھی جا پہنچے-
اسرائیل کے قیام کے بعد سے فلسطینیوں نے اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھائ کیونکہ ان سے انکی زمین، انکا ملک چھن چکا تھا، لیکن کوئ ملک انکی بات سننے کا روادار نہ تھا اور نہ ہی کسی نے انکی مدد کی- فلسطینیوں کے پر امن احتجاج کا کہیں نوٹس نہیں لیا گیا- بالآخر 1960ء کی دہائ کے آخر میں انہوں نے اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کے لئے دہشت گردی کا سہارا لیا اور دنیا کو ہوائ جہازوں کی ہائ جیکنگ سے متعارف کروایا، نتیجتا‘‘ 1969ٰء کے بعد فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر مشہور ہوگئ اور یاسر عرفات ایک دہشت گرد کے طور پر دنیا میں ابھرے- اور یوں مظلوم فلسطینی قوم ایک دہشت گرد قوم بن گئ-
1980ٰء کی دہائ میں افغان مجاہدین کا بہت شہرہ رہا جو شیطان کے چیلوں کے ساتھ پنجہ آزمائ کر رہے تھے-
‘‘جہاد‘‘ اسلام میں بہت اہمیت کا حامل ہے- عربی زبان میں اس لفظ کا مطلب ہے ‘‘کوشش کرنا‘‘، اسلام میں جہاد کی دو قسمیں بتائ گئ ہیں، ایک اپنے نفس کے خلاف جہاد کرنا، اور ایک مسلمان اپنی تمام زندگی اس جہاد میں گزار دیتا ہے، جب وہ اپنی زندگی کو اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتا ہے، اپنے رزق کو حلال طریقے سے کماتا ہے، ماں باپ، بیوی بچوں اور معاشرے کے حقو ق پوری ایمانداری سے ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا رہتے ہوئے اپنے آپ کو کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے بچانے کی کوشش کرتاہے-
جہاد کی دوسری قسم، اللہ کہ راہ میں کیا جانے والا جہاد ہے،1980 سے پہلے تک اس جہاد کو مسلمانوں کی زندگی سے خارج ہوئے صدیاں بیت چکی تھی اور دنیا اسلامی جہاد کے نام سے بھی آشنا نہ رہی تھی-
سابقہ سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد، اسلامی جہاد کا یہ پہلو مغربی کوششوں کی وجہ سے مسلمانوں کو یاد دلایا گیا کہ یہ جنگ دراصل خدا کو نہ ماننے والے لادین لوگوں کے خلاف جہاد ہے- اور صدیوں کے خوابیدہ مسلمان اس پکار پر یکدم بیدار ہو گئے اور سوویت یونین کے خلاف جہاد میں مصروف ہوگئے- اس جہاد کے لئے ضروری اسلحہ، تربیت اور سرمایہ بیرونی زرائع اور امداد کے زریعے سے مہیا کیا گیا اور اس طرح اللہ کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے دنیا نے مسلمانوں کی بڑی مدد کی- اب یہ جہاد تھا یا کسی بڑے ملک کے مفادات کی جنگ، اس بارے میں کسی وضاحت کی میں ضرورت محسوس نہیں کرتی- افغان مجاہدین بہت عزت اور اہمیت کے حامل ہو گئے اور ہر جگہ انکو ہیروز کے طور پر پیش کیا جانے لگا اور انکا زکر عزت کے ساتھ کیا جاتا وہ اخبارات اور میگزینز کے فرنٹ پیج کے ٹائٹلز بن گئے- وہ ایسے ہیروز تھے جو غاروں میں رہتے تھے اور اس شیطانی قوتوں سے پنجہ آزما تھے جس کے پاس دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی تھی-
سویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد مجاہدین، مجاہدین نہ رہے بلکہ وہ منشیات اور اسلحے کے اسمگلرز بن گئے ، دنیا کی حمائت یکدم ختم ہوگئ اور وہ مجاہدین سے یکدم مزہبی شدت پسند بن گئے جنکی ایکٹیویٹیز سے دنیا کے امن کو خطرہ تھا- اور انہوں نے یکدم دہشت گردوں کا درجہ حاصل کر لیا، جن کی شر پسند کاروائیوں سے دنیا کو محفوظ رکھنے کے لئے دنیا بھر میں جنگ شروع کر دی گئ اور دنیا بھر کی فوجیں افغانستان پہنچ گئیں تاکہ ان دہشت گردوں کو سبق سکھا سکیں، اور اب جبکہ وہ سویت یونین کو اپنے ملک سے بھگانے کے بعد مغربی افواج کو اپنے ملک سے نکالنا چاہتے ہیں تو ان کے اقدامات دہشت گردانہ کاروائیوں میں شمار ہو رہے ہیں-
یہ سلسلہ شاید یوں ہی چلتا رہے گا، آج ایک گروہ دہشت گرد ہے تو کل کوئ اور ہو گا، اور نہ جانے کتنے لوگ اس سلسلے کی زد میں آئیں گے-

Referrence : Terrorism, their and ours, by Iqbal Ahmed

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s