چاندنی رات کا نغمہ

وہ کتنی ہی دیر سے کھڑکی کے پاس بیٹھی آسمان کو دیکھ رہی تھی۔ چاند اپنا آدھا سفر طے کرکے آسمان کے درمیان میں پہنچ چکا تھا۔ چاندنی نے پورے آسمان پر قبضہ کیا ہوا تھا۔ ستاروں کی جگمگاہٹ مانند پڑی ہوئی تھی۔ آسمان پر بادلوں اور چاند کی آنکھ مچولی جاری تھی۔ٹھنڈی ہوا، پھولوں، پتوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کر رہی تھی۔
"چاندنی! اتنی رات ہوگئی بیٹا، تم ابھی تک جاگ رہی ہو۔” اسکی امی نے پوچھا جو رات کے اس پہر دیکھنے آئی تھیں کہ وہ ٹھیک سے سو رہی ہے۔
"امی! میں چاند کو دیکھ رہی ہوں۔"
"بیٹا! یہ کوئی وقت ہے چاند کو دیکھنے کا، اتنی رات ہو گئی ہے اب تمہیں سو جانا چاہیئے۔"
"جی امی!۔"
اس نے فرمانبردار بچوں کی طرح جواب دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
————-
کچھ دن آگے گزر گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا وہی پہر تھا۔
وہی وہ اور وہی کھڑکی۔
وہ پھر کھڑکی کے پاس بیٹھی باہر آسمان پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ ٹھنڈی ہوا آج بھی پھولوں اور پتوں کے ساتھ ہنسی مزاق کر رہی تھی۔ ہلکے ہلکے بادلوں نے آسمان کا گھیراؤ کیا ہوا تھا۔ آج ان کی آنکھ مچولی کے کھیل میں چاند کی بجائے ستارے شامل تھے۔
"چاندنی بیٹا!” امی پھر آ گئیں۔
"جی امی۔"
"یہاں کیا کر رہا ہے میرا چاند۔” انہوں نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔
"امی! میں چاند دیکھ رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔” جواب پھروہی تھا۔
"چاند کو۔۔۔۔۔۔۔” انہوں نے نظر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا۔چاروں طرف اماوس کی رات کا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔”رات بہت ہو گئی ہے۔ اب چاند کو بھی آرام کرنا ہے۔ تم بھی سو جاؤ۔” انہوں نے اس کے ماتھے پر پیار کیا۔ ساتھ ہی دو بے آواز آنسو ان کی آنکھوں میں جھلملا گئے۔
"جی امی۔"
اس نے فرمانبرداری سے جواب دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اماوس کی رات کا اندھیرا اس کی آنکھوں میں بھی چھایا ہوا تھا۔
————-
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
کہ ہم کو تتلیوں کے، جگنوؤں کے دیس جانا ہے
ہمیں رنگوں کے جگنو
روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہے
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
کہ ہم کو تتلیوں کے، جگنوؤں کے دیس جانا ہے
ہمیں رنگوں کے جگنو
روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہے
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
کہ ہم کو تتلیوں کے، جگنوؤں کے دیس جانا ہے
ہمیں رنگوں کے جگنو
روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہے
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
کہ ہم کو تتلیوں کے، جگنوؤں کے دیس جانا ہے
ہمیں رنگوں کے جگنو
روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہے
"اتنی دیر سےاسی خیال کو ہی کیوں دہرا رہی ہیں آپ۔؟” ایک درشت سی آواز بہت ہی نزدیک سے سنائی دی۔ اس کی محویت ٹوٹ گئی۔
"جی مجھ سے کچھ کہا۔"
جواب ندارد۔
اس نے اپنا وہم خیال کیا۔ وہ تو بے آواز لبوں سے گنگنا رہی تھی، بھلا کوئی کیسے سن سکتا تھا۔ اس نے گہرا سانس لیا۔
"میں آپ سے پوچھ رہا ہوں، کہ بار بار یہی مصرعے کیوں دہرا رہی ہیں۔ تتلیوں، جگنوؤں کا کوئی وجود نہیں ہوتا،انکا کوئی دیس نہیں، وہ کسی کو آواز نہیں دیتے، کس خیالی دنیا میں بس رہی ہیں آپ۔ باہر نکلیں۔ حقیقت کا سامنا کریں۔"
یقیناً وہ جو کوئی بھی تھا اسی سے مخاطب تھااور شاید غصہ بھی۔
"یہ خیالی نہیں حقیقی دنیا ہے اور تتلیاں، جگنو سب حقیقی زندگی کا حصہ ہںی۔ کیا آپ کو نظر نہیں آتے؟ ان کی آواز سنائی نہیں دیتی ؟۔” اس نے جواب دیا۔
جواب ندارد۔
وہ الجھ گئی۔ یہ کیسا شخص تھا۔ بات کرتے کرتے کہیں کھو جاتا۔ اور بات بھی کہاں کر رہا تھا۔۔۔۔اس انداز کو بات تو نہیں کہتے۔۔۔۔۔۔۔
"آپ یہاں لکھ دیں جو کہہ رہی ہیں۔” اس آواز نے اس کی سوچوں میں خلل ڈالا۔
"لکھ دوں۔؟” وہ ناسمجھنے والے انداز میں بڑبڑائی۔
اس آدمی نے اپنی بات جاری رکھی، اس کی بڑبڑاہٹ جیسے سنی ہی نیںN،” میں سن نہیں سکتا اس لئے لکھ کر بات کرتا ہوں۔ آپ یہاں لکھنے کی زحمت کریں گی۔” لہجہ اور الفاظ دونوں طنزیہ ۔۔۔۔جیسے ساری غلطی دوسرے کی ہو۔
"میں سن نہیں سکتا۔” اور پوری بات میں اس نے شاید صرف یہی بات سنی تھی۔ وہ انداز، وہ الفاظ جو کچھ دیر پہلے تک بہت سختمحسوس ہو رہے تھے۔ یکدم کہیں کھو گئے۔ صرف ایک بازگشت رہ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
"میں سن نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔میں سن نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔میں سن نہیں سکتا۔۔۔"
اسنے کاغذ اور قلم لینے کے لئے ہاتھ بڑھا دئیے۔
"آپ۔۔۔۔۔۔۔۔” اگلا شخص اتنا ہی کہہ سکا۔ پاس رکھی سفید چھڑی تو اس نے اب ہی دیکھی تھی۔
وہ سمجھ گئی۔
"ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ جملہ مکمل نہیں کر سکی، نہیں بتا سکی کہ وہ دیکھ نہیں سکتی۔ بتانے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ سن نہیں سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں اپنی اپنی زات کے گرداب میں پھنسے ہوئے،ایک طرف خواب ۔۔۔ چاندنی راتوں کے، رنگوں کے، روشنیوں کے۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری طرف۔۔۔ مایوسی، نفرت، تنہائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا سے جس کو جو مل سکا۔
"میں ہونٹوں کی جنبش بھی پڑھ لیتا ہوں، ہم اس طرح بھی بات کر سکتے ہیں۔” وہی آواز پھر سنائی دی۔
"میں چاند کو دیکھنا چاہتی ہوں۔ کیسے دیکھوں؟” اسنے سوال کیا۔
آنکھوں سے۔۔۔۔۔۔۔لیکن یہ اس کے سوال کا جواب نہیں تھا۔ اس کے لئے کوئی اور جواب ہونا چاہئے تھا۔۔۔۔۔۔ دیکھنے کا کوئی اور طریقہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن کونسا طریقہ؟کونسا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
اس سوال نے اس کے اندر قبضہ کر لیا۔ نفرت، مایوسی اور تنہائی باہر کھڑے منہ دیکھتے رہ گئے۔ وہ خوش قسمت تھا۔۔۔ہاںوہ یقیناً خوش قسمت تھا۔۔۔۔چاند کو دیکھ سکتا تھا مگر ساتھ بیٹھی ہوئی لڑکی۔۔۔۔۔۔۔
باتیں ختم ہو گئی تھیں۔ چہار سو سناٹا رہ گیا تھا۔ اندھیرا اس کے ساتھ تھا۔
————-
دیکھو دیکھو
چاند کو دیکھو
خوش ہوتے ہوئے
مسکراتے ہوئے
سنو سنو
چاند کو سنو
گنگناتے ہوئے
کھلکھلاتے ہوئے
ریڈیو پرمقبول عام نغمہ چل رہا تھا۔ اس نغمے کی شاعری اور دھن ایسے فنکار نےبنائی جو سن نہیں سکتا تھا۔ چاندنی کو اب
راتوں کو جاگ کر چاند دیکھنے کی ضرورت نہیں رہی تھی۔
Advertisements

3 comments on “چاندنی رات کا نغمہ

  1. السلام علیکم!
    Sumara ji bahot dilger lekha ha app ne bilkul chandni ki tarah.lekin mughe pata hai..app khakah bahot acha lekhti hai.plz woh bhi share karen na…Yahan
    aik baat batau? cheezen ya log aise hote nai ha jaise dekhai dete hain.
    tc

  2. آپ نے آخری ٹچ اچھا دیاہے، بُہت عمدہ سونگ منتخب کیا یے-اس سونگ کی شاعری،موسیقی،دھُن اور آواز میں اتنی ہم آہنگی ہے کہ اس نغمہ کو روحانی بنا دیا ہے -غالبا” یہ ڈرامہ ” تیسرا کنارہ ” کا ٹچنگ سونگ ہے- اور بہت خوب ہے- "ذولقرنین "میرے دماغ میں زرا بھی جگہ نہ پا سکا جسکا مُجھے افسوس ہے-شُکریہ

    • پسندیدگی کے لئے بہت شکریہ۔

      زوالقرنین کا زکر یاجوج ماجوج کے حوالے سے آتا ہے۔ یہ وہ بادشاہ ہیں جنہوں نے یاجوج ماجوج کو روکنے کے لئے دیوار بنائی تھی۔ اس بارے میں موقع ملا تو مزید تفصیلات بھی شامل کروں گی۔ ان شاء اللہ۔

      بلاگ پر آنے کے لئے بہت شکریہ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s