محبت کی زبان

اس کے ساتھ والی سیٹ خالی تھی۔ اس نے ٹریول ایجنٹ کا دیا ہوا کتابچہ نکال کردیکھنا شروع کر دیا۔ مختلف نکات نظروں سے گزرنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کھلے پانی کو پینے سے اجتناب کریں۔۔کھانا کھانے، ہاتھ ملانے اور لین دین کے لئے دایاں ہاتھ استعمال کریں۔۔پاکستانی معاشرہ قدامت پسند معاشرہ ہے۔۔ خواتین سے ہاتھ ملانے یا نزدیک جانے کی کوششوں سے اجتناب کیا جائے۔۔ اجنبی عورتوں سے بات چیت کی کوشش نہ کی جائے۔۔ پاکستانی لوگ بہت مہمان نواز ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جہاز اسلام آباد کے ہوائی اڈے کی طرف محو پرواز تھا۔

کسی ایشیائی ملک کا یہ اس کا پہلا سفر تھا۔پاکستان کے بارے میں اس کی معلومات اس کتابچے میں درج باتوں تک محدود تھیں۔

*****************

وادئ کیلاش اس کے سامنے تھی۔وہ سانس لینا بھول گیا۔ طے کرنا مشکل تھا کہ وہ زمین پر ہے یا جنت میں۔

جنت ابھی نامکمل تھی۔

*****************

talk in everlasting words
and dedicate them all to me
and I will give you all my life
i’m here if you should call to me
you think that I don’t even mean
a single word I say

it’s only words
and words are all I have
to take your heart away

it’s only words
and words are all I have
to take your heart away


وہ آنکھیں موندے اپنا پسندیدہ گانا گنگنا رہا تھا۔ ہوائیں، پانی اور خاموشی بھی اس کے ساتھ گنگنا رہے تھے۔ یہ گانا اس کو اپنے دل کی آواز محسوس ہوتا تھا- وہ الفاظ کی اہمیت سے آگاہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ الفاظ ہی تو ہیں جو کسی کو دئے جا سکتے ہیں خوشی، غم، محبت، دوستی، نفرت ہر جذبے کا اظہار الفاظ کا ہی محتاج ہے۔ وہ شاعر کے ساتھ مکمل طور پر متفق تھا۔ اس خوبصورت ماحول میں کائنات بھی اس کو اپنی ہم خیال محسوس ہو رہی تھی۔

میں ۔۔۔۔میں۔۔۔۔
ہی ہی ہی ہی ہی ۔۔۔۔
میں ۔۔۔۔میں۔۔۔۔
میں ۔۔۔۔میں۔۔۔۔

ملی جلی آوازوں سے ماحول کا ردھم ٹوٹ گیا۔۔ وہ اس طرف متوجہ ہوگیا۔

چاروں طرف جگنو جگمگانے لگے۔۔۔۔یا اسے ہی ایسا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔۔ روشنی سے اس کی آنکھیں چندھیانے لگیں۔۔۔۔۔ وہ انہیں جھپکنا بھول گیا۔۔۔۔۔ کیوپڈ کا تیر آنکھوں کے رستے اس کے اندر اتر گیا ۔

ارد گرد سے بے نیاز، اپنی بھیڑ کے بچے سے ہنس ہنس کر باتیں کرتی ہوں لڑکی ناجانے جنت کی حور تھی یا اسے ہی حوروں جیسی لگی۔ بھیڑ کا بچہ منمناتے ہوئے اس کے گرد چکر کاٹ رہا تھا۔ ایک خوشی کا احساس ان کے اردگرد پھیلا ہوا تھا۔

میں ۔۔۔۔میں۔۔۔۔
میں ۔۔۔۔میں۔۔۔۔
ہی ہی ہی ہی ہی ۔۔۔۔

وہ کھلکھلا کر ہنس رہی تھی اور اسکے ساتھ۔۔۔۔۔۔

اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں سمجھ سکا۔ لیکن ان کی خوشی کا حصار اسے اپنے اردگرد بھی محسوس ہو رہا تھا۔ وہ ناجانتے ہوئے بھی ان کی خوشی میں خوش تھا۔

*****************

وہ ساری رات سو نہیں سکا۔

لا شعوری طور پر اگلے دن وہ پھر اسی جھیل کے کنارے پہنچ گیا ۔ جنت کا حسن ماند پڑا ہوا تھا۔ وہ انتظار کرنے لگا۔

انتظار دنوں میں تبدیل ہو گیا۔۔۔ دن ہفتوں میں۔۔۔۔اس کی واپسی کا وقت نزدیک آتا جا رہا تھا۔ ۔۔۔ ۔۔۔

*****************

جنت کی حور پھر جھیل کنارے اتری تھی۔ آج اس کے ہونٹوں پر ہنسی نہیں بلکہ آنکھ میں آنسو تھے۔ بھیڑ کے بچے کی ٹانگ پر چوٹ لگ گئی تھی۔ وہ تکلیف سے منمنا رہا تھا اور وہ اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف میں تھی۔ وہ خاموشی سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔

وہ بھیڑ کے بچے کو گود میں بٹھائے دھیرے دھیرے سہلا رہی تھی۔ وہ پرسکون ہوتا جا رہا تھا اور بالآخر وہ اس کی گود میں سو گیا۔ یہ سکون اس نے اپنے اندر بھی اترتے ہوئے محسوس کیا۔ شاید ان کے ساتھ اس کا لاشعوری تعلق قائم ہو چکا تھا۔ اس کے اندرخوشی اور تکلیف کا احساس، بنا کچھ کہے ہی، ان دو وجودوں کی خوشیوں اور تکلیفوں کے ساتھ مشروط ہو گیا تھا۔ اس تعلق کو وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا۔

اس نے گہری سانس لی اوراس کی طرف بڑھ گیا۔

Hello beautiful girl! May I know your name?

اس نے جنت کی حورکو مخاطب کیا۔
-Hola niña hermosa! se puede saber su nombre
اسنے اپنا سوال ہسپانوی زبان میں دہرایا۔
Hallo schönes Mädchen! kann ich wissen, dass Ihr Name
اب کی بار وہی سوال جرمن زبان میں تھا۔
Bonjour belle fille! mai je sais votre nom
Ciao bella ragazza! si può sapere il tuo nome
Hello beautiful girl! kanske jag vet ditt namn

وہ ایک کے بعد ایک مختلف زبانوں میں اپنی بات دہراتا گیا، ہر دفعہ ایک ہی جواب تھا۔

ہی ہی ہی ہی ہی ۔۔۔۔

وہ مزید زبانوں میں بھی کوشش کرتا لیکن اس سے پہلے ہی وہ دوپٹے کا کونہ منہ میں دبائے دوسری سمت کو بھاگ گئی۔ بے زبان مینڈھا لڑکھڑاتے ہوئےاس کے پیچھے بھاگا جا رہا تھا۔

میں ۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مینڈھے کی آواز دور ہوتی جا رہی تھی۔

*****************

جنت کی حور جاتے جاتے سکون اور خوشی کا احساس بھی اپنے ساتھ لے گئی تھی۔ وہ اکیلا رہ گیا تھا۔ الفاظ بھی اس کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ وہ جان گیا تھا کہ الفاظ ہی سب کچھ نہیں ہوتے۔ اس نے ان کو بے معنی ہوتا دیکھ لیا تھا۔

جنت کی حور کی ہنسی میں حیرانی کا تاثر تھا۔ یا شاید اسے ایسا محسوس ہوا تھا۔ اس کے بھاگنے کے پیچھے بھی جھجک کا عنصر تھا، وہ ناراض ہو کر نہیں گئی تھی۔ وہ اپنے محسوسات کی بنا پر اندازے لگا رہا تھا۔ خود ہی سے سوال جواب کر رہا تھا۔ یا شاید صرف سوال۔۔۔جواب تو اس کے پاس کسی بات کا نہیں تھا۔۔۔۔ اور جواب ملنے کی امید بھی نہیں۔۔۔۔

اس کے ذہن میں سوالوں اور سوچوں کا ہجوم تھا۔۔۔اپنی بات، اپنے احساسات اس تک کیسے پہنچائے ؟۔۔۔ اپنے جذبات کا اظہار کیسے کرے ؟ ۔۔۔ ۔۔۔۔ وہ تو اس کا نام بھی نہیں جان پایا تھا۔۔۔۔۔ اس کے خیالات کیسے جانے گا؟۔۔۔وہ کیا سوچتی ہے؟۔۔۔۔۔۔۔اس کے کیا احساسات ہیں؟۔۔۔۔کیا وہ کبھی جان پائے گا؟ ۔۔۔۔۔ کبھی بھی؟؟؟

سوالات مشکل ہوتے جا رہے تھے۔

کاش وہ یہاں آیا ہی نا ہوتا۔۔۔۔کاش وہ اس لڑکی سے ملا ہی نا ہوتا۔۔۔کاش اسے اس علاقے کی زبان آتی ہوتی۔۔۔۔کاش۔۔۔کاش۔۔۔۔ تمام سوچیں کاش پر پہنچ کر اٹکنے لگیں۔

سوچوں کا دھارا الجھن سے بڑھ کر مایوسی کی راہ پر گامزن ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔ جنت کی حور خوشی اور اطمینان کے ساتھ ساتھ اس کی امید بھی لے گئی تھی۔۔۔وہ بے بسی کی کیفیت کا شکار ہو رہا تھا۔۔۔۔ اس نے اپنا سر تھام لیا اور واپسی کی سمت میں قدم بڑھا دئے۔

*****************

واپسی کا سفر مشکل تھا ۔۔۔۔ کسی زاد راہ کے بغیر۔۔۔

کیا وہ ایک اور بار۔۔۔آخری بار جھیل کنارے جائے” اس نے خود سے سوال کیا۔اسے جواب کا انتظار نہیں تھا،

لیکن سوال تھے کہ پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہے تھے۔


میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔می ں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ۔۔۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔ میں میں

مینڈھےکی آواز نزدیک آتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔

اس نے مڑ کر دیکھا۔۔۔

بھیڑ کا بچہ منمناتے ہوئے اس کے گرد چکر کاٹ رہا تھا۔ محبت کی زبان سمجھ لی گئی تھی۔ ۔ ۔ان کہی سُنی جا چُکی تھی۔ ۔ ۔جنت کا وجود مُکمل ہو چُکا تھا۔ ۔ ۔

میں ۔۔۔۔میں۔۔۔۔
ہاہاہاہاہا۔۔۔۔

وہ کھلکھلا کر ہنسا۔اور پھر ہنستا ہی چلا گیا۔ اسکی ہنسی ایک مشترکہ ہنسی کا حصہ بن گئی۔

میں ۔۔۔۔میں۔۔۔۔
میں۔۔۔۔میں۔۔۔۔
ہی ہی ہی ہی ہی ۔۔۔۔
ہاہاہاہاہا۔۔۔
میں۔۔۔۔میں۔۔۔۔

ہی ہی ہی ۔۔۔

محبت کی زبان تو سبھی بولتے ھیں۔

Advertisements

2 comments on “محبت کی زبان

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s