کھوٹا سکہ

کھوٹا سکہ

"ٹپال، ٹپال دانے دار چائے۔”

"ٹپال، ٹپال دانے دار چائے۔”

میں کلاس چھوڑ کر باہر بیٹھے ہوئے، فائل کو انگلیوں سے بجاتے ہوئے انتہائی منہمک انداز سے گا رہا تھا۔

"یار! یہ تو واقعی دانے دار ہے۔” اسد نے چادر اوڑھے، سامنے سے گزرتی ہوئی لڑکی کو دیکھتے ہوئے کہا۔ جس کا چہرہ دانوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس کی بات پر سب دوستوں نے بھر پور قہقہہ لگایا اور ہم آواز ہو کر گانے میں شامل ہو گئے۔

"ٹپال، ٹپال دانے دار چائے۔”
"ٹپال، ٹپال دانے دار چائے۔”

چادر اوڑھے گزرتی لڑکی کی رفتار میں تیزی کو ہم میں سے کوئی محسوس نہ کر سکا۔
——

امتحان نزدیک تھے۔ ہم دوست پڑھنے کے
لئے لائبریری اکھٹے ہو جاتے تھے۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ شغل وغیرہ بھی جاری رہتے تھے اور گپ شپ بھی۔ باتیں کہاں سے کہاں جا نکلتی تھیں۔

"کالج جانے والی لڑکیاں تو فرشتوں کی تلاش میں آتی ہیں۔” میں نے کسی بات کے جواب میں اپنے دوستوں کی معلومات میں اضافہ کیا۔

"لیکن یار! یہ تو یونیورسٹی ہے نا، تو یونیورسٹی کی لڑکیوں کا بتا کہ وہ کیوں آتی ہیں۔؟” میرے جگری یار عدنان نے پوچھا۔

"یونیورسٹی آنے والی لڑکیاں رشتوں کی تلاش میں آتی ہیں۔”

میری بات پر پورے گروپ نے زوردار قہقہہ لگایا، لائبریری کا سکون درہم برہم ہوگیا۔
میز کے آخری کونے میں بیٹھی میری چند ہم جماعت لڑکیوں نے ناگواری سے ہماری طرف دیکھا اور اپنی کتابیں سمیٹنے لگیں۔ان کی نظریں ہمارے حلق سے ایک اور قہقہے کے برآمد ہونے کا سبب بن گئیں۔
——

امتحانوں کے دوران میں نے دل و جان سے محنت کی۔ مجھے یقین تھا کہ اچھا نتیجہ آئے گا، لیکن رزلٹ دیکھ کر دھچکا لگا۔ پچیس طالبعلموں کی جماعت میں، میرا نام تیئسویں نمبر پر تھا۔

"تو نے دیکھا پہلی پوزیشن وہ عینکو عثمان لے گیا۔” اسد نے بات شروع کی۔

"ہاں، کتابی کیڑا، سارا وقت اپنا چشمہ لگائے یا تو کتابوں میں سر دئیے رہتا تھا یا پھر کسی پروفیسر کا سر کھاتا رہتا تھا۔ ہونہہ۔۔۔چاپلوس، نمبر باز۔ ایسے میں محنت کرنے والے کس کو نظر آتے ہیں۔” میں نے اسد کی بات کا جواب دیا۔

” دیکھ تو سہی کیسا میسنا بنا سب سے مبارکبادیں وصول کر رہا ہے۔” عدنان نے ٹکڑا لیا۔ ہم سب نے ہی مڑ کر عثمان کی طرف دیکھا، وہ لڑکیوں کے جھرمٹ میں راجہ اندر بنا کھڑا ہوا تھا۔

” اور دوسری پوزیشن تو عطیہ لے گئی۔” اسد نے کہا

"اسکا تو پسندیدہ کام ہی منہ بگاڑ بگاڑ کر دوسروں سے باتیں کرنا اور انہیں مرعوب کرنے کی کوشش کرنا ہے۔” یہ عدنان تھا۔

"یونیورسٹی کو فیشن شو سمجھ کر آتی ہیں محترمہ۔ نت نئے کپڑے، میچنگ جیولری، جوتے، پرس۔۔۔ ڈیپارٹمنٹ میں لڑکے تو لڑکے پروفیسرز بھی اس کی شخصیت اور باتوں سے متاثر ہیں۔۔۔ہونہہ۔۔۔ محنت کرنے والوں کی کوئی قدر نہیں۔۔۔ کوئی میرٹ نہیں سب پسندیدگی کا چکر ہے یہاں پر۔۔۔۔۔” یہ میرے خیالات تھے۔

یہ میری پہلی ناکامی تھی۔ میں دوسروں کی کامیابی کی وجہ تو سمجھ رہا تھا، لیکن اپنی ناکامی کی وجہ نہیں سمجھ پا رہا تھا۔
کمی کہاں تھی۔
—-

عملی زندگی میں قدم رکھنے کا وقت آ گیا تھا۔ میں نے وکالت کا امتحان پاس کر لیا تھا، میرے دوست پریکٹس شروع کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ لیکن میں مقابلے کے امتحان میں بیٹھنا چاہتا تھا۔۔۔۔نا جانے کیوں؟۔۔۔۔ شاید بچپن میں سنے ہوئے لاٹ صاحب کے قصوں کی وجہ سے یا پھر شاید ہمارے خاندان میں کبھی کوئی مقابلے کے امتحان میں نہیں بیٹھا تھا۔۔۔۔ اس طرح میں خاندان میں سب سے ممتاز ہو جاتا۔۔۔۔میری خواہش اور ضد کے آگے امی کی ایک نا چلی۔اور یوں پڑھائی سے میرا رشتہ ایک بار پھر استوار ہو گیا۔

یونیورسٹی کے دوست زندگی کی مصروفیات میں گم ہونے لگے۔ نئے دوست بننے لگے، سب ہی مقابلے کے امتحان کے امیدوار۔ مل کر پڑھائیاں ہونے لگیں۔

ہم سب دانشور بننے کی کوشش میں لگے رہتے۔ میں نے سگریٹ پینا شروع کر دیا، یہ دانشوری کی پہلی شرط تھی۔رات رات پھر جاگنا، فلمیں دیکھنا، ان پر تبصرے کرنا ہم دانشوروں کا معمول بن گیا۔ دنیا جہاں کے موضوعات پر گفتگو ہوتی،کرکٹ سے لے کر ایڈز تک۔ درمیان میں پڑھائی کے وقفے بھی آتے رہے۔

میں دن کے پنچھی سے تبدیل ہوتے ہوئے رات کا راہی بنتا چلا گیا۔ امی مطمئن تھیں کیونکہ میں بہت محنت کر رہا تھا۔ وہ روز گرم دودھ کا گلاس مجھے دیتیں اور میری کامیابی کے لئے دعا کرتیں۔ میری سگریٹ نوشی کی عادت سے ان سے پوشیدہ تھی،لیکن میری سپاریوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی ان سے پوشیدہ نہ تھی۔

بالاخر امتحان ہو گئے۔ میں اپنی کامیابی کے بارے میں پر یقین تھا۔ میں نے پورا سال تیاری کی تھی، مجھے تو پاس ہونا ہی تھا۔
—-
نتیجہ آگیا۔۔۔۔لیکن۔۔۔
میں رہ گیا تھا۔۔۔۔مجھے یقین نہیں آ رہا تھا ایسا کیسے ہو سکتا تھا۔۔۔۔ نتائج میں رد و بدل کیا گیا تھا مجھے یقین تھا ورنہ میں۔۔۔۔اور رہ جاؤں ایسا بھلا کیسے ہو سکتا تھا۔
—-
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ میں اس ناکامی کے بعد وکالت کی طرف لوٹ جاتا۔ لیکن میں نے try try again کا محاورہ سن رکھا تھا اور اس پر میرا یقین بھی تھا۔ اس لئےامی کی خواہش کے باوجود میں نے پھر سے مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے کا فیصلہ کر لیا۔

دوستوں کے ساتھ مل کر پڑھنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کچھ دوست آگے نکل گئے تھے کچھ میرے ساتھ وہیں کے وہیں تھے۔

نتیجہ اس بار بھی مختلف نہیں تھا۔
اس سے اگلی دفعہ بھی نہیں اور اس سے اگلی دفعہ بھی۔۔۔
——-

"تو اتنی سگریٹ پیتا ہے، اگر تیری بیوی نے اعتراض کیا تو؟۔” ماچس سے میرا سگریٹ سلگاتے ہوئے انور نے پوچھا۔

"تو میں اپنی بیوی کو سگریٹ پیش کروں گا۔ پھر اگر اس نے سگریٹ کا کش لگایا، تو میں کس کے اس کے منہ پر طمانچہ ماروں گا،چاہے وہ لاٹ صاحب کی بیٹی کیوں نا ہو۔”

میرا اعتماد اپنے عروج پر تھا اور ساتھ ہی سگریٹ نوشی بھی۔ میرے پاس اس سال آخری موقع تھا۔ مجھے یقین تھا کہ اتنے سالوں سے مستقل تیاری کرنے کا نتیجہ ضرور میری کامیابی کی صورت میں نکلے گا۔
۔۔۔دوستوں کی محفلوں میں زیادہ تر اسی بات کا ذکر رہتا کہ کمیشن ملنے کے بعد کی زندگی کیسی ہوگی۔ اکیڈمی کی ٹریننگ۔۔۔۔زیادہ کمائی کے مواقع۔۔۔۔۔۔ارد گرد پھرتی نازک اندام لڑکیاں۔۔۔۔میں جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتا رہتا۔

پے در پے ناکامیوں کے بعد اب مجھے اکثر کسی اور جاب کو کر لینے کے مشورے ملتے رہتے تھے۔ امی مستقل جائے نماز پر بیٹھی رہتی تھیں۔ مجھے تو یہ جلدی تھی کہ کسی اچھی جگہ پوسٹنگ ہو، جہاں سے اتنے سال تیاری میں گزرنے کا خسارہ پورا ہو سکے اور میں بھی اِدھر اُدھر جاب کرنے کے مشورے دینے والوں کو دکھا سکوں کہ دیکھ لو میں لاٹ صاحب بن گیا ہوں۔

امتحان آئے اور گزر گئے۔۔۔۔اس دفعہ کامیابی تو یقینی تھی بس اس کے اعلان کا انتظار تھا۔۔۔امی کی دعائیں پوری ہونے والی تھیں۔

اور نتیجہ آ گیا۔
۔۔۔۔۔

اگلے دن میں
عینکو عثمان کے چیمبر میں جا کر ٹرینی کے طور پر کام کرنے لگا۔
۔۔۔۔۔
Advertisements

4 comments on “کھوٹا سکہ

  1. میرے خیال میں جہاں محنت کا اپنا وجود ھے -وھیں کہیں قسمت کا بھی وجود ھے -میں ذاتی طور پر قسمت کے وجود سے انکاری نہیں ھوں-شُکریہ 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s