بادلوں کا سفر

یہ افسانہ سہ ماہی ادبی جریدے "سمت” کے شمارہ نمبر 20 میں شامل ہوا ہے۔

بادلوں کا سفر

بادلوں کا سفر

سمندر سے نزدیکی کی وجہ سے ہوا میں نمی کی مقدار زیادہ تھی۔ درجہ حرات اگرچہ زیادہ نہیں تھا لیکن نمی کی وجہ سے حبس کا احساس تھا۔ بدلیاں آسمان پر اڑتی پھرتی تھیں۔ وہ کبھی سورج کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتیں اور کبھی چاند کے ساتھ اٹھکیلیوں میں مشغول ہو جاتیں۔ ہوا کے جھونکے انہیں جھولا جھلاتے ہوئے کہیں سے کہیں پہنچا دیتے۔ اور وہ اپنی شوخیوں اور دھن میں اس قدر مگن تھیں کہ انہیں ایک لمحے کو بھی یہ خیال نہیں آیا کہ ذرا رک کر نیچے زمین پہ بھی جھانک کر دیکھ لیں، جہاں شہر کے باسی ان پر نظریں جمائے بیٹھے تھے، اس آس میں کہ کھل کر نا سہی، پھوار کی طرح ہی ان کے جھلسے ہوئے جسموں پر یہ بدلیاں برس جائیں۔

————

شہر سے دور ساحل سمندر پر الگ ہی نظارہ تھا۔ شہر کے لوگ جہاں اپنے جھلسے ہوئے جسموں کے لئے پانی کی بوندیں برسنے کے منتظر تھے۔ وہیں کچھ لوگ تانبے جیسے بدن کے حصول کے لئے خود کو جھلسا رہے تھے۔ ساحل پر قطار در قطار کرسیاں لگی ہوئی تھیں، جن پر بلا تخصیص جنس لیٹے ہوئے لوگ غسل آفتابی میں مشغول تھے۔ مختصر ترین لباس میں ملبوس مرد و زن سمندر، لہروں، سورج، ہواؤں سب کو شرمندہ کئے دے رہے تھے، ماسوائے انسانوں کے۔۔۔۔

یہ بیچ عام رسائی سے دور تھی اور صرف غیر ملکیوں اور طبقہ امراء کے لئے مخصوص تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہاں دوسرے ساحلوں کے مقابلے میں غیر معمولی حد تک رش کم تھا۔ اس جگہ پہ حکومت کے ساتھ ساتھ انسانیت کے قوانین بھی لاگو نہیں تھے۔
کچھ دور ایک میوزیکل گروپ آرکسٹرا بجا رہا تھا۔ ساحل پہ دعوتِ خاص جاری تھی۔ سیٹھ ہمدان نے دوسرے سرمایہ کاروں کو وہاں مدعو کیا ہوا تھا۔ سمندر پار سے بھی مہمان مدعو تھے۔ ملکیوں اور غیر ملکیوں کا جمگھٹا تھا۔ یہ دعوت ان کے کاروبار کے لئے بہت اہم تھی، ان کے سرمائے میں برکت کا دارومدار شرکاء دعوت کی خوشنودی پہ تھا۔ انہوں نے خاطر داری میں کوئی کمی نہ چھوڑی تھی۔ مہمانوں کی تواضع کے لئے ایک طرف گوشت بھونا جا رہا تھا۔ دوسری طرف بار میں ہر طرح کے مشروبات مہیا کئے جا رہے تھے۔ رنگ برنگے ملبوسات میں خوبصورت عورتوں کے ساتھ برکت کے حصول کے لئے تمام لوازمات پورے تھے۔

مہمان بھی پارٹی سے بھر پور حظ اٹھا رہے تھے، قہقہوں اور باتوں کا ایک طوفان آیا ہوا تھا۔ اس شور میں موسیقی کی آواز کبھی دب جاتی اور کبھی ابھر آتی۔ دیسی مہمان چھتریوں کے سائے میں پارٹی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ جبکہ غیر ملکی مہمان، اپنی پارٹنرز کے ساتھ سمندر میں اندر جا کر ۔ سیٹھ ہمدان کی اپنے عملے کو خصوصی ہدایت تھی کہ مہمانوں کی تواضع میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ ہونے پائے۔ ان کا عملہ بھاگ بھاگ کر مہمانوں کی دیکھ بھال میں مصروف تھا۔ وہ خود بھی وقتاً فوقتاً انتظامات دیکھ رہے تھے۔

فائزہ نے حال ہی میں سیٹھ ہمدان کی فرم میں نوکری شروع کی تھی۔ ایسی کسی پارٹی میں شرکت کا اس کا پہلا موقع تھا۔ وہ پارٹی کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر انگشت بدنداں تھی۔ اگرچہ اس کا تعلق کسی مذہبی گھرانے سے نہیں تھا، لیکن وہ اتنی آزاد خیال نہیں تھی کہ حرام اور حلال کا فرق ہی بھول جاتی اور گناہ ثواب کے فلسفے کو نظر انداز کر دیتی۔ وہ دل ہی دل میں کراہیت محسوس کر ر ہی تھی اور پارٹی کے ماحول سے لاتعلق تھی۔ وہ پہلی دفعہ دیکھ رہی تھی کہ کاروباری ڈیلز کس طرح طے ہوتی ہیں۔ اسے سیٹھ ہمدان کی بات یاد آئی، "کسی کانٹریکٹ کو لینے کے لئے فیزیبیلٹی کا درست ہونا اہم نہیں بلکہ برکت ہونا ضروری ہے۔” اور یہ برکت کس طرح حاصل کی جاتی تھی، اس کا مظاہرہ یہاں اس کی نظروں کے سامنے تھا۔ اس کے ساتھی برکت کے حصول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔ وہ اس کو ایسے مہروں کی طرح لگ رہے تھے جن کی چال کسی اور کے ہاتھوں میں تھی، اس میں اور دیگر میں فرق بس اتنا تھا کہ وہ ایک ہلکے سے اشارے پر پٹنے کو تیار تھے اور وہ خود، ایک ایسے اڑیل مہرے کی طرح تھی جو حکم ملنے پر بھی اپنی جگہ نہ چھوڑے۔

"کیا بات ہے فائزہ۔؟ آپ کی طبیعیت تو ٹھیک ہے نا۔؟” اس کی عدم دلچسپی اس کے ایک ساتھی نے بھی محسوس کر لی تھی۔

"جی میں ٹھیک ہوں۔” اس نے ہوا سے اڑتے ہوئے بالوں کو پکڑتے ہوئے جواب دیا۔

"آپ انجوائے نہیں کر رہیں، تھک گئی ہیں کیا۔؟”

"یہاں انجوائے کرنے کے لئے ہے ہی کیا۔؟” وہ ایک دم تلخ ہو گئی۔

"کیا مطلب۔ ؟” اس کے کولیگ نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے محتاط انداز میں پوچھا۔

"جانے دیں۔” فائزہ نے بات ختم کرتے ہوئے کہا اور خود بھی دوسری سمت بڑھ گئی۔
سورج کا اپنے ٹھکانے کی طرف سفر جاری تھا، لیکن ابھی اس کی منزل آنے میں کچھ گھنٹے باقی تھے۔

دعوتِ خاص اپنے عروج پہ تھی۔ مہمان آرکسٹرا کی دھن پر رقص میں مصروف تھے، جب تھک جاتے تو واپس آ کر مے نوشی میں مصروف ہو جاتے۔ سمندر کی قربت مدہوشی کو اور بھی بڑھا رہی تھی۔

"ہیلو، اےخوبصورت خاتون۔” پینتالیس سالہ مارک نے فائزہ کے پاس بیٹھتے ہوئے انگریزی میں کہا۔ وہ اس کمپنی کا مینیجنگ ڈائریکٹر تھا، جس سے ٹھیکہ لینے کے لئے سیٹھ ہمدان نے یہ پارٹی دی تھی۔ اس حساب سے وہ اس پارٹی کا مہمان خصوصی تھا۔

"ہائے۔” فائزہ نے ایک نظر اس پر ڈالتے ہوئے مختصر جواب دیا۔

تم سب سے مختلف ہو۔۔۔۔یہاں کوئی بھی عورت تمہاری طرح نہیں ہے۔۔۔۔۔” فائزہ نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔

"تمہاری یہی ادا تو مجھے بھا گئی ہے جان من۔ یہاں ساری عورتیں میری جھولی میں گرنے کے لئے تیار ہیں، اور تم دوسری طرف منہ کئے بیٹھی ہو۔” مارک نشے میں بول رہا تھا۔

فائزہ اپنی جگہ سے اٹھ گئی، اور دوسری طرف جانے لگی، لیکن مارک نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

فائزہ اپنی جگہ سن ہو گئی، وہ سارا وقت پارٹی کے ماحول سے الگ تھلگ رہی تھی، اور اب مارک کی حرکت اس کی برداشت سے باہر تھی۔ وہ اس بے تکلفی کی اجازت کسی صورت نہیں دے سکتی تھی۔ اس نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی۔ لیکن نشے میں بھی مارک کی گرفت بہت مضبوط تھی۔

"چھوڑو مجھے۔” اس کے اعصاب چٹخ گئے تھے ۔ اڑیل مہرے نے پٹنے سے انکار کر دیا تھا۔موسیقی اور قہقہوں کے طوفان میں اس کی آواز کسی انسان کے کان تک نہیں پہنچ سکی۔

————

چھوڑو مجھے۔۔۔۔ ہواؤں کے دوش پہ یہ آواز آسمان پر اڑتی بدلیوں تک بھی جا پہنچی۔ لاپرواہی سے گھومتے ہوئے بادل یہ سن کر رک گئے۔ انہوں نے نیچے جھانک کر دیکھا۔۔۔ساحل پہ ابلیسی محفل جاری تھی۔۔۔۔۔ہر طرف ابلیسی پسند کی کالک چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔ اللہ کا خلیفہ، اپنے کھلے دشمن کے اشاروں پہ محو رقص تھا اور اپنی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔ ان کے افسوس اور غیض و غضب کی حد نہ رہی۔ آسمان پر اٹھلاتی ہوئی بدلیاں ایک ایک کرکے اکھٹی ہونے لگیں۔ گھنگور گھٹا ہر طرف چھا گئی۔ سارے دن کے شرمندہ سورج نے موقع ملتے ہی بدلیوں کے پیچھے اپنا منہ چھپا لیا۔ ایک بجلی کوندی، اور ساتھ ہی ایک زور دار چنگھاڑ سنائی دی۔ ساحل والوں نے سر اٹھا کر حیرت سے آسمان کی طرف دیکھا۔ موسم کی پیش گوئی کے مطابق بارش کا کوئی امکان نہیں تھا۔ وہ پھر سے مشغول ہو گئے۔ یہ ڈھٹائی دیکھ کر ہوائیں بھی جوش میں آ گئیں۔ سمندر بھی اپنا دبا ہوا غصہ نکالنے لگا۔ لہریں جوار بھاٹے میں بدلنے لگیں۔ لوگ سمندر سے نکل کر باہر آنے لگے۔ ہواؤں کے زور سے چھتریاں اکھڑ رہی تھیں۔ کرسیاں اڑ کر دور دور گر رہی تھیں۔ کاغذی گلاس اور پلیٹیں ہر طرف بکھر رہے تھے۔ غضبناک بادلوں میں سے مسلسل بجلیاں کوند رہی تھیں۔
ٹپ ٹپ ٹپ۔۔۔۔ بوندیں برسیں، پھر تو جیسے تانتا بندھ گیا۔ شہر والوں نے خلاف توقع زور دار گرج چمک کے ساتھ ہونے والی بارش کو اچھنبے سے دیکھا۔ لوگ اپنے جھلسے ہوئے بدنوں کے ساتھ گھروں سے باہر نکل آئے۔ ساحل پہ اب بھی الگ نظارہ تھا۔ وہاں موجود لوگ موسم کی اچانک تبدیلی پر نالاں تھے۔ ان کے خیال میں محکمہ موسمیات اتنا نااہل تھا کہ وہ بارش کے ہونے یا نا ہونے کا صحیح حساب بھی نہیں کر سکتا تھا۔ سارا دن سورج کی تیز شعاعوں کا سامنا کرنے کے بعد وہ اب اپنے آپ کو بارش کے قطروں سے بچانے کے لئے ڈھانپ رہے تھے۔ انسانیت اپنے جامے میں واپس آ رہی تھی۔ بارش سے سب کا نشہ دھل رہا تھا۔۔۔۔۔بادلوں کا غصہ کم نہیں ہو رہا تھا۔ ان کی گرج چمک مسلسل جاری تھی۔۔۔۔ ہواؤں کی تندی سے بارش اور سمندر طوفانی انداز اختیار کر رہے تھے۔ اونچی اونچی لہریں بے لگام ہو رہی تھیں۔ ابلیسی دعوت کے رنگ میں بھنگ پڑ گیا تھا۔ کیسی دعوت، کونسا کانٹریکٹ، کہاں کی برکت، اور کیسی موسم کی پیش گوئی۔ شرکاء دعوت سب بھول کر اب وہاں سے بخیریت نکلنے کی فکر میں تھے۔ فائزہ حیرت اور خوشی سے تائیدِ غیبی کو دیکھ رہی تھی۔

ابلیسی کھیل کےختم ہونے پہ بادلوں کا غصہ کچھ کم ہوا۔ ہوا بھی سست پڑ گئی، سورج نے پھر سے منہ باہر نکال لیا۔ بادلوں نے ساحل سے توجہ ہٹائی اور دوسرے علاقوں میں جھانکنا شروع کیا۔

————

صحرا میں آج کھل کے مینہہ برسا تھا۔ ہر طرف خوشی کا سماں تھا۔ لوگ ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے تھے۔ ہر طرف سے ہنسی اور خوشی کی آوازیں آ رہی تھیں۔

گاؤں سے گزرتی ہوئی واحد سڑک، جس پر برائے نام ٹریفک گزرتا تھا، پہ سالوں سے مرمت نہ ہونے کی وجہ سے جا بجا گڑھے بنے ہوئے تھے۔ جب کوئی گاڑی ان سےگزرتی تو جھٹکوں کی وجہ سے صحرا میں سفر کی اذیت دو چند ہو جاتی۔ مسافروں کے منہ سے نا چاہتے ہوئے بھی مغلظات نکل جاتیں، گویا تمام اذیتوں اور تکلیفوں کا باعث یہ خستہ حال سڑک اور گڑھے ہی ہوں۔ یہی گڑھے آج پانی سے بھرے ہوئے تھے۔ بارش کا پانی صحرا کی ریتیلی اور پیاسی زمین میں جذب ہو چکا تھا۔ اب صرف انہی گڑھوں میں بارش کا پانی موجود تھا۔

"اری او بسنتی! کیا کر رہی ہے، جلدی کر لے۔ کچھ ہی دیر میں سارا پانی خشک ہو جائے گا۔ پھر بیٹھی رہنا مہینوں انہی چیکڑ کپڑوں میں” ماسی نے بسنتی کو ٹوکتے ہوئے کہا، وہ خود بھی ایک نسبتاً گہرے گڑھے کے پاس بیٹھی تھی۔ اور شڑاپ شڑاپ کپڑے دھوئے جا رہی تھی۔ مہینوں بعد اسے اپنے کپڑے دھونے کے لئے وافر پانی ملا تھا۔

” پانی بہت ہے آج ماسی، سارے کپڑے دھل جائیں گے” بسنتی نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ بارش کی خوشی میں بسنتی کو ماسی کی سخت بات بھی ٹھنڈے پانی کی پھوار جیسی لگ رہی تھی۔

"بہت بہت کرتی رہ جائے گی۔۔۔۔ جب پانی ختم ہو جائے گا تب پوچھوں گی تجھ سے۔” ماسی نے اسے کہا۔ اس کی بڑبڑاہٹ پر بسنتی غصہ ہونے کی بجائے کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اور پھر لہرا لہرا کر دھلے ہوئے کپڑے سڑک کے کنارے اگی جھاڑیوں پر پھیلانے میں لگ گئی، خوشی اس کے انگ انگ سے ظاہر تھی۔ ماسی نے ایک نظر اس کو حیرت سے دیکھا اور پھر خود بھی اس کے ساتھ ہنسنے لگ گئی۔ بسنتی کا دو سالہ بیٹا ایک نزدیکی گڑھے میں چھپ چھپ کر رہا تھا۔ ماسی نے مڑ کر دیکھا گاؤں کی دوسری عورتیں بھی اپنے ان دھلے کپڑوں کی ڈھیریاں اٹھائے چلی آتی تھیں۔ وہ ان کی طرف متوجہ ہوگئی، "اری او کیسے سستی سے چل رہی ہو، جلدی جلدی چلو، پانی خشک ہو گیا تو بیٹھی رہو گی انہی چیکٹ کپڑوں میں۔”

بادلوں کا ملال صحرا میں زندگی کی نوید دیکھ کر ختم ہو گیا۔ ساحل پہ ان کی بپا کی ہوئی زحمت صحرا کے باسیوں کے لئے خوشی اور رحمت کا پیغام لے کر آئی تھی۔ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کھل کے مسکرا دئے۔ ہوا انہیں اڑا کر دور لے گئی۔
Advertisements

19 comments on “بادلوں کا سفر

  1. کیا یہ افسانہ آپ کا اپنا لکھا ہوا ہے؟
    اگر اپنا ہے تو بہت ہی اچھا ہے!!

    لیکن اگر اپنا نہیں ہے تو میرا دوستانہ مشورہ ہے کہ آپ اپنا لکھنے کی کوشش کریں۔ اسطرح آپ کو بھی اچھا لکھنا آئے گا۔ اور بلاگستان کو بھی بہت اچھا وقت دے سکیں گی۔ 🙂

  2. سمارا – تبصرہ کرنے کے بعد خیال آیا کی جس جملے کی میں نے تعریف کی ہے وہ یقینا” غلط ہے انسان بے خیالی میں لکھ جاتا ہے میرے خیال میں جملہ اسطرح ہونا چاھئے ” اللہ کا خلیفہ انسان کے دشمن کے اشاروں پر محو رقص ہے ” میرے خیال میں ایڈٹ کرلیں تو بہتر ہے -ویسے آپکی مرضی -شُکریہ

    • پسندیدگی اور اصلاح کے لئے بہت شکریہ، میں نے وہ جملہ تبدیل کرکے یوں کر دیا ہے، "اللہ کا خلیفہ، اپنے کھلے دشمن کے اشاروں پہ محو رقص تھا۔”

  3. یہ افسانہ تو بہت اچھا لکھا ہوا ہے۔
    یقین مانیے کہ مجھے تو پہلے یقین ہی نہیں آیا کہ آپ نے لکھا ہوگا۔
    لیکن آپ میں تو بہت صلاحیت ہے۔ میں شک ظا کرنے پر معافی چاہتا ہوں۔
    ہمارے بلاگستان میں ایک افسانہ نگار ہیں۔۔۔، تانیہ رحمان۔ ان کو جا کر اس افسانے کا ربط دیجئے۔ وہ ضرور آپ کو اپنی رائے سے نوازیں گی۔

    • تعریف کے لئے ایک بار پھر سے شکریہ، لیکن معذرت کی کوئی بات نہیں، آپ نے اس تحریر پر شک کیا، یہ تو اچھی نشانی ہے یعنی کہ تحریر میں اتنی جان تو ہے کہ آپ کو لگا کہ یہ میری نہیں ہو سکتی۔۔۔۔

      تانیہ جی کے بارے میں بتانے کے لئے شکریہ، میں ان سے رابطہ کرتی ہوں۔

  4. سمارا بہت خوب صورت بلاگ ہے ۔ اافسانہ ابھی پڑھا نہیں لیکن وہ بھی بہت زبردست ہو گا۔۔ میں کچھ بھی نہیں ہوں یہ عثمان جو ہے نا ۔ یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں جو عثمان نے پھلائی ہیں ۔ یہ خود بہت اچھا لکھتے ہیں ۔ اس لیے ۔ میں اللہ پاک کی شکرگزار ہوں ۔جو دو لفظ لکھ لیتی ہوں ۔ اگر اس ذات کا شکر ادا نا کیا تو نا شکری ہو گی ۔ میں تو ابھی خود سیکھ رہی ہوں ۔ دو چار افسانے چھپ جاہیں تو کوئی افسانہ نگار نہیں بن جاتا ۔ بس دعا کریں ۔ ہم قلم کے ساتھ انصاف کر سکیں میرے بلاگ پر آنے کا بہت شکریہ ۔ خوش رہو

  5. جی سمارا میں نے پڑھ لیا ۔ افسانہ اچھا ہے اور بھی اچھا پو سکتا ہے ۔ بس کوشش جاری رکھیں انشااللہ وہ دن دور نہیں جب آپ بہت اچھا لکھنے والوں میں ہوں گی ۔ الفاظ بہت اچھے ہیں تھوڑی سی ترتیب کی ضرورت ہے ۔ خیال بہت اچھا ہے ۔یہ سب کچھ لکھتے ہوئے میں ایک عام سی قاری ہوں جس کو خود کچھ نہیں آتا۔ اللہ پاک زور قلم اور زیادہ

    • خوش آمدید تانیہ!

      پڑھنے، رائے دینے اور نیک تمناؤں کے لئے بہت شکریہ۔ آپ کے افسانے میں نے پڑھے ہیں آپ ماشاء اللہ بہت اچھا لکھتی ہیں۔

      میں آئندہ بھی اپنے افسانوں پر رائے لینے کے لئے آپ کو زحمت دوں گی۔ : )

  6. سمارا آپ نے بہت خوبصورت الفاظ کے ساتھ بادلوں کے سفر کی روئداد بیان کر دی ۔ مغرب کی آزاد محفل آرائی کو حقیقی منظر آشنائی دی ۔
    یہ افسانہ پڑھنے سے پہلے تانیہ جی کے بلاگ پر عثمان کے تبصرہ http://tanya.gulistaneurdu.org/?p=1094#comment-3487 سے اس بلاگ سے متعارف ہو چکا تھا ۔ اچھا اور سچا لکھنے والوں کی قدر افزائی وقت کی ضرورت ہے ۔

    • بلاگ میں خوش آمدید۔

      افسانوں کے بارے میں آپ کی بات درست ہے، کیونکہ یہ تخیل کی بنیاد پر ہی لکھے جاتے ہیں۔ اور تخیل کی پرواز تو کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ حقیقت بھی اور فینٹیسی بھی۔

      تحریر کی پسندیدگی کے لئے شکریہ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s