ہم زندہ قوم ہیں!

ہم زندہ قوم ہیں!


بچپن سے ہی 14 اگست کا دن میرے لئے ایک الگ دن کی حیثیت رکھتا تھا۔ ایک ایسا دن جس کا مجھے عید کے دن کی طرح ہی انتظار ہوتا۔ اس دن کے آتے ہی ایک خوشی اور مسرت دل میں پیدا ہو جاتی۔ اگست کا مہینہ آتے ساتھ ہی ہم ابو کے پیچھے پڑ جاتے تھے کہ وہ جھنڈا لے کے آئیں۔ پھر جب تک گھر کی چھت پہ جھنڈا نہیں لگ جاتا تھا تب تک ابو کی جان نہیں چھوٹتی تھی۔ جھنڈیاں ہم لوگ خود لگا لیتے تھے اس کے لئے ابو کو صرف جھنڈیاں لا کر دینی ہوتی تھیں۔ 14 اگست والے دن اسکول میں خصوصی پروگرام ہوتا تھا،جہاں ہم لوگ مختلف ٹیبلو وغیرہ کیا کرتے تھے۔ 14 اگست کی شام کو بھی خوب مزا آتا تھا۔ ہم سب گھر والے باہر جاتے جہاں مختلف عمارتوں کو سجایا گیا ہوتا۔ ہم ہر سال دیکھنے کے باوجود ان بتیوں کو دیکھ کر ایسے ہی خوش ہوتے جیسے پہلی دفعہ دیکھ رہے ہوں۔ مجھے یاد نہیں کہ کبھی 14 اگست کے موقع پہ یا ویسے بھی امی ابو نے کبھی پاکستان کے بارے میں کوئی شکوہ کیا ہو۔ انہوں نے پاکستان کا تصور میرے ذہن میں ایک ٹھنڈی چھاؤں کے طور پر پیش کیا جس کے نیچے آتے ہی مسافر کی سفر کی تھکان ختم ہو جاتی ہے۔ ایک ایسی چھت جو ہمیں ہر موسم کی سختی سے بچا لیتی ہے۔ ایک ایسی ماں جس کا بیٹا دنیا جہاں گھوم کر جب اس کے پاس آئے تو وہ اس کو اپنی آغوش میں سما لے۔ یوں 14 اگست کا دن میری دداشتوں میں ہمیشہ ایک خوشگوار موقع کی طرح محفوظ رہا اور پاکستان ہمارا پیارا وطن جس سے کچھ نہ ملنے کا شکوہ کبھی میرے ذہن میں نہیں آیا۔

اب جبکہ بچپن بیت چکا ہے اور اخبارات، رسائل اور ٹی وی کی وجہ سے میری معلومات میں بہت اضافہ ہو چکا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے تجزیے، کالم نویسوں کی پر فکر باتیں مجھے میرے خوابوں کی دنیا سے باہر نکال لاتے ہیں،جہاں چاروں طرف اندھیرا ہے اور کہیں سے روشنی کی کوئی رمق نہیں نظر آتی۔ ظاہر ہے تجزیہ نگار صورتحال کو بہت باریک بینی سے دیکھ کر تجزیے کرتے ہیں۔ لیکن جو تصویر وہ پیش کرتے ہیں وہ مجھے بہت پریشان کرتی ہیں۔ 14 اگست اور اس دن کے ساتھ وابستہ میری ساری یادیں مجھے اپنے بچپن کی بےوقوفیاں لگنے لگتی ہیں۔ شاید 14 اگست کی تیاریاں اور جشن وغیرہ سب قصہ پارینہ ہیں اور آج کے پاکستان میں اس کی اہمیت نہیں رہی۔ میں انہی سوچوں میں تھی کہ میرے ذہن میں خیال آیا کہ میں کسی طرح یہ جانوں اخبار اور ٹی وی سے ہٹ کہ سرکاری تقریبات کے علاوہ کیا 14 اگست منائی جاتی ہے۔ کیا کوئی اور بھی میری طرح بےوقوف ہے۔ میں نے گزشتہ پانچ سالوں کے 14 اگست کے بارے میں تلاش شروع کی۔ مجھے اس تلاش کے دوران کیا ملا، آئیے آپ بھی دیکھئے۔

14 اگست کا موقع ہو اور لوگ جھنڈے لے کر سڑکوں پہ نہ نکلیں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ پھر جس کے پاس گاڑی ہے وہ گاڑی میں جھنڈے لے کر نکلا ہے اور جس کے پاس بائیک ہے وہ بائیک پہ۔ مقصد تو یوم آزادی منانا ہے۔

جیسے کہتے ہیں عید تو بچوں کی ہوتی ہے ویسے ہی 14 اگست کا دن بھی بچوں کے لئے ڈھیروں خوشیاں لے کر آتا ہے۔ ان تصویروں سے بچوں کی دلچسپی صاف ظاہر ہے۔ پھر چاہے جھنڈیوں سے گھر سجانا ہو، یا پھر 14 اگست کی اشیاء سب تک پہنچانے کے لئے کوئی چھوٹا سا اسٹال لگانا ہو، ہمارے بچے کسی بھی طرح پیچھے نہیں ہیں۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی اپنے ملک کی ثقافت پیش کرنے میں پیچھے نہیں ہیں۔ برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے 14 اگست کی تقریبات کے موقع پر پاکستان کی اصلی تصویر پیش کرنے کے لئے رکشے اور بس کو ہی سجا کر پیش کر دیا ہے۔ کیا ہمیں اپنے رکشوں اور بسوں پہ شرمندگی ہے؟ اور اس سوال کا جواب ہے ہرگز نہیں!۔

بازار کی رنگ برنگی سجاوٹ دیکھ کر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ پاکستان کے لئے محبت کم ہو گئی ہے۔

پاکستان میں اقلیتوں کو لے کر اکثر ہی سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں اقلیتوں کو تحفظ حاصل نہیں ہے اور اقلیتی آبادی کو یہاں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں اس تصویر نے مجھے حیرت میں ڈال دیا کہ اگر پاکستان، جیسا کہ اعتراض کرنے والے کہتے ہیں، صرف مسلمانوں کا ملک ہے تو اس مسلمانوں کے ملک کا یوم آزادی منانے میں ایک اقلیتی مذہب کے لوگ کیوں دلچسپی لے رہے ہیں۔؟

کیا جھنڈے لہرانے کا حق صرف بڑی بڑی عمارتوں میں رہنے والوں اور لمبی لمبی گاڑیوں میں رہنے والوں کو ہے۔ ؟ میں ایک آزاد ملک کا آزاد شہری ہوں اور میں بھی اپنی گاڑی پہ اپنے ملک کا جھنڈا لگا کر یوم آزادی مناؤں گا۔

آخری تصویرکچھ لوگوں کو وال چاکنگ لگے گی۔ کسی شخص نے دیوار خراب کرنے کے لئے جو جی میں آیا لکھ دیا۔ لیکن میری نظر میں یہ کسی شخص کے جذبات ہیں اس کے ملک کے لئے۔ اس ملک نے چاہے اسے کچھ دیا ہو یا نا دیا ہو، اس نے اپنے ملک کے قائم رہنے کی دعا کی ہے، اس مشکل دور میں جب سب پاکستان کے بارے میں منفی باتیں کر رہے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ دعاؤں میں بڑا اثر ہوتا ہے پھر چاہے وہ کسی دیوار پہ ہی کیوں نا لکھی گئی ہوں۔

ان تصویروں کو دیکھنے کے بعد میرا ملال ختم ہو گیا۔ پاکستان ضرور مشکل وقت کا شکار ہے ۔ لیکن صورتحال کتنی بھی مایوس کن کیوں نا ہو بحیثیت قوم ہمارا جذبہ اور افتخار برقرار ہے۔ تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ گلاس آدھا خالی نہیں ہے بلکہ آدھا بھرا ہوا بھی ہے۔ لیکن اس کے لئے بس دیکھنے والی آنکھ کی ضرورت ہے یا پھر شاید پاکستان کے بارے میں منفی باتیں اور تجزیے کرنا آج کل فیشن کا حصہ ہے۔

تصاویر بشکریہ انٹر نیٹ



Advertisements

25 comments on “ہم زندہ قوم ہیں!

  1. اچھی تحریر ہے

    ہندوستان میں تقریباّ کروڑوں کی تعداد میں مسلماں ہیں جو کہ تقریباّ روز ہی ان ہندووں کے ہاتھوں بزاہر رسوا سے ہوتے ہیں جو ہندو ان مسلمانوں کو تقسیم کی وجہ سمجھتے ہیں

    کیا ہو گر اگر یہ تمام مسلم یہاں آجائیں ۔۔ یا ہندوز ان کو پاکستان ک حوالے کر دیں ۔۔ کیا ہم نے اٍن تمام آزاد سال اپنے ملک کی اکانومی کو اتنا زبردست کر دیا ہے کہ کروڑوں انسانوں کو سمبھال ہائے ۔۔ ! ! یہاں جو ہے وہ تقریباّ نہیں سمبھل رہا

    مجھے نہیں لگتا ہم کوئی بڑی زندہ قوم ہیں

    • بہت شکریہ اور بلاگ میں خوش آمدید۔

      مشکلات اور پریشانیاں تو ہر ملک میں آ سکتی ہیں۔ یہ درست ہے کہ اس وقت پاکستان میں مسائل بہت زیادہ ہیں۔ لیکن ان سب مشکلات اور مسائل کے باوجود پاکستان قائم و دائم ہے تو اسی زندہ قوم کی بدولت ہے۔ کیونکہ پاکستانی قوم ویسی نہیں ہے جیسا میڈیا پہ دکھایا جاتا ہے۔ ایک عام پاکستانی ناصرف محب وطن ہے بلکہ ایسا محنتی شخص ہے جو سارا دن محنت کرکے اپنے گھر والوں کے لئے رزق حلال کماتا ہے، ایسا شخص اپنے گھر آئے مہمان کو اللہ کی رحمت ہی سمجھتا ہے جو اپنا رزق اپنے ساتھ لے کر آیا ہے۔ اور پاکستان میں اکثریت عام پاکستانیوں کی ہی ہے۔

  2. میری طرف سے تمام اہل وطن کو جشن آزادی کی بھرپور مبارکباد

    شعر عرض کیا ہے
    خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر نہ اُترے
    وہ فصلِ حکمران جس سےملک کو اندیشۂ زوال نہ ہو

  3. بہت اچھی تحریر ہے سمارا۔ ہمیں ایسی ہی سوچ کی ضرورت ہے۔ ورنہ تو زیادہ تر لوگ صرف تنقید کرتے ہیں اور صرف اپنے بارے میں سوچتے ہیں۔

    • بلاگ میں خوش آمدید۔ پاکستان کی موجودہ حالت پہ تمام پاکستانیوں کی آنکھیں اشک بار ہیں۔ لیکن ہم یہ مشکل وقت بھی مل کر گزار لیں گے اور سب کے لبوں پہ ہنسی لے آئیں گے۔ ان شاء اللہ۔

    • جی ہاں۔ کیونکہ اگر نہ ہوتے تو میری یہاں یہ تحریر نہ ہوتی اور اس کے بارے میں آپ کا یہ سوال نہ ہوتا۔ : )

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s