یہ رزق حلال کمانے والے

السلام علیکم

یہ تصاویر آپ میں سے کئی لوگوں نے دیکھی ہوں گی۔ ان تصاویر میں جہاں سیلاب کی مشکلات نظر آ رہی ہیں وہیں مخلوق خدا بھی نظر آ رہی ہے۔ سیلاب کی مشکلات اور پریشانیاں اپنی جگہ ہیں، لیکن مجھے سب سے زیادہ ان لوگوں کی ہمت اور جذبے نے متاثر کیا ہے جو اس مشکل وقت میں بھی محنت کرکے رزق حلال کمانے کے لئے مشقت کر رہے ہیں اور کسی امداد کی آس پہ نہیں بیٹھے ہوئے۔

کیا ان لوگوں پہ آنے والی مشکل عذاب الٰہی ہے؟ یا یہ اللہ کی طرف سے اپنے بندوں کو آزمانے کا ایک طریقہ ہے؟

ان لوگوں کے طرز عمل کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہاں یہ ہیں وہ رزق حلال کمانے والے، جن پہ میں نے اتنی مشکلات ڈالیں لیکن انہوں نے صبر و شکر اور محنت کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔

تصاویر بشکریہ بی بی سی۔



Advertisements

26 comments on “یہ رزق حلال کمانے والے

  1. بی بی!

    پاکستان کی اسی فیصد نڑی مشقت سے حلال رزق کماتی ہے۔ مسئلہ مردار کھانےوالے گدھوں سے ہیں جو پیٹ بھرنے کے باوجود مردار سے چمٹے رہتے ہیں، اور ملک کی اسی فیصد آبادی کو اپنی رعایا سمجھتے ہیں

    ضروری کے کہ اگر یہ تصاویر آپ نے کسی دوسرے ادارے سے مستعار لی ہیں تو اُن کاپی رائٹس قوانین اگر تو ان تصاویر پہ ہیں تو ان کاپی رائٹس کا احترام کریں۔ اور کم از تصاویر کی متعلقہ ملکیت رکھنے والے ادارے کا حوالہ شکریہ کے ساتھ دیں۔

    • بلاگ میں خوش آمدید۔
      آپ کی بات درست ہے، پاکستانی قوم محنتی اور رزق حلال کمانے والی ہے۔

      تاہم میرا بلاگ لکھنے کے پیچھے یہ مقصد تھا کہ آزمائشیں اللہ کے پیارے بندوں پہ آتی ہیں۔ یہ سیلاب جس کو لوگوں کی اکثریت اللہ کا عذاب قرار دے رہی ہے، رزق حلال کمانے والوں کے لئے آزمائش ہو سکتا ہے، لیکن اس کو عذاب قرار دینا میری رائے میں زیادتی ہے۔

      تصاویر کا حوالہ شامل کر دیا ہے، نشاندہی کے لئے شکریہ۔

  2. سمارا ظلم کس پر ہوتا ہے غریب پر ۔۔۔۔ ظلم کون برداشت کرتا ہے غریب ۔۔۔ پھر آزماہش غریب پر کیوں آتی ہے وہ تو پہلے ہی اتنے ظلم سہہ رہا ہے ۔۔اس پر ہی عزاب کیوں؟

    • بلاگ میں آنے کے لئے بہت شکریہ تانیہ۔

      آپ کی بات بھی درست ہے تانیہ کہ غریب بےچارہ تو پہلے ہی پسا ہوا ہوتا ہے تو مزید مشکلات بھی اس پہ آئی جائیں۔ میرا ماننا کچھ یوں ہے کہ غریب کے لئے اس کی غربت آزمائش ہے تاکہ وہ اس پہ صبر کرے اور امیر کے لئے اس کی امارت آزمائش ہے تاکہ وہ اس کا شکر کرے۔ شاید اسی لئے غریب کی غربت بڑھتی جاتی ہے اور امیر کی امارت۔۔۔ مقصود دونوں کا آزمائش ہی ہے۔

    • بلاگ میں خوش آمدید

      آپ نے درست کہا ہے اسی لئے رزق حلال کی بڑی اہمیت ہے، ورنہ پیٹ کی آگ بھرنے کو کئی آسان راستے بھی دستیاب ہیں۔

    • بالکل، اسی لئے میں نے یہاں یہ بلاگ شئیر کیا ہے۔ تاکہ یہ احساس ہو کہ ہم صرف منگتی قوم ہی نہیں ہیں بلکہ مشکل میں بھی محنت کرنا جانتے ہیں۔

  3. سمارا – ہر بات ہر واقعہ کو اپنا پسندیدہ لباس پہنا دیا جاتا ہے – زلزلہ اور سیلاب کو گناہوں کی پاداش میں عذاب الہی کہا جارہا ہے – ایک بلاگ پر تبصرہ کچھ یوں ہے – امریکہ اور بھارت ظالم ہیں اس لئے ان کی دی ہوئی امداد سے بیماریاں جنم لیں گی – ویسے آپ نے بھی اللہ تعلی کو انسانی جزبات اور احساسات سے وابستہ کر دیا ہے – اللہ تعلی فرشتوں کے سامنے ‘ فخر’ سے کہہ سکتے ہیں لکھ کر – بہت شکریہ

    • اللہ تعالیٰ کے ساتھ جذبات منسوب کرنے والی بات میں نے حضرت ایوب علیہ السلام کے قصے سے لی تھی، جن کا صبر مشہور ہے۔ اس واقعے کے بارے میں موجود تفصیلات سے یہ پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کہا گیا تھا کہ حضرت ایوب اس لئے شکر گزار اور نیک بندے ہیں کہ ان کے پاس اللہ کی نعمتیں بے شمار ہیں۔ اس لئے ان کے ایمان کی سچائی کو آزمانے کے لئے اللہ نے ان پر بیماری نازل کی تھی اور ان سے تمام نعمتیں چھین لیں تھیں۔ لیکن حضرت ایوب نے اس بیماری میں بھی اپنے ایمان کو متزلزل نہیں ہونے دیا تھا اور اس آزمائش میں سرخرو ہوئے تھے۔

      یہیں سے یہ کانسیپٹ میں نے لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں موجود اپنے نیک بندوں پی فخر کرتا ہوگا۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ یوں لکھنا غلط ہو کیونکہ بہر حال یہ انسانی سوچ ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور باتیں وہی بہتر جانتا ہے۔

  4. سمارا – تبصرہ پوسٹ کرنے کے بعد ‘ تانیہ رحمان ‘ کا تبصرہ دوبارہ پڑھا چونکہ آپنے اس واقعہ کو آزمائش کہا ہے اس پر ‘تانیہ رحمان ‘ نے جو سوالات اٹھائے ہیں وہ بہت اہم ہیں – ہوسکے تو ان سوالات کے جواب ضرور دیں یا کوئی اور تبصرہ نگار دے تاکہ میری الجھن بھی دوُر ہو – بہت شکریہ

    • میں نے تانیہ جی کی بات کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ آپ بھی اپنی رائے دیجئے کہ اس معاملے کو کس طرح دیکھا جائے۔۔۔۔عذاب کا لفظ بہت اسٹرونگ ہے اور اس کے معنی و مطالب پہ غور کیا جائے، تو روح کانپ جاتی ہے۔ "عذاب یافتہ” ہونے کا تصور ہی سخت لرزا دینے والا ہے۔ اپنے لئے اس لفظ کا استعمال کرنے سے ڈرنا چاہئے اور اللہ سے ہر پل رحم کی دعا کرنی چاہئے۔

  5. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    واقعی بہن سمیرا، میں بھی یہی بات سوچتاہوں کہ ہرظلم غریبوں پرہوتاہےاورخدانخواستہ ایساکوئي واقعہ ہوجائےتوپھریہ کہاجاتاہےکہ یہ اللہ تعالی کاعذاب ہےجبکہ اللہ تعالی توبہت ہی عدل کرنےوالےہیں۔ بات ہےاللہ تعالی انسان کومختلف طریقوں سےآزماتاہےاورجوآزمائش میں سرخروہوجائےتواس کےلئےزندگی میں آسانیاں اورآخرت میں آسانیاں پیداہوجاتیں ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب پراپنانظرکرم کردےاورہماری پاکستانی قوم کودین اسلام کی صحیح سمجھـ بوجھـ عطاء فرما۔آمین ثم آمین
    والسلام
    جاویداقبال

    • وعلیکم السلام جاوید بھائی،

      بلاگ میں خوش آمدید۔۔

      میری سوچ سے اتفاق کرنے کے لئے شکریہ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پہ اپنا رحم اور کرم کرے۔ آمین۔

  6. بہت اچھی تحریر ہے سمارا۔ ان لوگوں کی ہمت کی داد دینی چاہیے جو اتنے مشکل حالات میں بھی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    • بلاگ میں آنے کے لئے بہت شکریہ حرا۔۔۔

      واقعی یہ لوگ داد کے مستحق ہیں کہ اس مشکل گھڑی میں بھی محنت کر رہے ہیں۔

  7. سمارا- میں اس مسئلہ کو آزمائش کے بجائے قران کے حوالے سے دیکھوں گا قران نے ہمیں ہر مسئلہ پر غوروفکر کی دعوت دی ہے – خالق کائنات نے ہم میں ایسی روح پھونکی ہے جو ہر مسئلے کو حل کرسکتی ہے اسی لئے ہم تمام مخلوقات سے افضل ہیں – ھم نے کسی معملے میں کوئی منصونہ بندی نہیں کی ہے -نتیجہ ھمارے سامنے ہے -یہاں تک کہ بڑے امیرلوگوں نے سیلاب کا رخ چھوٹے غریب لوگوں کی طرف موڑ دیا – کیا اسکو ہم خالق کائنات کی طرف سے غریبوں کی آزمائش کہیں گے یا ناقص منصوبہ بندی ؟ میرا پکا یقین ھے کہ خالق کائنات نے ھر مسئلہ کا حل انسان کو عطا کردیا ھے اب انسان پر منحصرہے کہ اسکو تلاش کرے- رھی دعاؤں کی بات تو میرے خیال میں جتنی دعائیں پاکستان میں مانگی جاتی ہیں ( سعودی عرب کو چھوڑکر) اور کہیں نہیں مانگی جاتی ھونگی – نتیجہ آپ کے سامنے ہے – میرا یہ مطلب نہیں ھے کہ دعا نہیں مانگنی چاہیئے بلکہ میں اس سلسلے میں جنگ بدر میں حضور ص کی مشہور دعا کی مثال دونگا کہ جس میں میرے خیال میں حضور ص نے کب اورکیسی دعا مانگی جانی چاہئے کا پیغام دیا ھے- بہت شکریہ

    • اس مشکل کے کئی پہلو ہیں۔ دنیاوی لحاظ سے بات کریں تو ہماری نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حکمرانوں کے بارے میں تو بہت بات ہوتی ہے، ساتھ ہی عوام کے ایک گروہ کا رویہ بھی انتہائی افسوس ناک ہے جو انفرادی فائدے کو اجتماعی فائدے پر فوقیت دیتے ہیں اور اپنی جیبیں بھرتے رہے ہیں۔ ایسے لوگوں پر تنقید کی اور آئنہ دکھانے کی ضرورت ہے اور اس سے مجھے اختلاف نہیں ہے۔

      دوسری طرف اس مشکل کا جو شکار ہوئے ہیں، یقیناً ان میں بھی برے لوگ موجود ہوں گے لیکن بڑی تعداد مظلوموں کی ہے، جو اوپر بیان کئے گئے گروہ کی نااہلی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

      انہی میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو خود دار ہیں اور اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک تصویر نظر سے گزری جس میں ایک شخص اپنی بوڑھی والدہ کو کندھے پہ بٹھا کر پانی میں جا رہا تھا۔ تصویر سے یہ بات تو واضح تھی کہ اس تک ہیلی کاپٹر نہیں پہنچا، یا کوئی امدادی کشتی نہیں پہنچی تبھی وہ اپنی والدہ کو کندھے پہ بٹھا کر پانی سے گزرنے پہ مجبور ہوا۔ لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس مشکل میں وہ اپنی جان بچا کر بھاگ بھی سکتا تھا۔ ماں کا کیا تھا، وہ وہیں پڑی رہتی، لیکن اس کے اندر موجود خوف خدا نے اسے اکیلے بھاگنے کی اجازت نہین دی۔۔۔۔

      ہم ایسی باتوں کو کیوں نہیں دیکھتے، ہم کیوں خود کو ایک بے حس، عذاب یافتہ قوم قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ہمارے حکمرانوں کے ہاتھ مانگنے کے لئے پھیلے ہوئے ہیں، لیکن متاثرہ علاقوں میں لوگ اب بھی رزق حلال کمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  8. میں نے اپنا تبصرہ سیلاب کے حوالے سے کیا تھا – جہاں تک رزق حلال کا تعلق ھے – پاکستان میں ملوں کے مالکان ،کارخانے دار ، بھٹے مالکان ، فیکٹری مالکان، غرض کہ تمام مالکان نے ٹھیکیداری نظام رائج کر رکھا ھے -ٹھیکیدار محنت کش کا خون تک نچوڑ لیتا ہے – محنت بہت زیادہ لیتا ہے اور پیسے بہت ہی کم دیتا ہے – اسطرح محنت کش رزق حلال تو کیا ڈبل حلال کرتا ھے – پاکستان میں محنت کش کی محنت سے مالکان امیر سے امیرتراور امیرترین ہوتے جا رہے ہیں اور محنت کش غریب سے غریب تر اور غریب ترین ہوتا جارہا ہے اور خلیج بڑھتی چلی جارہی ہے جب یہ قدرتی حد پر پہنچے گی تو انقلاب یا کوئی اور قدرتی راستہ اختیار کرے گی – میں اپنی رو میں بہتا چلا گیا ہوں تبصرہ کافی لمبا ہوگیا ہے اجازت دیں – پڑھنے کا شکریہ

    • آپ کی بات درست ہے، یہ سب ہمارے مسائل ہیں اور ان کے حل کے لئے کوشش بھی ہمیں کرنی ہیں۔

      بلاگ پہ آنے اور تفصیلی رائے دینے کے لئے بہت شکریہ، اس سے مجھے بھی کافی باتیں جاننے میں مدد ملی ہے۔

      شیرنی کی آپ بیتی کے بعد آپ کا کوئی بلاگ نہیں آیا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s