بانو قدسیہ کی سوچ

بانو قدسیہ ایک بہت مشہور ادیب ہیں اور ان کی تحریروں نے بہت مقبولیت حاصل کی ہے- آپ نے اپنی تحریروں میں روز مرہ کی زندگی کی باتیں بہت اچھی طرح سے بیان کی ہیں-

آپ کی سوچ بہت دلچسپ ہے آج کل کے تناظر کو بانو قدسیہ کس طرح سے دیکھتی ہیں یا انکا میسیج کیا ہے یہاں میں آپ سب کے ساتھ شئر کرتی ہوں –

انکے مطابق آج کل کی عورت نے گھر داری اور ماں ہونے کی زمہ داری چھوڑ دی ہے اور اپنی زمہ داریوں سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے- اور اس سب کا زمہ دار مرد ہے جس نے عورت کو اسکے گھر، جو کہ اسکا مضبوط قلعہ ہے، سے باہر نکالنے کے لئے سازش کی ہے آدمی نے عورت کو ایک اچھے لائف سٹائل اور اونچے میعار کے خواب دکھائے ہیں اور ان کے حصول کے لئے یہ طریقہ بتایا ہے کہ وہ گھر سے باہر نکل کر محنت کرے اور اپنے لئے ایک اچھا لائف سٹائل حاصل کرے- خواتین نے اس سے یہ بات سمجھی کہ انہیں آزادی مل رہی ہے لیکن درحقیقت وہ مزدوری کے لئے مجبور ہو گیئں ہیں اور اپنے کھانے کے لئے بھی انہیں خود ہی محنت کرنی پڑ رہی ہے-

وہ اس عورت کی مثال دیتی ہیں جو اپنے گھر کے کام کرتی ہے برتن دھوتی ہے اور کھانا بناتی ہے ان کے نزدیک یہ عورت ایک ماڈرن عورت سے زیادہ خود مختار ہے اسکا واحد مسئلہ غربت ہے لیکن اسکو ایک جدید عورت کی طرح اپنے آپ کو منوانے کے لئے جدوجہد نہیں کرنی پڑ تی اسکا وجود ہی اسکی شناخت ہے – اس اہنے آپ کو منوانے کی جدوجہد کی وجہ سے عورت کی نرمی اور نزاکت ختم ہوتی جا رہی ہے جو عورت کی اصل طاقت ہے اور جس کو وہ اپنی سب سے بڑی کمزوری سمجھتی ہے-

آپ لوگوں کا اس بارے میں کیا خیال ہے، بانو قدسیہ کس حد تک صحیح ہیں اور کیا ان کی سوچ آج کل کے حالات کے مطابق درست ہے یا نہیں یا مزید اگر آپ ان باتوں کی وضاحت کر سکیں اور روشنی ڈال سکیں تاکہ ہم اس بارے میں اپنی سوچ کو واضح کر سکیں-

شکریہ

Advertisements

12 comments on “بانو قدسیہ کی سوچ

  1. صنف نازک سات پردوں کے پیچھے ہی اچھی لگتی ہے۔ بانو قدسیہ نے ایک اہم ترین سماجی مسئلے کو اٹھایا ہے، کچھ دوست یہاں آکر مذہب کی بات کرتے ہیں وہ اپنی جگہ لیکن جس خوبصورتی سے قدسیہ صاحبہ نے سماج کو بنیاد بنایا ہے، نتیجتا اختلاف کی گنجائش نہیں۔

  2. عورت زمانہ قدیم سے مرد کے شانہ بشانہ کام کرنے مین مصروف ہے۔ دور کیوں جائیں۔۔۔۔۔ پنجاب کے دیہاتوں میں عورتیں کھیتوں میں کام کرتی ، اپلے تھاپتی نظر آتی تھیں۔ افریقی قبائلی معاشروں کی عورتیں بھی مردوں کے ساتھ کام میں ہاتھ بٹاتی ہیں۔
    ماڈرن وغیرہ کا چکر ہی کوئی نہیں۔۔۔۔۔

  3. بانو قُدسيہ صاحب نے درست لکھا ہے ۔ ان سے بہت پہلے اکبر الٰہ آبادی بھی بہت کچھ کہہ گئے ۔ پھر مودودی صاحب نے بھی اس پر روشني ڈالی

    عصرِ حاضر کا آزادیءِ نسواں کا نعرہ دراصل عورتوں کے ساتھ ايک بہت بڑا دھوکہ ہے ۔ يہ نعرہ يورپ کے صنعتی انقلاب ميں عورت کوماں اور بيوی کی پاکيزہ زندگی سے نکال کر ايک مشينی مزدور بنانے کی سازش تھي جو کہ يورپ کے سيٹھوں نے کی تھی ۔ اس کے نتيجہ ميں عورت اپنی عصمت اور حُرمت کو کھو کر ايک مشينی پرزہ اور مرد کے ہاتھ ميں کھلونا بن گئی

    بلاشُبہ ازل سے عورت مرد ايک گاڑی کے دو پہيّوں کی طرح ايک دوسرے کے معاون رہے مگر کچھ کام صرف مردو کے اور کچھ صرف عورتوں کے رہے ۔ يہ ايک تفصيل طلب موضوع ہے

  4. آپ نے اظہار خیال کی دعوت دی ہے تو میرا خیال اسطرح ہے کہ خالق کائنات نے کائناتی اسٹیج پر ہر ایک کو اسکا کردار سونپ دیا ہے اس کردار کی مناسبت سے جملہ لوازمات بھی اسے فراہم کردئے ہیں ساتھ ہی اوور ایکٹنگ پر سزا کا قانون بھی نافذ کردیا ہے -میرے خیال میں یورپ کی عورت اپنی کردار کی مناسبت سے اوور ایکٹنگ پر ہے – جس کی سزا کا نقشہ آئے دن سروے رپورٹوں میں ظاہر ہوتا رہتا ہے – بہت شکریہ

  5. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    واقعی بانوقدسیہ صاحبہ نےبہت اچھی بات کی ہےلیکن اس پرعورتوں کوبھی توغورکرناچاہیےدراصل وہ ایسےگھرسےباہرنکلی ہیں کہ اب گھرانکودوزخ نظرآتاہےجبکہ صبح کابھولااگرشام کوگھرآئےجائےتواسےبھولانہیں کہتے۔

    والسلام
    جاویداقبال

  6. بانو آپا کی تحایر پڑھنے میں کافی مزا آتا ہے۔
    انسان کی کچھ فطری جبلتیں ہیں جو اسکی بناوٹ اور قد و کاٹ اور جنس کے حوالے سے ہیں، عورت قدرتی طور پر گھر میں رہنا چاہتی ہے اور مرد قدرتی طور زیادہ دیر گھر میں نہیں رہ سکتا۔ یہ ایک قدرتی اور فطری عمل لوگ اسکے خلاف بھی کرتے ہیں جو کہ فطرت سے بغاوت ہے۔ جہاں بھی فطرت سے بغاوت آئے گی انسان انسان نہیں رہے گا۔ معاشرے اور اسکے اجسام میں تباہی پیدا ہوجائے گی۔

  7. عورت اور مرد دنیا کے ہر ادیب کا موضوع رہے ہیں۔ کیونکہ یہ اتفاق نہیں ہے کہ خدا نے اس کائینات کو چلانے لئے انسانوں کو فو جنسوں میں توڑ ڈالا۔ یہ عورت منٹو کے ءہاں بھی ملتی ہے عصمت چغتائ اور قراۃالعین حیدر کے یہاں بھی۔ یہ عورت ہمارے شاعروں کا موضوع بھی رہی جہاں وہ فیض اور اختر شیارنء کء شاعری میں ادائے محبوبیت دکھاتی ہے وہاں ءیء عورت نظیر اکبا آبادی کی شاعری میں بنجارن اور بھنگن کے کردار میں بھی نظر آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بانو قدسیہ کا پیش کیا ہوا تصور عورت کیوں کچھ دلوں کو بھااتا ہوا لگ رہا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ کہ عثمان کی بات کو سامنے رکھیں زمانہ ء قدیم سے زندگی کی مشقت میں عورت مرد کے ہمراہ رہی ہے۔ اس وقت بھی جب انسان غاروں میں رہتا تھا۔
    ماڈرن یونے کامطلب کیا تعلیم حاصل کرنا اور ملازمت کرنا ہے۔ یہی عورت کھیتی باڑی، مویشی سنبھالنا سبھی کرتی رہی۔ زندگی کے چلن بدلے اور انسان زراعت سے صنعت کاری کی طرف آگیا۔ تو وہی عورت اب کسی کام کی نہ رہی بلکہ وہ اگر کوئ کام کرے تو اسے عورت ہونے کی خامی سمجھا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہو گیا۔
    عورت کا مویشی چرانا درست ہے، فصل کاٹنا، چنائ کروانا، چھان پھٹک، چکی پیسنا سب درست ہے مگر اسکا کمپہوٹر چلانا، اشیاء کا ایجاد کرنا، تحقیق کرنا درست نہیں رہا۔
    ہر ادیب پہ اپنے زمانے کے نظریات اور حالات کا اثر ہوتا ہے۔ اور اگر آپ سب خواتین حرات ذرا یونہی خیال کریں تو غور کر لیں کہ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی شہرت کا زمانہ کون سا ہے۔ اور اس وقت پاکستان کے سءاسء حالات کیا تھے۔ نتیجہ آپکے سامنے ہوگا کہ انہوں نے ایسا کیوں فرمایا۔
    خود انکی اپنی زندگی اس قول کے مخالف رہی ہے۔ خدا جانے کیوں؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s