اسٹیفن ہاکنگ کے ساتھ وقت میں سفر—پہلا حصہ

اسٹیفن ہاکنگ کے ساتھ وقت میں سفر

(Time travel with Stephen Hawking)

ترجمہ و تلخیص: سمارا

اسٹیفن ہاکنگ ایک مشہور طبیعات دان ہیں۔ وہ آئن سٹائن کے بعد دنیا کے ذہین ترین شخص مانے جاتے ہیں۔ فزکس کے شعبے میں آپ کا کام قابل قدر ہے۔ حال ہی میں ڈسکوری چینل پہ وقت کے سفر یعنی ٹائم ٹریول کے بارے میں آپ کا پروگرام پیش کیا گیا ہے۔ جس میں ہاکنگ نے ماضی یا مستقبل میں سفر کرنے کی انسانی صلاحیت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔ دلچسپی کے لئے اس پروگرام کی تفصیلات انہی کی زبانی یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔

اسٹیفن ہاکنگ


ہیلو!۔ میرا نام اسٹیفن ہاکنگ ہے، ماہر طبیعات، فلکیات، اور ایک خواب دیکھنے والا۔ اگرچہ اپنی بیماری کی وجہ سے میں حرکت کرنے سے قاصر ہوں اور بولنے کے لئے مجھے کمپیوٹر کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے، لیکن میں اپنی سوچوں میں آزاد ہوں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا وقت میں سفر (ٹائم ٹریول) ممکن ہے؟ کیا ہم ماضی میں جانے کے لئے کوئی دریچہ کھول سکتے ہیں؟ یا مستقبل میں جانے کے لئے کوئی طریقہ ڈھونڈ سکتے ہیں؟۔

ایک زمانے میں وقت کے سفر کو محض ایک خیال سمجھا جاتا تھا۔ میں اس بارے میں بات کرنے

سے اس لئے گریزاں تھا کہ کہیں مجھے کھسکا ہوا نہ سمجھ لیا جائے۔ لیکن اب میں اتنا محتاط نہیں رہا بلکہ اگر میرے پاس ٹائم مشین ہوتی تو میں مارلن منرو سے ملنے جاتا یا پھر گلیلیو سے یا پھر میں کائنات کے اختتام کی طرف سفر کرتا تاکہ جان سکوں کہ اس کائنات کا انجام کیا ہوگا۔

لیکن وقت میں یہ سفر کیسے ممکن ہوگا؟۔

اس سوال کے جواب کے لئے ہمیں وقت کو ماہر طبیعات کی طرح دیکھنا ہوگا یعنی چوتھی سمت (فورتھ ڈائمینشن) کے طور پہ۔ یہ سمجھنا مشکل نہیں ۔ اسکول جانے والے بچے بھی اس بات سے واقف ہیں کہ تمام مادی اجسام کی تین سمتیں ہوتی ہیں یعنی لمبائی، چوڑائی اور اونچائی۔

لیکن ان تین سمتوں کے علاوہ ایک چوتھی سمت بھی ہوتی ہے جس کو “وقت” کہتے ہیں۔ ایک انسانی زندگی اسی نوے سال ہو سکتی ہے، Stonehenge ماضی میں کئی ہزار سال سے موجود ہیں، اور نظام شمسی مستقبل میں کئی ارب سال تک باقی رہے گا۔ یعنی ہر چیز کی لمبائی، چوڑائی اور اونچائی کے علاوہ وقت یعنی چوتھی سمت میں بھی لمبائی ہوتی ہے۔ اور وقت میں سفر کا مطلب ہے کہ اس چوتھی سمت میں سفر۔

سمتوں کے تصور کو سمجھنے کے لئے روزمرہ کے سفر کی ایک مثال لیتے ہیں۔ ایک کار اگر ایک ہی سمت میں چلی جا رہی ہو تو اس کا سفر یک سمتی ہے یعنی لمبائی میں، اگر وہ دائیں یا بائیں طرف مڑ جاتی ہے تو اس کے سفر میں دوسری سمت بھی شامل ہو جاتی ہے، یعنی لمبائی کے ساتھ چوڑائی بھی۔ کسی پرپیچ پہاڑی راستے پہ اوپر یا نیچے سفر کرنے سے اس سفر میں تیسری سمت یعنی اونچائی بھی شامل ہو جائے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ چوتھی سمت یعنی وقت میں سفر کرنے کا راستہ کیسے تلاش کیا جائے۔

اس سوال کے جواب سے پہلے آئیے سائنس فکشن فلموں میں دکھائی جانے والی صورتحال پہ غور کرتے ہیں۔ ان فلموں میں عموماً ایک بڑی مشین دکھائی جاتی ہے جو چوتھی سمت یعنی وقت میں راستہ یا سرنگ بناتی ہیں۔فلم کا ہیرو بالفاظ دیگر وقت کا مسافر، ایک بہادر شخص ہوتا ہے۔ جو انجانے نتائج کے لئے تیار ہوتا ہے۔ وہ اس مشین کے ذریعے سرنگ میں داخل ہوتا ہے اور وقت میں نہ جانے کہاں جا نکلتا ہے۔ اکثر فلموں کی بنیاد اسی تصور پہ ہے۔ لیکن حقیقت اس سے بہت مختلف ہو سکتی ہے۔

طبیعات دان بھی اس طرح کی سرنگوں کے بارے میں غور کرتے ہیں۔ لیکن ہم اس بارے میں ایک دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ہم یہ غور کرتے ہیں کہ آیا ماضی یا مستقبل میں لے جانے والی سرنگوں کا وجود طبیعات کے قوانین کے مطابق ممکن ہے یا نہیں۔ شاید ایسا ممکن ہے۔ ان سرنگوں کو ہم نے وورم ہولز کا نام دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وورم ہولز ہمارے اردگرد ہرطرف موجود ہیں لیکن یہ اتنے چھوٹے ہیں کہ دیکھے نہیں جا سکتے۔ وورم ہولز کا تصور ایک مشکل تصور ہے لیکن اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ۔ اگر آپ کسی بھی چیز کو غور سے دیکھیں تو اس میں سوراخ نظر آئیں گے اور سطح غیر ہموار محسوس ہوگی۔ یہ طبیعات کا بنیادی قانون ہے کہ کوئی بھی چیز مکمل طور پر ہموار یا ٹھوس نہیں ہوتی۔ یہی قانون وقت پہ بھی لاگو ہوتا ہے۔ سطح کی غیر ہمواری اور خالی جگہوں کا پہلی تین سمتوں (لمبائی، چوڑائی اور اونچائی) میں اندازہ کرنا آسان ہے لیکن یقین کریں کہ یہ قانون چوتھی سمت یعنی وقت کے لئے بھی درست ہے۔ وقت میں بھی چھوٹی چھوٹی غیر ہمواریاں، جھریاں، اور خالی جگہیں ہیں۔ یہ سوراخ بہت چھوٹے ہوتے ہیں، ایٹم سے بھی چھوٹے۔ ان کی تلاش میں ہم ایسی جگہ پہنچ جاتے ہیں جس کو کوانٹم دھواں (فوگ) کہتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں وورم ہولز موجود ہیں۔ چھوٹی چھوٹی سرنگیں جو وقت اور خلا میں سفر ممکن بناتی ہیں۔ اس کوانٹم دنیا میں وورم ہولز مسلسل بنتے اور ختم ہوتے رہتے ہیں۔ اور یہی اصل میں دو مختلف جگہوں اور دو مختلف اوقات کو آپ میں ملاتے ہیں۔


وورم ہولز کی تصوراتی تصویر

بدقسمتی سے حقیقی زندگی کی یہ وورم ہولز ایک سینٹی میٹر کے ارب۔ کھرب حصے کا کھرب واں سینٹی میٹر لمبے ہوتے ہیں یعنی بہت ہی زیادہ چھوٹے۔ کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ شاید کبھی کسی وورم ہول کو اتنا بڑا بنایا جا سکے کہ ان سے انسان یا کوئی خلائی جہاز گزر سکے۔ یا پھر اگر مناسب توانائی اور ضروری ٹیکنالوجی موجود ہو، تو شاید خلا میں ایک بڑا وورم ہول بنایا جا سکے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر ایسا ممکن ہو تو یہ بہت شاندار ہوگا۔ اس وورم ہول کا ایک کنارہ زمین کے نزدیک ہو سکتا ہے اور دوسرا دور، بہت دور کسی دور دراز سیارے کے پاس۔

وورم ہول کے دونوں سرے اگر ایک ہی جگہ ہوں اور ان میں فرق صرف وقت کا ہو، تو وورم ہول کے ایک سرے سے داخل ہونے کے بعد جہاز جب دوسری طرف زمین پہ نکلے گا تو وہ ماضی میں ہوگا۔ ہو سکتا ہے وہ ڈائنوسارز کے زمانے میں جا نکلے اور وہاں موجود ڈائینو سارز اس جہاز کو اترتے ہوئے دیکھیں۔

یہ جاننے کے لئے کہ کیا وورم ہول کے زریعے وقت میں سفر کبھی بھی ممکن ہو سکے گا، آئیے ایک چھوٹا سا تجربہ کرتے ہیں۔ اس کے لئے میں مدعو کر رہا ہوں مستقبل کے اس ٹائم ٹریولر کو، جس کو میری دعوت ملے اور اس کے پاس وقت میں سفر کی صلاحیت ہو تو وہ یہاں ماضی میں مجھ سے ملنے آئے۔ اس دعوت نامے میں وقت اور مقام کی نشاندہی کی گئی ہے، جس کو استعمال کرکے مجھ تک پہنچا جا سکتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میرا دعوت نامہ اگلے کئی ہزار سالوں تک موجود رہے گا۔ شاید کسی دن مستقبل کا کوئی شخص اس دعوت نامے کو دیکھ کر اپنی وورم ہول ٹائم مشین کے زریعے سے میری دعوت میں آئے، اور یہ ثابت کر دے کہ ایک دن وقت میں سفر کرنا ممکن ہو گا۔


ہاکنگ ماضی اور مستقبل کے مہمانوں کے ساتھ

میری دعوت کا وقت آ گیا ہے۔ میرے وقت کے مسافر مہمانوں کو دعوت نامہ مل گیا ہوگا اور وہ آتے ہی ہوں گے۔ میں منتظر ہوں کہ دیکھوں کون کون آتا ہے۔ پانچ، چار، تین، دو، ایک۔۔۔۔۔۔ لیکن کوئی نہیں آیا۔ یعنی تجربہ کامیاب نہیں ہوا۔

کیوں۔؟

دیگر بہت ساری وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک مشہور وجہ اس کا بعید العقل (پیراڈوکس) ہونا ہے۔ بعید العقل باتوں کے بارے میں بات کرنا دلچسپ کام ہے۔ میں آپ کو ایک پاگل سائنسدان کی بعید العقل بات بتاتا ہوں۔


فلموں میں جس طرح سائنسدانوں کو پاگل دکھایا جاتا ہے وہ مجھے پسند نہیں۔ لیکن جو بات میں آپ کو بتا رہا ہوں وہاں یہ درست ہے۔ میرا سائنسدان ایک بعید العقل بات یعنی پیراڈوکس پیدا کرنا چاہتا ہے، چاہے اس کے لئے اس کو اپنی جان سے بھی ہاتھ کیوں نا دھونے پڑیں۔ فرض کریں کہ کسی طرح وہ ایک وورم ہول بنا لیتا ہے۔ اس وورم ہول کی خصوصیت ہے کہ یہ ماضی میں صرف ایک منٹ پیچھے لے کے جاتا ہے۔ سائنسدان اس وورم ہول کے اندر سے اپنے آپ کو بھی دیکھ سکتا ہے یعنی ایک منٹ پہلے کا منظر۔ لیکن ایسے میں سائنسدان اگر وورم ہول استعمال کرتے ہوئے خود کو گولی مار دے؟۔ یعنی اس نے ماضی کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب وہ ماضی میں مر چکا تھا تو کس نے وورم ہولز سے دیکھتے ہوئے اس پر گولی چلائی۔ یہ ایک بعید العقل بات یعنی پیراڈوکس ہے۔ اس کی کوئی تک نہیں بنتی۔ یہ معاملہ سائنسدانوں اور تاریخ دانوں کے لئے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح ہے، کیونکہ اس طرح کوئی بھی ماضی میں جا کر تاریخ کو اپنی پسند سے تبدیل کر سکے گا اور ہم ایک بےسروپا قسم کی دائرے میں گھومتے رہ جائیں گے، جس کا کوئی سرا موجود نہیں ہوگا۔

اس طرح ٹائم مشین اس بنیادی اصول کو توڑے گی جو پوری کائنات پہ لاگو ہے،ہر عمل کا ایک رد عمل ہے اور اس کا الٹ کبھی نہیں ہوسکتا۔ اگر ایسے ہونے لگے تو پوری کائنات کو گڈمڈ ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ تاریخ آئے روز تبدیل ہونے لگے گی جو کہ ممکن نہیں ہے۔ اس لئے میرا خیال ہے کہ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوگا جو ان باتوں کو ہونے سے روک دے۔ کچھ ایسا کہ ہمارا سائنسدان خود کو گولی نہ مار سکے۔

میرا یہ خیال ہے کہ اس طرح کے وورم ہولز نہیں ہو سکتے اور اس کی وجہ فیڈ بیک ہے۔ اگر آپ کبھی کسی میوزک پروگرام میں گئے ہوں تو شاید آپ میوزک کے ساتھ ایک چیختی ہوئی آواز (اسکریچنگ) بھی سن سکتے ہوں۔ یہ فیڈ بیک ہے۔ آواز مائک اور تاروں سے ہوتی ہوئی ایمپلی فائر میں جاتی ہے، جہاں یہ اونچی ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد یہ لاؤڈ اسپیکر سے باہر جاتی ہے۔ لیکن اگر آواز اسپیکر سے مائک میں واپس جانے لگے تو یہ ایک سائکل سا بن جائے گا اور آواز ہر سائکل میں اونچی سے اونچی ہوتی چلی جائے گی۔ اگر اس فیڈ بیک کو کنٹرول نہ کیا جائے تو یہ ساؤنڈ سسٹم کو تباہ کر سکتی ہے۔

وورم ہولز کے ساتھ بھی ایسا ہو گا لیکن وہاں آواز کی بجائے تابکاری کا فیڈ بیک ہوگا۔ جیسے ہی ایک وورم ہول بڑا ہوگا، قدرتی تابکار شعاعیں (نیچرل ریڈی ایشن) اس میں داخل ہونا شروع ہو جائیں گی۔ فرض کریں کہ ایک وورم ہول ہے جس میں قدرتی ریڈی ایشنز داخل ہوتی ہیں اور واپس آتی ہیں۔ اور اس طرح آنے جانے کا ایک حلقہ بنا دیتی ہیں۔ تابکاری کا یہ فیڈ بیک اتنا زیادہ ہو جائے گا کہ وہ وورم ہول کو تباہ کر دے گا۔ اس لئے اگرچہ چھوٹے چھوٹے وورم ہولز موجود ہیں، شاید کبھی ایسا ممکن بھی ہو سکے کہ ان کو بڑا کیا جا سکے، لیکن وہ اتنا عرصہ نہیں بچ پائیں گے کہ ان کو ٹائم مشین کے طور پہ استعمال کیا جا سکے۔ اور یہی وجہ ہے کہ میری دعوت میں کوئی نہیں آیا۔

ماضی میں سفر، چاہے وہ وورم ہول کے زریعے ہو یا کسی اور طریقے سے، ناممکن ہے۔ ورنہ بعید العقل باتیں وجود میں آئیں گی۔ اس لئے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ماضی میں سفر کبھی نہیں کیا جا سکے گا۔ یہ ڈائنو سارز کے شکاریوں کے لئے ایک بری خبر ہے اور تاریخ دانوں کے لئے ایک تسلی بخش خبر۔

جاری ہے۔

Advertisements

9 comments on “اسٹیفن ہاکنگ کے ساتھ وقت میں سفر—پہلا حصہ

  1. اوہ ہو۔۔۔ اسکا مطلب ہے کہ میرا خواب سچا نہیں ہو سکے گا۔۔۔ بکرا منڈے میں ہمیشہ بکرے بیل اور اونٹ ہی بکیں گے۔۔۔ ڈائنوسار کبھی نہیں آئیں گے۔۔۔

  2. اچھی کوشس ہے خاص کر ترجمہ
    ميں نے 1960ء کی دہائی ميں ايک فلم ديکھی تھی "ٹائيم مشين” اور ناول بھی پڑھا تھا ناول ايچ جی ويلز نے لکھا تھا اور فلم کا پلے ڈيوڈ ڈنکن نے لکھا تھا ۔ اچھی فلم تھی ۔ البتہ اس کا ممکن ہونا صرف تخيل رہے گا کيونکہ يہ پيدا کرنے والے کی ڈومين ہے جو کبھی کبھی کسی خاص نبی عليہ السلام کو اللہ نے کچھ وقت کيلئے بخشی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s