اسٹیفن ہاکنگ کے ساتھ وقت میں سفر—آخری حصہ

 

لیکن وقت میں سفر کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ میں وقت میں سفر کرنے پہ یقین رکھتا ہوں۔وقت ایک بہتے ہوا دریا کی طرح ہے۔ ہم اس کے دھارے میں بہتے جاتے ہیں۔ یہ ایک اور طرح سے بھی بہتے ہوئے دریا سے مماثل ہے کہ یہ مختلف مقامات پہ مختلف رفتار سے گزرتا ہے۔ رفتار کا یہ فرق دراصل مسقتبل میں سفر کی کنجی ہے۔ یہ تصور سب سے پہلے البرٹ آئن سٹائن نے تقریباً ایک سو سال پہلے پیش کیا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ کچھ جگہیں ہونی چاہئیں جہاں وقت کی رفتار آہستہ ہو جائے اور کچھ جگہیں ایسی ہوں جہاں وقت تیز رفتار میں چلے۔ اس کا تصور بالکل ٹھیک تھا۔ اور اس کا ثبوت ہمارے بالکل اوپر ہے یعنی خلا میں۔

سیٹلائٹس کے ایک نیٹ ورک ( جی پی ایس یعنی گلوبل پوزیشنگ سسٹم) جو زمین کے گرد اپنے مدار میں چکر لگا رہے ہیں،کے مطابق وقت خلا میں زمین کی نسبت تیزی سے گزرتا ہے۔ سیٹلائٹ کے اندرموجود گھڑیاں ہر روز ایک سیکنڈ کا تیسرا کھربواں حصہ حاصل کر لیتی ہیں۔

یہ مسئلہ گھڑیوں کے ساتھ نہیں ہے بلکہ وقت کے ساتھ ہے۔ خلا میں گھڑیاں تیز چلتی ہیں کیونکہ وہاں وقت تیز رفتاری سے گزرتا ہے۔ جبکہ زمین کے نزدیک، زمین کی کمیت کی وجہ سے وقت کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ آئن اسٹائن نے محسوس کیا کہ مادہ وقت کو کھینچتا ہے اور کسی دریا کے سست روی سے حرکت کرتے ہوئے حصے کی طرح اس کی رفتار کم کرتا ہے۔ کسی جسم میں مادے کی مقدار جتنی زیادہ ہو گی اتنا ہی یہ وقت کی رفتار کم کرنے کا باعث بنے گا۔ اور یہاں سے مستقبل میں سفر کرنے کا دروازہ کھلتا ہے۔

ہماری کہکشاں کے بالکل درمیان میں کہکشاں کا سب سے بھاری جسم موجود ہے۔ یہ ہم سے 26000 نوری سال کے فاصلے پہ واقع ایک جسیم بلیک ہول ہے۔ اس میں 40 لاکھ سورج کے برابر مادہ موجود ہے، جو بلیک ہول کے تجازب (گریویٹی) کے باعث سکڑ کر ایک واحد مقام پہ اکھٹا ہو گیا ہے۔ بلیک ہول کے جتنا نزدیک جائیں گے تجاذب بڑھتا جائے گا۔ بلیک ہول کے بالکل قریب یہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ روشنی بھی فرار نہیں ہو سکتی۔ اس طرح کے بلیک ہول کا وقت کی رفتار پہ گہرا اثر ہوتا ہے اور یہ اس کو کم کر دیتا ہے۔ یہ اثر اسے ایک قدرتی ٹائم مشین بنا دیتا ہے۔

میں فرض کرنا چاہتا ہوں کہ کوئی خلائی جہاز کسی دن اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ اگر کوئی اسپیس ایجنسی اس خلائی جہاز کو زمین سے یا خلا میں کسی جگہ سے کنٹرول کر رہی ہو تو وہ دیکھیں گے کہ بلیک ہول کے گرد جہاز ایک چکر 16 منٹ میں مکمل کرے گا۔ لیکن جہاز پہ سوار لوگوں کے لئے وقت کی رفتار کم ہو گئی ہوگی کیونکہ بلیک ہول کے نزدیک تجاذب زمین کے تجاذب کے مقابلے میں بے حد زیادہ ہوگا۔ اس تجاذب کے نتیجے میں وقت کی رفتار آدھی رہ جائے گی۔ نتیجتاً جہاز اور اس کے مسافر وقت میں سفر کر رہے ہونگے۔ فرض کریں کہ خلائی جہاز بلیک ہول کے گرد 5 سال تک چکر لگاتا ہے۔ لیکن زمین پہ دس سال گزر چکے ہوں گے۔

اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ ایک بلیک ہول ایک قدرتی ٹائم مشین ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایسا سفر ممکن نہیں ہے۔ اس ٹائم مشین کو وورم ہولز کے مقابلے میں یہ فائدہ حاصل ہے کہ اس میں بعید العقل باتیں یعنی پیراڈوکس نہیں ہیں۔ اور فیڈ بیک کی وجہ سے یہ تباہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ طریقہ بہت خطرناک ہے اور اس کے لئے بہت دور جانا پڑے گا۔ نیز یہ مستقبل میں بہت زیادہ دور بھی نہیں لے جاتا۔خوش قسمتی سے وقت میں سفر کا ایک اور طریقہ بھی ہے۔ اور ٹائم مشین بنانے کے لئے یہ ہماری آخری امید ہے۔

اس کے لئے آپ کو بہت تیز رفتار سے سفر کرنا ہوگا۔ کائنات میں تیز ترین رفتار روشنی کی ہے ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ۔ اس سے تیز رفتار ممکن نہیں ہے۔ آپ چاہے یقین کریں یا نہ کریں لیکن روشنی کی رفتار سے نزدیک ترین رفتار سے سفر کرنے سے آپ مستقبل میں جا سکتے ہیں۔

اس کے لئے سائنس فکشن کا ایک سپر فاسٹ ٹرین کا ایسا ریلوے ٹریک فرض کریں جو پوری زمین کے گرد گھومتا ہو۔ کیونکہ چاہے کتنی بھی توانائی استعمال کر لی جائے روشنی کی رفتار کو حاصل کرنا ناممکن ہے۔ اس لئے ہم تصور کرتے ہیں کہ یہ ٹرین روشنی کی رفتار کے قریب ترین رفتار سے سفر کر رہی ہے۔ اس ٹرین میں سوار مسافروں کے پاس مستقبل کا یک سمتی ٹکٹ ہے یعنی یہ مستقبل میں جا تو سکتے ہیں لیکن واپس نہیں آ سکتے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ ٹرین کس طرح ایک ٹائم مشین بنتی ہے۔ روشنی کی رفتار حاصل کرنے کے لئے ٹرین زمین کے گرد بہت تیزی سے چکر لگانا شروع کرے گی۔ یعنی ایک سیکنڈ میں سات دفعہ۔ لیکن ٹرین کا انجن کتنا ہی طاقتور کیوں نا ہو اس کی رفتار روشنی کی رفتار سے تیز نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ فزکس کے اصول کے خلاف ہے۔ یہ تصور کریں کہ اس کی رفتار روشنی کی رفتار کے بالکل قریب ہے۔ اب ٹرین میں سوار مسافروں کے لئے وقت آہستہ ہوتا جائے گا بالکل اسی طرح جس طرح بلیک ہول کے نزدیک جانے پہ ہوا تھا۔ اب ٹرین پہ موجود ہر چیز آہستہ رفتار سے حرکت کرے گی۔ ایسا حد رفتار کو بچانے کے لئے ہوگا۔ اس کو سمجھنے کے لئے فرض کریں کہ ایک بچہ چلتی ٹرین میں آگے کی سمت میں دوڑنا شروع کرتا ہے۔ اس کے دوڑنے کی رفتار ٹرین کی رفتار میں شامل ہو جائے گی۔ لیکن کیا اس طرح حادثاتی طور پہ حاصل رفتار روشنی کی رفتار سے زیادہ ہو جائے گی؟۔ اس کا جواب ہے نہیں۔ قدرت کے قوانین اس اصول کہ کائنات کی تیز ترین رفتار روشنی کی ہے، کو بچانے کے لئے وقت کی رفتار کو آہستہ کر دیں گے۔ اب وہ بچہ حد رفتار نہیں توڑ سکے گا۔ اس قسم کی صورتحال میں وقت کی رفتار ہمیشہ اتنی کم ہو جائے گی کہ طبیعات کا یہ اصول برقرار رہ سکے۔ اس طرح مستقبل میں لمبے سفر کرنا ممکن ہے۔

فرض کریں کہ ٹرین یکم جنوری 2050 کو اپنے اسٹیشن سے سفر کا آغاز کرتی ہے اور زمین کے گرد ایک سو سال تک مستقل چکر لگاتی رہتی ہے اور بالآخر یکم جنوری 2150 کو اپنے اسٹیشن پہ آ کر دوبارہ رکتی ہے۔ لیکن ٹرین میں سوار مسافروں کے لئے صرف ایک ہفتہ گزرا ہوگا کیونکہ ٹرین کے اندر وقت کی رفتار اتنی کم ہو گئی ہو گی۔ جب وہ باہر آئیں گے تو ایک نئی دنیا ان کی منتظر ہوگی۔ صرف ایک ہفتے میں انہوں نے مستقبل میں 100 سالوں کا سفر طے کر لیا ہوگا۔ یہ ظاہر سی بات ہے کہ ایسی ٹرین بنانا جو روشنی کی رفتار سے سفر کر سکے ایک ناممکن سی بات ہے لیکن ہم نے ٹرین سے ملتی جلتی ایک چیز بنا لی ہے۔ جنیوا، سرن، سوئٹزرلینڈ میں دنیا کا سب سے بڑا پارٹیکل ایکسیلیریٹر۔

پارٹیکل ایکسلریٹر کا اندرونی منظر

 

زمین کی گہرائی میں، ایک 16 میل لمبی گول سرنگ میں چھوٹے ترین ذرات کا ایک دھارا (اسٹریم) موجود ہے۔ جب ان میں توانائی بھیجی جاتی ہے تو ایک سیکنڈ میں ان کی رفتار صفر سے بڑھ کر 60000 میل فی گھنٹہ ہو جاتی ہے۔ توانائی بڑھانے سے ان ذرات کی رفتار بڑھتی چلی جاتی ہے حتیٰ کہ وہ سرنگ میں ایک سیکنڈ میں 11000 مرتبہ چکر لگانے لگتے ہیں جو روشنی کی رفتار کے قریب ترین ہے۔ لیکن ٹرین کی طرح وہ روشنی کی رفتار تک کبھی نہیں پہنچ سکتے۔ لیکن وہ رفتار کے 99۔99% نزدیک ہوتے ہیں اور جب ایسا ہوتا ہے تو وہ بھی وقت میں سفر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم یہ اس لئے جانتے ہیں کہ کچھ قلیل المعیاد زرات جن کو پائی میسون کہا جاتا ہے وہ ایک سیکنڈ کے 25 کھرب ویں حصے میں ختم ہو جاتے ہیں۔ جب ان کی رفتار روشنی کی رفتار کے نزدیک ترین ہوتی ہے وہ 30 گنا زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ یہ ذرات حقیقی طور پہ وقت کے مسافر ہیں۔

یعنی اگر ہم مستقبل میں سفر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف تیز رفتاری سے سفر کرنا ہوگا۔ بہت تیز رفتار سے۔ میرے خیال میں اگر اس رفتار سے چلنے کی کوئی صورت ممکن ہو سکتی ہے تو وہ صرف خلا میں ہو سکتی ہے۔ اپالو10 اب تک کا بنایا جانے والا سب سے تیز رفتار خلائی جہاز ہے۔ اس کی رفتار 25،000 میل فی گھنٹہ ہے۔ وقت میں سفر کے لئے اس سے 2000 گنا زیادہ رفتار چاہئے ہوگی۔ اس کے لئے بہت بڑا جہاز چاہئے ہوگا۔ جس کے ساتھ اتنا زیادہ ایندھن ہو جو کہ اس کی رفتار کو روشنی کی رفتار تک جانے کے لئے کافی ہو۔ اس طرح کے جہاز کو سفر کے آغاز کے بعد روشنی کی رفتار حاصل کرنے میں 6 مکمل سال لگیں گے۔ اپنے سفر کے دو سال بعد اس کی رفتار روشنی کی رفتار کے نصف کے برابر ہو چکی ہوگی۔ اور تب تک یہ ہمارے نظام شمسی سے بہت باہر نکل چکا ہوگا۔ مزید دو سال بعد یہ روشنی کی رفتار کے 90% رفتار سے سفر کر رہا ہوگا۔ اس رفتار پہ جہاز وقت میں سفر کرنا شروع کر دے گا۔ اس موقع پہ جہاز میں گزرے ہوئے ہر ایک گھنٹے کے لئے زمین پہ دو گھنٹے گزر چکے ہوں گے۔ یہ بالکل ویسی ہی صورتحال ہوگی جیسے ایک بلیک ہول کے ارد گرد گھومنے والے جہاز کی تھی۔ اگلے دو سالوں کے سفر کے بعد جہاز اپنی تیز ترین رفتار حاصل کر لے گا۔ یعنی روشنی کی رفتار کا 99%۔ اس رفتار کے جہاز پہ گزارا ہوا ایک دن زمین پہ گزرے ہوئے ایک سال کے برابر ہوگا۔ اور اب یہ جہاز مکمل طور ہی مستقبل میں سفر کر رہا ہوگا۔

وقت کی رفتار کے کم ہونے کا ایک اور فائدہ ہے اور وہ یہ کہ ایک انسانی زندگی میں غیر معمولی لمبے سفر کئے جا سکتے ہیں۔ صرف 80 سالوں میں کہکشاں کے دوسرے سرے تک پہنچا جا سکتا ہے۔ لیکن اس تمام سفر کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کتنی عجیب ہے۔ اس کائنات میں وقت کی رفتار مختلف مقامات پہ مختلف ہے۔ ہمارے اردگرد چھوٹے چھوٹے ووم ہولز موجود ہیں۔ اور ہم بالآخر اپنے طبیعات کے علم کو استعمال کرتے ہوئے چوتھی سمت کے حقیقی مسافر بن جائیں گے۔


 

Advertisements

12 comments on “اسٹیفن ہاکنگ کے ساتھ وقت میں سفر—آخری حصہ

  1. میں سمجھا کئی حصے ہوں گے، آپ نے تو دو حصوں میں اسے تمام کردیا.. خیر یقیناً یہ ایک بہترین مضمون تھا ایسے مضامین کی انٹرنیٹ کی اردو دنیا میں شدید قلت ہے، کوشش کریں کہ مزید اس بارے نازل فرمائیں.. والسلام.

    • حوصلہ افزائی کے لئے بہت شکریہ۔ مجھے تو ابھی بھی یہ مضمون بہت بڑا لگ رہا تھا۔ اس طرح کے موضوعات میں میری بہت دلچسپی ہے اس لئے مزید بھی شئیر کروں گی۔ آپ بھی بہت اچھا لکھتے ہیں، مجھے تو آپ کے بلاگ پر نئی تحریر کا انتظار رہتا ہے۔

  2. سمارا،
    یہ کتاب پرانی نہیں ہو گئ۔ اب تو سائینس کہہ رہی ہے کہ روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز رفتار اشیاء ممکن ہیں۔
    خیر، یہ اس کتاب کا مکمل ترجمہ تو نہیں خلاصہ لگ رہا ہے۔ کیا یہ آپ نے خود کیا ہے۔ کیونکہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ کسی اور نے بھی اس کتاب کا ترجمہ کیا ہے۔ اگر آپ نے کیا ہے تو بہت خوب۔

    • خوش آمدید انیقہ!
      آپ شاید اسٹیفن ہاکنگ کی کتاب A brief history of time کا ذکر کر رہی ہیں۔ وہ واقعی کافی پرانی ہو گئی ہے، اگرچہ اس کے نئے ایڈیشنز آتے رہتے ہیں۔
      میرا مضمون اس کتاب سے نہیں ہے، یہ ایک ڈاکومینٹری آئی تھی ٹی وی پر، مجھے دلچسپ لگی تو یہاں اس کا خلاصہ پیش کیا ہے۔
      روشنی کی رفتار سے تیز رفتار اشیاء کا سنا ہے، لیکن مجھے تفصیلات معلوم نہیں ہیں، لیکن ایسا عین ممکن ہے۔
      آپ کی تعریف تو سند کے طور پر ہے کیونکہ آپ خود بہت اچھا لکھتی ہیں۔

  3. واہ بہت خوب۔ میری تحقیقات کے مطابق ایسا ہو سکتا ہے اورلوگ ایسا کرتے رہے ہیں اور اس کا طریقہ ہے مراقبہ۔ Meditation. جی ہاں آپ خواجہ شمس الدین عظیمی اور رئیس امروہی کی مراقبہ اور روحانیات والی کتب سے دیکھ لیں۔ بشیر امتیاز صاحب نے بھی اردو میں اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ میری اس سلسلے سے خاص رغبت ہے بلکہ انشا اللہ عنقریب ہی میں اس سلسلے پہ اپنا بلاگ بھی سٹارت کر رہا ہوں۔

    بہت اچھا مضمون۔ شکریہ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s