دلہن

دلہن


وہ اماں کی چادر میں چھپنے کی کوشش کر رہا تھا۔ دادا جی کپڑے میں لپٹے نوزائیدہ وجود کو ہاتھوں پر اٹھائے اذان دے رہے تھے۔۔

حی علی الصلوٰۃ
حی علی الصلوٰۃ
حی علی الفلاح
حی علی الفلاح
اللہ اکبر
اللہ اکبر
لا الہ الا اللہ

” بچی کا نام نگہت بانو ہوگا۔ اس کا رشتہ میں فہد کے ساتھ طے کرتا ہوں۔” دادا جی نے نوزائیدہ کو چاچی کی گود میں دیتے ہوئے کہا۔

اپنے نام پہ وہ چادر میں چھپنا بھول کے ان کی طرف دیکھنے لگا لیکن کہی گئی بات کا مطلب نہ سمجھ سکا۔

"بڑی خوشی کی بات ہے، آج سے نگہت میرے فہد کی منگ ہوئی۔” ابا جی نے فوراً تائید کی۔

"منگ کیا ہوتی ہے۔؟” وہ منمنایا لیکن دادا جی تب تک ابا جی اور چاچا جی کو گلے لگا چکے تھے۔”مبارک ہو۔”

"یہ آپ کی ہوئی بھرجائی۔” چاچی نے بچی اماں کی گود میں دے دی اور ساتھ ہی اس کے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے اسے خود سے لگا لیا۔

"”اللہ نصیب اچھے کرے۔” دادی اماں نے دعا دی۔

وہ دلچسپی سے سب دیکھ رہا تھا۔ منگ کیا ہوتی ہے۔؟ اس کا سوال بغیر جواب کے ہی رہ گیا تھا۔ چار سال کی عمر میں یہ واقعہ اس کی سمجھ کے حساب سے زیادہ تھا لیکن وہ اس بات پر بہت خوش تھا کہ چاچی کے گھر آنے والی ننھی گڑیا اس کی منگ تھی۔ اس کے چہرے پر موجود جھینپی ہوئی مسکراہٹ بیک وقت اس کی معصومانہ خوشی اور جھجھک کی عکاس تھی۔
**************

گھر کے دونوں حصوں کے درمیان کوئی دیوار نہ ہونے کی وجہ سے وہ جب چاہتا دوسرے حصے میں چلا جاتا۔ اس کا پسندیدہ کھلونا اب ننھی منی غوں غاں کرتی ہوئی نگہت بانو ہی تھی۔ وہ اسے اٹھائے اٹھائے ہرجگہ پھرتا تھا۔ چاچی جی پہلے بھی اس سے بڑا پیار کرتی تھیں اور اب مزید خیال رکھنے لگی تھیں۔ نگہت بانو سال سے اوپر کی تھی جب انہوں نے پہلی مرتبہ اسے نگہت کے ساتھ کھیلنے سے منع کیا۔

"کیوں۔؟”

“اب اس کا اور تیرا پردہ ہوگا۔”

"پردہ کیا ہوتا ہے؟”

"وہ تیری منگ ہے اس لئے وہ تیرے سامنے نہیں آئے گی۔” انہوں نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے سمجھایا۔

"نہیں، وہ میرے سامنے آئے گی۔ میں کھیلوں گا اس کے ساتھ۔”

"اب اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنا۔”

"میں اس کے ساتھ بھی کھیلوں گا۔”

"میں نے گڑ والے چاول پکائے ہیں، آؤ تمہیں کھلاؤں۔” چاچی نے اسے پچکارتے ہوئے کہا۔

"نہیں کھانے میں نے گڑ والے چاول۔ میں نے کھیلنا ہے نگہت کے ساتھ۔۔ بلاؤ اسے۔” اس نے بسورتے ہوئے کہا۔

"تیرے اور دوست بھی تو ہیں۔ ان کے ساتھ جا کر کھیل۔ سب کیا کہیں گے کہ تو ہر وقت نگہت کے ساتھ ہی کھیلتا رہتا ہے۔ آ چاول کھلاؤں میں تجھے۔” چاچی جی اس کی توجہ ہٹانے کے لئے چاول نکال لائی تھیں۔
"نہیں کھانے مجھے چاول۔ تم گندی ہو” وہ روتے ہوئے اپنے حصے کی طرف بھاگ گیا۔
**************

صحن میں بیٹھی دادی نے سب سے پہلے اسے دیکھا۔
"کیا ہوا پتر، رو کیوں رہا ہے، ادھر آ میرے پاس؟”

 

"انہوں نے مجھے نگہت کے ساتھ کھیلنے نہیں دیا۔ اسے چھپا دیا دوسرے کمرے میں۔ اب میں انہیں اپنے گھر نہیں آنے دوں گا۔” دادی کو ہمدرد سمجھ کر اس نے فوراً شکایت لگائی۔ اماں بھی پاس آ کر کھڑی ہوگئی تھیں۔ وہ ہنس پڑیں۔ وہ کیا بات کر رہا تھا دونوں جانتی تھیں۔

"نگہت بانو تیری ہونے والی دلہن ہے۔ فکر نہ کر وہ کہیں نہیں جائے گی۔ جب تو بڑا ہو جائے گا تب میں خود اسے تیرے چاچا چاچی کے پاس سے رخصت کرا کے لاؤں گی۔” دادی نے اسے چپ کراتے ہوئے کہا۔

"دلہن” کا لفظ اس کے لئے نیا نہیں تھا۔ گاؤں میں ہونے والی شادیوں میں دلہنیں اس نے دیکھی تھیں وہ ہمیشہ سرخ رنگ کے لباس میں ہوتی تھیں۔ انہیں دیکھنے کے شوق میں وہ بھی اماں کے ساتھ عورتوں میں گھسا رہتا۔ دلہن ستاروں اور گوٹے والے دوپٹے کی گٹھڑی جیسی ہوتی تھی۔ اس کا گھونگھٹ اتنا آگے نکلا ہوتا تھا کہ وہ کبھی اس کی شکل نہیں دیکھ پاتا تھا۔ یہ دلہنیں کہاں سے ملتی تھیں وہ نہیں جانتا تھا۔ لیکن یہ جان کر اسے بہت خوشی ہوئی کہ ننھی نگہت اس کی دلہن بنے گی۔ پہلے وہ صرف اس کی منگ تھی اور اب ہونے والی دلہن بھی تھی۔ دلہن اور منگ کا فرق اسے معلوم نہیں تھا لیکن وہ یہ جان کر ہی خوش ہو گیا تھا کہ نگہت پر اس کا حق دہرا ہے۔ ایک مانوس جھینپی مسکراہٹ نے پھر سے اس کے چہرے کا احاطہ کر لیا تھا۔ اسی وقت چاچی جی بھی ان کے حصے میں داخل ہوئیں۔

"بتاؤ میرے ہاتھ میں کیا ہے۔؟” انہوں نے اپنے پیچھے کچھ چھپایا ہوا تھا۔

"کیا ہے؟” وہ اشتیاق سے بولا۔

"بوجھو، تو جانیں۔”

"بتاؤ نا۔”

"تمہاری دلہن۔” انہوں نے ہاتھ سامنے کرتے ہوئے کہا۔

ان کے ہاتھ میں ایک گڑیا تھی جس نے سرخ رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔

"جب تک تمہیں اصلی دلہن نہیں مل جاتی تب تک یہ تمہاری دلہن ہے اور تمہارے پاس ہی رہے گی۔” انہوں نے گڑیا اسے دیتے ہوئے کہا۔

وہ گڑیا دیکھ کر خوش ہو گیا تھا۔ اس دلہن کا تو چہرہ بھی نظر آ رہا تھا۔ چاچی سے اس کی ناراضگی ختم ہو گئی تھی اب وہ ان کے ساتھ گڑ والے چاول کھانے جا رہا تھا۔
**************

اس واقعے کے باوجود چاچا چاچی کے حصے میں جانے پر پابندی نہیں تھی۔ وہ اب بھی ان کے گھر جاتا تھا۔ چاچی کا رویہ ویسے ہی پہلے جیسے ٹھنڈے پانی کے جھرنے کی طرح کا تھا۔ وہ باورچی خانے میں ان کے پاس بیٹھ کر کھانا کھایا کرتا تھا۔ بس نگہت اب اسے کہیں بھی نظر نہیں آتی تھی۔ چاچی نے بھی اسے سمجھایا تھا کہ اس کے بڑا ہونے پہ وہ خود نگہت کو اس کی دلہن بنائیں گی۔ وہ دل ہی دل میں مطمئن ہو گیا تھا ۔

وقت کا پہیہ اپنی رفتار سے گزر رہا تھا۔ وہ بچپن پار کرکے نوجوانی کے دور میں داخل ہوگیا تھا۔ نگہت کے علاوہ بھی چاچا چاچی کے دو بیٹے تھےلیکن وہ اکلوتا ہی رہا۔ اپنے دونوں چچا زاد بھائیوں سے اس کی اچھی دوستی تھی اور اکثر ان سے ملنے بھی ان کے گھر چلا جاتا تھا لیکن نہ تو اسے نگہت کہیں دکھائی دیتی اور نہ ہی کہیں اس کی کوئی آواز سنائی دیتی۔ وہ کیسی ہو گئی تھی، کیسا قد تھا اس کا، رنگ کیسا تھا، نقش کیسے تھے اسے کچھ علم نہ تھا۔ ایک گھر کا حصہ ہونے کے باوجود وہ اس سے ایسے ہی ناواقف تھا جیسے کسی انجان سے۔

اب وہ اماں کا پلو پکڑ کر دلہن دیکھنے اندر نہیں گھستا تھا باہر مردانے میں ہی رہتا تھا۔ دلہن کے آنے پر ہونے والی فائرنگ اور آتش بازی میں وہ بھی حصہ لیتا تھا۔ آتش بازی کی نسبت فائرنگ کرنا اسے زیادہ اچھا لگتا تھا۔ بارات میں شامل لڑکوں کے ساتھ مل کر وہ بھی کبھی چھت پر اور کبھی گلی میں خوب فائرنگ کرتا۔ گاؤں بھر کو خبر ہو جاتی کہ بارات دلہن کو لے کے واپس آ گئی ہے۔ بوڑھی عورتیں، جوان لڑکیاں سب دلہن دیکھنے کے لئے اکھٹی ہوجاتیں۔ کبھی کبھار اس کو بھی آنچل میں لپٹی ہوئی دلہن کی ایک آدھ جھلک نظر آ جاتی اور وہ سوچتا ایک دن یہ فائرنگ اس کے گھر کے باہر بھی ہوگی۔ اسی طرح آنچل میں لپٹی ہوئی دلہن اس کے گھر بھی آئے گی اور اس کے ذہن میں سرخ گٹھڑی نما منظر آ جاتا جس کی شبیہہ اور نقوش واضح نہیں تھے۔

چاچی کی دی ہوئی گڑیا اب تک اس کے پاس تھی۔ کپڑے کی بنی، سرخ شلوار قمیض پہنے ہوئی گڑیا کا دوپٹہ بھی سرخ تھا جس کے کناروں پر گوٹا لگا ہوا تھا۔ یہ گڑیا چاچی نے اپنے ہاتھوں سے بنائی تھی۔ اس دلہن کے چہرے پر گھونگھٹ نہیں تھا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھ سکتا تھا۔ دلہن کی آنکھیں کالے اور ہونٹ سرخ دھاگے سے بنائے گئے تھے۔ ماتھے پہ چاند کی شکل کا چھوٹا سا ٹیکہ، ناک میں پہنی ہوئی نتھ، گلے میں پڑا ہوا چھوٹا سا ہار۔۔۔ گڑیا کی کالے دھاگے کی لمبی چٹیا تھی جس میں نارنجی رنگ کے دھاگے سے پراندہ بھی گندھا گیا تھا۔۔۔ اسے ساری تفصیل یاد تھی۔ اس کے نزدیک ساری دلہنیں اس گڑیا جیسی ہی ہوتی تھیں۔
اب گھر میں اس کی شادی کا ذکر شروع ہو گیا تھا۔ اپنے گھر میں دلہن کی آمد تو اس کا بچپن کا خواب تھا اسے بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ تیاریاں شروع ہو گئی تھیں۔ اس کے ساتھ آج کل بڑا خصوصی سلوک کیا جاتا تھا۔ نئی نسل کی پہلی شادی تھی۔ گھر دن بھر گاؤں کی عورتوں سے بھرا رہتا۔ کوئی شادی کے کپڑے تیار کرتی، کوئی کھانے کا انتظام دیکھتی۔ اور وہ خود ایک ایک گھڑی گن رہا تھا کہ دلہن کے آنے میں کتنا وقت رہ گیا ہے۔

پھر بارات کا دن بھی آگیا۔ انتظامات گھر میں ہی کئے گئے تھے۔ عورتوں کے لئے صحن میں انتظام تھا جبکہ مردوں کے لئے باہر شامیانہ لگوایا گیا تھا۔ نکاح ہوتے ہی ہر طرف سے مبارک سلامت کی آوازیں آنے لگیں۔ پٹاخے،آتش بازی اور ہوائی فائرنگ شروع ہو گئی۔ اماں دلہن کو رخصت کروا کر اپنے حصے میں لے آئی تھیں۔ اسے بھی مردانے سے بلوا لیا گیا تھا۔ دلہن اب اس کے گھر کے صحن میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے ایک نظر اس پر ڈالی وہ ویسی ہی سجی ہوئی تھی جیسی وہ بچپن سے دیکھتا آیا تھا۔ ستاروں والے سرخ دوپٹے میں لپٹی ہوئی، لمبا سا گھونگھٹ نکالے ہوئے۔ اسے بھی دلہن کے ساتھ بٹھا دیا گیا۔ اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اسے عجیب سا احساس ہوا، وہ اپنی دلہن کے ساتھ بیٹھا تھا۔ گھونگھٹ اتنا آگے تک نکلا ہوا تھا کہ ہر دفعہ اس کی نظریں سرخ ستاروں والے دوپٹے سے ٹکرا کر ناکام واپس آ جاتیں۔ وہ خود میں خاصی سرشاری محسوس کر رہا تھا۔ عورتیں مختلف رسمیں کر رہی تھیں۔ بیچ بیچ میں کوئی شوخ سی عورت مذاق بھی کر جاتی۔ کسی کسی بات پہ ساتھ بیٹھی ہوئی گٹھڑی میں ہلکی سی حرکت ہوتی اور کبھی وہ بالکل جامد بیٹھی رہتی۔ رسمیں طول پکڑ رہی تھیں اور یہ طوالت اسے بہت محسوس ہو رہی تھی۔ وہ بیٹھے بیٹھے تھک گیا تھا۔ شادی کی خوشی میں گھر کی چھت پر فائرنگ ہو رہی تھی وہ بھی اس میں شامل ہو گیا اورفائرنگ کرنے لگا۔ تڑ تڑ تڑ۔۔۔تڑ تڑ تڑ۔۔۔تڑ تڑ تڑ۔۔۔ صحن سے عورتوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ فائرنگ کی آواز اور گھر کے صحن سے آتا عورتوں کا شور چاروں طرف خوشی کا سماں پیدا کر رہا تھا۔ اسی سرشاری میں وہ زور شور سے فائرنگ کر رہا تھا۔

اچانک خوشی کی آوازیں مدہم ہونے لگیں اور بین میں تبدیل ہونے لگیں۔ اس بین کی آواز میں شدت پیدا ہوتی جا رہی تھی ویسی ہی جیسے کچھ لمحوں پہلے خوشی کی آوازوں میں تھی۔ وہ نیچے اتر آیا۔ کچھ عورتیں ششدر کھڑی تھیں جیسے حیرت سے بت بن گئی ہوں اور کچھ بین کر رہی تھیں جیسے کسی انہونی پر افسوس کر رہی ہوں۔ شادی اور خوشی کے موقع پر ایسا رویہ اس کی سمجھ سے باہر تھا ۔ وہ انہیں ہٹاتے ہوئے صحن کے وسط تک جا پہنچا۔ فرش پر ایک سرخ گٹھڑی پڑی تھی جس کے سر سے سرخ تاروں والا دوپٹہ اتر گیا تھا۔ پہلی مرتبہ کسی دلہن کا چہرہ بغیر حجاب کے اس کے سامنے تھا۔ ماہتاب مثل چہرہ، ایسی شفاف رنگت کہ ہاتھ لگنے سے گویا میلی ہو۔ ماتھے کا ٹیکہ زمین کی طرف کھسک گیا تھا۔ ناک میں پڑی نتھ خوبصورتی کو دوبالا کر رہی تھی۔ لبوں پر لگی ہوئی سرخی بھی خون جیسی گہری تھی۔ حسن مکمل تھا اور اپنی تیاری سے نظروں کو خیرہ کر رہا تھا۔ لیکن اس کی نظریں چہرے کی بجائے اس سیال پر تھیں جو گٹھڑی کے سر سے نکل کر ارد گرد کی جگہ کو سرخ کر رہا تھا۔ اس کے ہاتھ سے گن چھوٹ گئی اور وہ زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔

Advertisements

17 comments on “دلہن

  1. اچھی کاوش ہے مگر کہانی کی شروع کی اٹھان اور اس کا اختتام آپس میں کچھ لگا نہیں کھاتا نہ ہی کہانی کے کردار کے مکالمے اس معاشرتی برائی کے سلسلے میں کچھ کہتے ہیں ۔ تنقید پر معذرت ۔

    • تنقید تو بہتری کی طرف لے جاتی ہے۔۔۔ اس پر معذرت کیسی۔ آپ کے نقاط درست ہیں۔ آئندہ توجہ دوں گی۔

  2. پنگ بیک: دلہن | Tea Break

    • اکثر لوگ یہی کہتے ہیں جو آپ نے کہا ہے۔۔۔ لیکن بہت سارے لوگ وہ بھی تو کہتے ہیں جو میں نے لکھا ہے۔

      نشاندہی کرنے کے لئے بہت شکریہ۔

  3. اس طرح کے افسانوں کا کبھی ہنسی خوشی اختتام ہوتے نہیں دیکھا۔ درمیان تک پہنچتے پہنچتے سمجھ آ گئی تھی کہ آخر میں کوئی فائرنگ یا دھماکہ یا ڈرون حملہ ہونے ہی والا ہے۔

    ایک معاشرتی برائی (آتش بازی اور ہوائی فائرنگ) کے ساتھ تو انصاف ہو گیا لیکن دوسری بچ گئی (کسی کی مرضی کے بغیر اس کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کر دینا، وہ بھی اس کے بچپن میں جب اسے اس کی سمجھ ہی نہ ہو)۔ بہرحال، تحریر اچھی تھی۔

    • پسندیدگی کے لئے شکریہ۔۔۔ درست کہا آپ نے۔ یہ بالکل عام سی کہانی تھی اور بالکل پریڈکٹ ایبل۔

  4. بہت عمدہ کاوش ہے. بس صرف ایک خامی تھی کہ کہانی کے انجام کے بارے سسپنس برقرار نہیں رکھا گیا. اگر کہانی میں دلہن کی موت ہوائی فائرنگ سے کروانی تھی تو کہانی کے بیچ میں اسکا بار بار تذکرہ نہیں ہونا چاہیے تھا. ان سب کے باوجود یہ ایک نہایت عمدہ کوشش ہے. دلوں کو چھو لینے والی .

  5. پسندیدگی کے لئے بہت شکریہ۔۔۔

    خامیوں کی نشاندہی پر مشکور ہوں امید ہے آپ آئندہ بھی اصلاح کریں گے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s