سراب ۔۔۔ حصہ اول

"گرلڈ سالمن ود پوٹیٹوز۔”
اس نے مینیو کارڈ کاسرخ فلیپ بند کر کے ویٹرس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا۔ ۔ کارڈ پہ لکھے ہوئے کھانوں میں یہ واحد ڈش تھی جو اس کے لئے شجر ممنوعہ نہیں تھی۔ دیگر تمام کھانوں میں غیر ذبیحہ گوشت یا پورک کی آمیزش تھی یا پھر ذائقہ بڑھانے کے لئے وائن ساس استعمال کی گئی تھی۔ ڈائننگ ہال کی مدہم روشنیاں آنکھوں کو بھلی لگ رہی تھیں۔ اس کی نظریں غیر ارادی طور پر ویٹرس کا پیچھا کرنے لگیں جو اب دوسری میز پر مہمانوں کی فرمائش نوٹ کرتے ہوئے ہلکی پھلکی دل لگی بھی کر رہی تھی۔ ۔ شاید انہیں خوش کرنا بھی اس کے فرائض میں شامل تھا۔ ۔

سافٹ ڈرنک کا گھونٹ لیتے ہوئے اس نے نظریں ویٹرس سے ہٹا کر اپنی میز کی طرف کر لیں۔ میز پر سرخ جالی کا نفیس میز پوش بچھا ہوا تھا جو مدہم روشنی میں سیاہی مائل لگ رہا تھا۔ ۔ ۔ سامنے رکھی ہوئی موم بتی کا شعلہ اپنے ہی سائے کے ساتھ ہلکے ہلکے ہلکورے لے رہا تھا ۔ ۔ ۔ اس کے بالکل سامنے ڈنر پلیٹ، نیپکن، کانٹے، چھری، چمچ سب ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔ واحد بے ترتیبی اس کے دائیں ہاتھ کے پاس تھی جہاں اس نے چمچ ہٹا کے ڈرنک کے گلاس کے لئے جگہ بنائی تھی۔۔۔۔ میز پر پائریٹس آف کیریبئین سیریز کی نئی فلم پر بات ہو رہی تھی۔ اس کی تینوں کولیگز کیپٹن جیک اسپیرو کے کردار سے متاثر تھیں اور اس بات پر متفق تھیں کہ جونی ڈیپ سے بہتر یہ کردار کوئی اور نہیں کر سکتا۔ ۔ اس میز پر صرف خواتین تھیں۔ اس کی ساتھی اس کا خیال رکھتے ہوئے میل کولیگز کے ساتھ بیٹھنے کی بجائے الگ میز پر آ گئی تھیں۔ ۔ ۔۔ ان کا خیال رکھنے کا انداز اسے اچھا لگا تھا۔ اسکول کے سالانہ ڈنر میں اساتذہ اور شاگرد سب ہی گھل مل گئے تھے۔ ہال میں بجنے والی موسیقی اور شرکاء کی ملی جلی پرجوش آوازوں سے ہر طرف خوشی کا سماں تھا۔ لیکن پھر بھی اس کے اندر موجود احساس کمتری کم نہیں ہو رہا تھا۔ چاہنے کے باوجود بھی وہ ماحول کا حصہ نہیں بن پا رہی تھی۔ وہ یقیناً تناؤ کا شکار نہ ہوتی اگر نکلنے سے پہلے اس کا اپنی روم میٹ کیرل سے مکالمہ نہ ہو جاتا جو اس سے پوچھے بغیر اپنے بوائے فرینڈ کو کمرے کے اندر لے آئی تھی۔

ایک لڑکے کو اپنے کمرے میں دیکھ کے خوش آمدید کہنے کی بجائے اس کے منہ سے نکلا ، ” یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟”

"یہ میرا دوست ہے کرس۔ کمرہ تو آج رات کو خالی ہی رہے گا تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ ہم موقع سے فائدہ اٹھا لیں۔” کیرل نے لاپرواہی اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے بتایا۔ اسے اس کے کمرے میں آئے ابھی چند دن ہی ہوئے تھے۔

اس کی آنکھیں پھیل گئیں تھیں۔”کمرہ کیوں خالی رہے گا آج ؟”

"کیونکہ تم ڈنر پہ جا رہی ہو ۔۔۔وہاں سے کسی کے ساتھ چلی جاؤ گی۔ ۔۔یہاں تو اب تم کل دن چڑھے ہی آؤ گی۔ سویٹ ہارٹ!۔ کیرل کا انداز ہنوز پہلے جیسا تھا لاپرواہ سا۔ "

"تم سے یہ کس نے کہا کہ میں کسی کے ساتھ چلی جاؤں گی۔ ڈنر کے بعد میں سیدھی واپس آؤں گی۔” اس بار ماتھے پہ لکیریں بھی نمودار ہو گئی تھیں۔

” او میرے خدا! ۔۔۔میرا خیال تھا کہ پارٹی پہ جانے کے لئے تو تم کچھ سمجھ کا مظاہرہ کرو گی۔۔۔۔ تمہاری ڈریسنگ سینس بھی نہ۔۔۔۔۔۔۔ یہ جس طرح تم جا رہی ہوایسے تو تمہیں وہاں کوئی پوچھے بھی نہیں۔ ۔۔۔۔ یہ جو لباس تم نے چڑھایا ہوا ہے وہ دور سے ہی اعلان کر رہا ہے، ‘نو اینٹری ہئر‘۔۔۔ ‘مجھ سے دور رہو‘۔۔۔ ‘مجھے چھوت کی بیماری ہے‘۔۔۔‘میرے جسم پہ برص کے داغ ہیں جن کو چھپانے کے لئے میں نے سر سے پیر تک خود کو ڈھانپا ہوا ہے‘۔ ۔ کیرل نے اسے بغور دیکھتے ہوئے کہا۔”

"میں کیا پہنتی ہوں اور کیا نہیں، یہ میں اپنی پسند سے طے کروں گی تمہاری پسند سے نہیں۔۔”

” کیا تم کسی پارٹی میں ہی جا رہی ہو ۔۔۔ ؟ ایسا لگتا ہے جیسے کسی تدفین کے لئے جا رہی ہو۔ ۔”

"ہاں میں پارٹی کے لئے ہی جا رہی ہوں۔ لیکن مجھے کوئی خواہش نہیں ہے کہ کوئی میری طرف متوجہ ہو۔ میرے بارے میں پریشان ہونے کی بجائے اپنے کام سے کام رکھو۔۔”

"اپنے کام سے کام ہی تو رکھ رہے ہیں۔۔تم ہی رات کو واپس آنے کی بات کرکے بدمزہ کر رہی ہو۔ ۔ ۔ کیوں کرس ۔” کیرل نے اپنے بوائے فرینڈ کو ذو معنی انداز میں دیکھتے ہوئے ایک آنکھ ماری اور ہنس پڑی۔

جب میں واپس آؤں تو کمرے میں کوئی غیر متعلقہ فرد نہیں ہونا چاہئے۔ ۔” کیرل کی بات پر جزبز ہو کے اس کے بوائے فرینڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے کہا۔

"تم بھی جلدی آنے کی کوشش نہ کرنا۔اگر وہاں کوئی تمہیں دعوت دے ہی دے تو اس کی بات پر توجہ دینا۔ ” کمرے سے نکلتے ہوئے اسے کیرل کا جواب سنائی دیا۔

باہر نکل کے اس نے لمبے لمبے سانس لینے کی کوشش کی۔ کمرے میں اترنے والی متوقع رات کا سوچ کر غصے اور رنج سے اس کا دوران خون تیز ہو گیا تھا اور گالوں پر سرخی کی جھلک بڑھ گئی تھی۔

راستے میں بھی اس کا دھیان کیرل کی باتوں کی طرف ہی تھا۔ وہ اس کی دوست نہیں تھی۔ لیکن روم میٹ ہونے کی وجہ سے ان کے درمیان کافی بےتکلفی ہو گئی تھی۔ گزشتہ چند دنوں میں جیسا دیس ویسا بھیس کے اصول کے مطابق کیرل ایک دو دفعہ پہلے بھی اسے مقامی طرز کا لباس پہننے کا مشورہ دے چکی تھی۔۔۔۔۔ ۔ اس نے اسے مقامی طرز بودو باش اختیار کرنے کی طرف راغب کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔ تاکہ وہ بھی بقول کیرل، اپنی بور اور بے رنگ زندگی سے کچھ لطف اندوز ہو سکے۔ وہ اس طرح کی باتوں پہ اختلاف کرنے کی بجائے بس ہنس دیا کرتی تھی۔۔۔ شاید اسی سے کیرل نے یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ قائل ہو گئی ہےتبھی وہ اپنے دوست کو اپنے ساتھ ہی لے آئی تھی ۔۔ ۔

اس نے اپنے لباس کی طرف توجہ کی۔ ۔ ڈنر کے لئے اس نے کالے رنگ کے کرتے کا انتخاب کیا تھا جس کے گلے پر نقرئی طلے کا کام تھا۔ لمبے بازؤں کے کناروں پر بھی کام تھا ساتھ ہی بلیک کلر کی لانگ اسکرٹ تھی۔ کالے رنگ کی مناسبت سے گلے میں کالے اور سلور رنگ کا اسکارف تھا۔ کچھ دیر پہلے تک وہ خود کو بہت ڈیسنٹ اور ویل ڈریسڈ سمجھ رہی تھی۔ لیکن صرف دس منٹ پہلے اسے معلوم ہوا تھا کہ دوسروں کی نظر میں اس کا کیا عکس ہے اور وہ ‘ڈیسنٹ’ اور ‘ویل ڈریسڈ’ نہیں تھا ۔ ۔ جس معاشرے میں وہ موجود تھی وہاں کسی تقریب میں سر سے پیر تک ملبوس ہونے کا مطلب وہاں کے مردوں کی بےعزتی کرنا تھا یا پھر یہ بذات خود اس میں کسی خامی کی نشاندہی تھی۔ کیرل نے لوگوں کی سوچ کو زبان دے دی تھی۔ اگر کیرل اس کے بارے میں یہ سب کہہ سکتی تھی تو ڈنر میں بھی لوگ یہی سمجھیں گے یعنی اس کو نہ تو کوئی پہننے کا ڈھنگ ہے اور نہ ہی تقریب میں جانے کی تمیز۔۔۔ ۔ ۔ وہ اس سے دور دور رہیں گے لیکن دل میں یہ ضرور سوچیں گے کہ وہ کتنی عجیب ہے۔۔۔۔ ۔ڈرنک نہیں کرتی، ڈیٹ پہ نہیں جاتی۔۔اور پھر جب انہیں علم ہوگا کہ وہ پاکستانی ہے مسلمان ہے تب وہ اس پہ افسوس کریں گے کہ وہ مسلمان ہونے کی وجہ سے اپنی زندگی انجوائے نہیں کر سکتی ۔۔۔ ۔ ‘بے چاری پاکستانی مسلمان لڑکی۔‘ ۔۔۔۔ یہ ہونے والا تھا آج کے ڈنر میں اس کا تاثر ۔ اس نے تاسف سے سوچا اور اپنے کرتے پہ ہاتھ پھیر کے نادیدہ شکنیں دور کرنے لگی۔

ڈنر سے پہلے ہی اس کی دلچسپی اور جوش ختم ہو گیا تھا۔ ۔ مہذب دنیا میں اس کی شناخت "پاکستانی” کی تھی جس کے بعد مہذب پن سے اس کا تعلق جڑنےسے پہلے ہی ختم ہو جاتا تھا۔ امریکہ آئے اسے تین ماہ ہوئے تھے۔۔ تین ماہ پہلے امریکہ کی سرزمین پر قدم رکھنے سے پہلے اس کے دل میں بہت سارے خیالات موجود تھے۔وہ بہت پرجوش تھی۔۔۔ وہ جس ملک میں جا رہی تھی اس کے بارے میں اس نے اب تک صرف خبروں، تجزیوں، فلموں دستاویزی پروگراموں میں ہی دیکھا تھا۔۔۔ ایک ایسا ملک جو ترقی یافتہ ترین تھا ۔ اس جیسی شخصی آزادی اور برابری کے حقوق دنیا بھرمیں کسی ملک کے شہریوں کو نہیں حاصل تھے ۔ اس کے برعکس اس کا خود کا تعلق ایسی قوم سے تھا۔۔۔ جس کی اکثریت ان الفاظ کے معانی بھی نہیں جانتی تھی۔۔۔ امریکہ جانے سے پہلے ہی وہ وہاں کے نظام سے مرعوب تھی۔۔۔۔ وہ ابھی تک اس معاشرے کو جاننے کے مرحلے میں تھی ۔امریکیوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ۔۔ اس کی کوشش تھی کہ پاکستان سے تعلق ہونے کی بنا پہ وہ لوگ اس سے نفرت نہ کریں۔ ۔ ۔۔ وہ وہاں پاکستان کی سفیر تھی اور نہیں چاہتی تھی کہ اس کی کسی بھی حرکت سے اس کے ملک پہ کوئی انگلی اٹھائے۔ یہ پہلا موقع تھا جب کسی نے اس سے اس کے لباس اور انداز زندگی پر اس طرح بات کی تھی۔ کیرل نے چند ہی باتوں میں اس کے سامنے اس کی اصلیت کھول کر رکھ دی تھی۔اور یہ اسے بالکل اچھا نہیں لگا تھا۔

وہ جلد از جلد روم میٹ تبدیل کرنے کی کوشش کرے گی۔ ڈائننگ ہال میں داخل ہونے سے پہلے یہ آخری بات تھی جو اس نے سوچی تھی۔
٭٭٭٭٭

پارٹی میں اس کی کولیگز کا رویہ کیرل کے رویے سے یکسر مختلف تھا۔ ۔

"یو آر لکنگ پریٹی۔” جنیفر نے بات شروع کی۔ وہ بھی اس کی طرح اسکالر شپ پر امریکہ آئی ہوئی تھی اس کا تعلق برطانیہ سے تھا۔ ۔ ” تمہاری قمیض بہت اچھی لگ رہی ہے۔ "

"واقعی بہت خوبصورت کام ہے۔” روزا نے بھی جنیفر کی تائید کی۔وہ اس کی کلاس فیلو تھی اور لوکل تھی۔

"یہ میں پاکستان سے اپنے ساتھ لائی ہوں۔ ۔ وہاں یہ کام بہت پسند کیا جاتا ہے ۔” اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

"کیا پاکستان میں لڑکیاں پڑھتی ہیں ؟۔” جنیفر نے پوچھا۔

"ہاں۔۔۔ میں تمہارے سامنے ہوں۔۔۔ پاکستانی ہوں۔۔۔ اور پڑھی لکھی بھی۔” اس کے لہجے میں خود بخود تفاخر آ گیا تھا جیسے وہ یہ جتانا چاہتی ہو کہ ہم جاہل اجڈ لوگ نہیں ہیں۔ ۔

"لیکن پاکستان میں لڑکوں اور لڑکیوں کے اسکول الگ الگ ہوتے ہیں۔ ۔”پیٹرا نے بھی باتوں میں حصہ لیا۔ وہ عمر میں ان سب سے بڑی تھی۔۔۔ ان کے اسکول میں سیکریٹری تھی اور ایک دو سالہ بیٹی کی ماں بھی۔

"ہاں۔۔۔ اس میں ہمارا فائدہ ہی ہے۔ اس طرح ہماری توجہ پڑھائی کی طرف رہتی ہے، لڑکوں کی طرف نہیں۔” اس نے ہلکے سے چوٹ کرتے ہوئے جواب دیا۔

"کیا تمہارا کوئی بوائے فرینڈ نہیں ہے۔” روزا نے پوچھا

"نہیں۔”

تم لوگوں کو بوائے فرینڈز کی اجازت نہیں ہے نا۔” پیٹرا مسلمانوں کے بارے میں کچھ کچھ جانتی تھی۔

گفتگو اسی سمت جاتی لگ رہی تھی جیسی کچھ دیر پہلے کیرل کے ساتھ ہوئی تھی۔ ۔۔۔ ایک ہی دن میں ایک ہی موضوع پہ دوسری بار گفتگو۔۔۔۔۔۔۔ معلوم نہیں صبح اٹھ کے کس کی شکل دیکھی تھی اس نے سوچا۔

” ہماری سوسائٹی اتنی آزاد خیال نہیں ہے۔ ۔ ہمارے ہاں شادیاں ہوتی ہیں۔ ۔”

"تو تمہیں جو لڑکا پسند ہوگا تم اس سے شادی کر لو گی۔ ” روزا نے دریافت کیا۔

"ہمارے والدین رشتہ طے کرتے ہیں۔۔۔ جہاں میرے والدین مجھے شادی کرنے کے لئے کہیں گے۔ میں وہیں شادی کر لوں گی۔”

"واٹ ربش۔۔۔” جنیفر کو یہ بات اتنی عجیب لگی کہ وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی۔ ۔۔۔ "اگر میرے والدین میرے ساتھ ایسا کریں تو میں انہیں قتل کر دوں۔”

جنیفر کے ساتھ ساتھ روزا اور پیٹرا کے لئے بھی ارینجڈ شادی کا تصور خوش کن نہیں تھا ایسا کام جو وہ اپنے لئے کبھی پسند نہ کرتیں۔ ۔ کچھ دیر پہلے تک میز پہ کیپٹن جیک اسپیرو اور اس کی نئی فلم زیر بحث تھی لیکن یہ واضح تھا کہ اب دیر گئے تک موضوع گفتگو "وہ” ہی ہونے والی تھی، کیپٹن جیک اسپیرو نہیں۔ ۔ ڈنر بہت طویل ہو گیا تھا۔۔۔ گرلڈ سالمن نے اپنی اشتہا کھو دی تھی۔ حلق سےاتارنے کے لئے اسے پیپسی کی مدد لینی پڑی۔ ڈائننگ ہال کی مدھم روشنیاں مزید مدہم ہو گئی تھیں اسے اپنے ارد گرد سائے بڑھتے محسوس ہوئے۔ ۔

” تمہیں شادی سے پہلے اپنے شوہر سے ملنے کی اجازت ہے؟۔”پیٹرا نے اس سے پوچھا۔

وہ اندازہ کر سکتی تھی کہ ان کے ذہنوں میں اس کا کیا تاثر ہے۔ میڈیا کی بدولت دنیا بھر میں پاکستان کا تصور پتھر کے زمانے میں رہنے والی قوم جیسا تھا۔ ایک ایسا ملک جہاں عورتوں کے ساتھ بھیڑ بکریوں کی طرح سلوک ہوتا ہے۔ جدھر چاہا ہنکا دیا گیا۔ انہیں اپنی پسند سے زندگی گزارنے کا اختیار بھی نہیں دیا جاتا۔ اور وہ انہی بھیڑ بکریوں میں سے ایک تھی۔۔۔۔۔۔ ‘بے چاری پاکستانی لڑکی۔‘

"ہاں اور اگر مجھے وہ پسند نہ آئے تو میں شادی کے لئے منع بھی کر سکتی ہوں۔” اس نے حتی الامکان اپنا لہجہ برقرار رکھتے ہوئے کہا۔ ۔ اور اپنے سامنے رکھی پلیٹ میں بلا وجہ کانٹا پھیرنے لگی۔

اس کےجواب سے جنیفر کو کچھ حوصلہ ہوا۔ "کیا تم اس کو کِس کر سکتی ہو۔” اس نے اپنی طرف سے بےحد بےضرر بات دریافت کی تھی۔

” نہیں۔۔۔ اس کی اجازت نہیں۔۔۔” اس نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔۔۔

"تمہیں نہیں معلوم تم کیا مِس کر رہی ہو۔” جنیفر کے لہجے میں اس کے لئے تاسف تھا۔

‘ناٹ اگین پلیز۔۔‘ اس نے دل میں سوچا۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

حصہ دوم

Advertisements

4 comments on “سراب ۔۔۔ حصہ اول

  1. پنگ بیک: سراب ۔۔۔ حصہ اول | Tea Break

  2. پنگ بیک: سراب۔۔۔ آخری حصہ « سمارا کا بلاگ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s