سراب۔۔۔ آخری حصہ

حصہ اول

"”تم لوگوں کا شادی کے بارے میں کیا خیال ہے۔ کوئی ارادہ ہے یا ایسے ہی زندگی انجوائے کرنی ہے بنا کسی ٹینشن کے۔” پیپسی کا گھونٹ لیتے ہوئے اس نے کہا۔

"” کم از کم اگلے کچھ سالوں تک تو بالکل نہیں۔ شادی کے بغیر ہی سب کچھ آرام سے چل رہا ہے” جینیفر نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا، "ہو سکتا ہے کچھ سالوں بعد میں شادی کر ہی لوں۔ ۔۔لیکن وہ رجسٹرڈ میرج ہوگی۔ میں سفید لباس پہن کے چرچ میں کے شادی نہیں کروں گی۔”

"کیوں۔” اس نے پوچھا حالانکہ جواب اس کی توقع کے عین مطابق تھا۔ یہ ان کے معاشرے میں عام بات تھی۔

"سفید رنگ پاکیزگی کا نشان ہے۔ ایسا رنگ جو دنیا کی گندگی سے آلودہ نہ ہوا ہو۔ ۔ دلہن کا سفید لباس پہن کر چرچ جانے کا مطلب ہے کہ وہ بائبل میں بتائے ہوئے طریقے کے مطابق بالکل خالص ہے اور اپنا خالص پن اپنے شوہر کو پیش کرے گی۔۔۔۔ اور میں یہ جانتی ہوں کہ میں کنواری نہیں ہوں۔۔۔۔ ” جینیفر کا جواب حیرت انگیز طور پر مختلف تھا۔ انتہائی آزاد اور خود مختار زندگی گزارنے کے باوجود اس کے اندر کہیں نہ کہیں غلط ہونے کا احساس موجود تھا اور اس بات کا اسے خود بھی علم نہیں تھا۔

” میری اپنے بوائے فرینڈ سے پچھلے سال علیحدگی ہو گئی۔ ۔۔ وہ کہیں اور چلا گیا ہے۔۔۔ کسی دوسرے ملک میں۔ ۔۔۔ پھر میں نے بھی اپنی تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ تاکہ خود کو سیٹل کر سکوں۔ سیٹل ہوئے بغیر تو میں شادی یا بچوں کا نہیں سوچ سکتی۔” روزا نے بتایا۔

"سیٹل ہونا ضروری ہے کیا۔۔۔ وہ تو تم شادی کے بعد ہو ہی جاؤ گی۔” اس نے روزا سے دریافت کیا۔

"ہاں۔۔۔ ورنہ میں اس پر بوجھ بن جاؤں گی۔”

"بوجھ۔۔۔۔۔؟”کیا بیوی بھی شوہر پر بوجھ ہو سکتی ہے۔ یہ تصور اس کے لئے نیا تھا۔ ۔ "مجھے دیکھو، میں یہاں جو اتنی دور پڑھنے آئی ہوں یہ صرف اپنے لئے ہے۔ اس کا مقصد نوکری حاصل کرنا نہیں ہے۔۔۔ ہو سکتا ہے میں نوکری بھی کر لوں لیکن یہ میرا شوق ہوگا مجبوری نہیں۔ ۔۔شادی کے بعد میں اپنے شوہر کے گھر میں رہوں گی۔ اس کی اور بچوں کی دیکھ بھال کروں گی۔ ” اس نے وضاحت کی۔

"تم خوش قسمت ہو۔۔۔ لیکن اپنے بچے کے لئے مجھے خود جاب کرنی پڑے گی۔ ورنہ میں اس کو پال نہیں سکوں گی۔”

"ہمارے ہاں ساری عورتیں خوش قسمت ہوتی ہیں۔۔۔ کیونکہ زیادہ تر مرد ہی جاب کرتے ہیں۔ گھر بچوں اور خرچے کی ذمہ داری شوہر کی ہی ہوتی ہے۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ” لیکن بچہ تمہارا اکیلا تو نہیں ہوگا۔۔۔ دونوں کا ہوگا۔۔ بچے کے خرچے میں تو تمہارے بوائے فرینڈ کو بھی شئیر ڈالنا چاہئے۔”

"ہاں بچے کے لئے تو وہ رقم دے گا لیکن اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے تو خود ہی نوکری کرنی پڑے گی۔ جنیفر نے روزا کی تائید کی۔

"بچے کے اخراجات میں مجھے بھی حصہ ڈالنا ہوگا۔ ۔۔۔۔ مجھے بچے بہت اچھے لگتے ہیں۔ لیکن جب میرے بچے ہوں گے تب بھی میں کسی دفتر میں بیٹھی کام کر رہی ہوں گی۔ اور وہ ڈے کئر میں کسی آیا کے ہاتھوں میں پرورش پا رہے ہوں گے۔۔۔ کیونکہ میرے پاس اتنی بچت نہیں ہے کہ میں خود کو اور اپنے بچے کو افورڈ کر سکوں۔” روزا نے اپنی صورتحال بتائی۔

"ہمارے معاشرے میں عورتوں کو ان پریشانیوں کی فکر نہیں کرنی پڑتی۔ یہ حساب کتاب کہ پہلے بچت ہو پھر شادی کی جائے یا بچے پیدا کئے جائیں۔ یہ سب معاملات ہمارے ہاں نہیں ہوتے۔ گھر، بیوی اور بچوں کا خرچہ مہیا کرنا شوہر کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اور بیوی گھر، بچوں اور میاں کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ اگر سب اپنا اپنا ہی کرنے لگیں تو پھر تو بہت مشکل ہو جائے۔ سارا بوجھ ایک شخص اکیلے کب تک اٹھا کے چلے، ذمہ داریاں تقسیم ہوں تو زندگی میں سہولت آ جاتی ہے۔ کم از کم ہمارے معاشرے میں یہی نظام ہے اور بہت کامیابی سے چل بھی رہا ہے۔ اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے سب کام کرتے ہیں۔ شوہر اپنی بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہے اور جواب میں بیوی اس کا اور گھر کا خیال کرتی ہے۔اس سے آپس میں بھروسہ اور محبت بڑھتی ہےاور خوشی کا احساس بھی پیدا ہوتا ہے۔ ۔ "اب وہ تفصیلی جواب دے رہی تھی یہ سوچے بغیر کہ اس کی باتوں سے ناجانے وہ اسلام، پاکستان اور خود اس کے بارے میں کیا تاثر لیں گی۔گرلڈ سالمن کا ذائقہ واپس آ گیا تھا۔ ہال میں روشنی بڑھ گئی تھی۔

لیکن میز پر خاموشی چھا گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔

” کیا سارے پاکستانی مرد ایسے ہوتے ہیں۔” پیٹرا کی آواز اسے کہیں دور سے آتی ہوئی لگی۔

"”ہاں اسی فیصد سے زیادہ شوہر ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ۔۔۔

"تم بھی واپس جا کے شادی کر لو گی۔ اور اپنے بچوں کی پرورش کرو گی۔” روزا کے لہجے میں حسرت تھی۔۔

"ایکسکیوز می۔” پیٹرا نے اپنے موبائل پہ آتی ہوئی کال اٹینڈ کرتے ہوئے کہا اور ٹیبل سے اٹھ گئی۔

"تم بھی کسی پاکستانی سے کیوں نہیں شادی کر لیتیں۔” اس نے مشورہ دیا۔

"کیا ایسا ہو سکتا ہے۔”

"ہاں کیوں نہیں۔ ۔ کیا معلوم کوئی پاکستانی لڑکا تمہیں پسند کر ہی لے۔”

"میری بلڈنگ میں پال رہتا ہے اس کا ایک پاکستانی دوست بھی ہے۔” شاید وہ مجھے پسند کر لے۔۔۔روزا نے سوچتے ہو‌‎‎‎ۓ کہا۔ اس لمحے وہ اسے بے حد معصوم لگی۔ اپنی تمام تر آزادی اور حقوق کے باوجود بھی وہ اپنے مستقبل کے بارے میں غیر محفوظ اور بے یقین تھی۔ اسے جو چاہئے تھا وہ اس کا معاشرہ دینے کو تیار نہ تھا۔ اس کے لئے اس نے اپنے دل میں ہمدردی محسوس کی۔اس نے غور سے اسے دیکھا۔ سلیقے سے ہوئے میک اپ میں وہ دلکش لگ رہی تھی۔ اس کے نقوش بالکل عام سے تھے لیکن اس کی خوبصورتی پاکستانی معیار کی تھی۔۔۔۔ وہ ‘گوری’ تھی، رنگت میں بھی اور نسلاً بھی۔

"اسے اس پاکستانی ڈرائیور کا خیال آیا جس کی ٹیکسی میں وہ ایر پورٹ سے آئی تھی۔ جس نے اسے اپنے بارے میں بتایا تھا کہ اس نے یہاں شادی کی ہوئی ہے۔ شہریت ملتے ہی وہ اپنی بیوی کو طلاق دے کے پاکستانی بیوی کو بلوا لے گا۔۔۔سارا وقتڈالر اور اپنے مفاد کی باتیں کرنے والا ٹیکسی ڈرائیور اس کو منزل پہ اتارتے ہوئے یہ کہنا نہیں بھولا تھا "باجی! آپ یہاں نئی ہیں۔۔۔ اکیلی ہیں۔۔۔۔ اگر کبھی بھی کسی مدد کی ضرورت ہو تو اپنے اس بھائی کو یاد رکھنا۔” وہ عمر اور تجربے دونوں میں اس سے کم تھی لیکن جانتی تھی کہ اس نے سچ کہا ہے۔۔۔مدد کے لئے وہ اسے بلا سکتی تھی۔

اسے پاکستانی مردوں کے ذمہ دار ہونے میں کوئی شک نہیں تھا۔ لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اگر روزا کو کوئی پاکستانی مل بھی گیا تو بھی اس کی زندگی اور سہولتوں کے حقوق صرف اس عورت کو حاصل ہوں گے جو خاندانی بیوی ہوگی اور اس کی ماں کی مرضی سے اس کی زندگی میں آئے گی۔ اس کے ساتھ ٹشو پیپر جیسا ہی سلوک ہوگا۔ مطلب پورا ہوتے ہی اسے واپس انہی راہوں میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیا جائے گا جہاں وہ ابھی بھی موجود تھی۔ ۔ ۔ اسے اس پر ترس آیا وہ ایسی دلدل میں پھنسی ہوئی تھی جس سے باہر نکالنے کے لئے کوئی مسیحا موجود نہیں تھا اور نہ ہی آنے والا تھا۔ جس دشت کی وہ رہنے والی تھی وہاں چاروں طرف سراب ہی سراب بکھرے تھے۔ مٹھی بند کرنے پر ہاتھ میں صرف پھسلنے والے ریت ہی آتی تھی۔

"میں اب چلوں گی۔” پیٹرا نے واپس آتے ہوئے کہا۔ فارمل ڈنر ختم ہو گیا تھا۔ لوگ اب ڈرنک اور ڈانس میں مصروف تھے۔ ” ماما کا فون تھا۔ میں میری کے پاس انہیں چھوڑ کے آئی تھی۔ انہوں نے کہا تھا وہ دو گھنٹے سے زیادہ نہیں رکیں گی۔”

میری، پیٹرا کی دو سالہ بیٹی تھی۔ اس کا بوائے فرینڈ دوسرے شہر میں کام کرتا تھا اور ایک ہفتہ چھوڑ کے چکر لگاتا تھا۔ ۔ میری کی ساری ذمہ داری پیٹرا پہ ہی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ ڈنر کے اختتام پہ باہر نکلنے والی وہ پہلی لڑکی ہوگی لیکن پیٹرا نے سب سے پہلے جانے کا سندیس دے کر اسے یہاں بھی حیران اور غلط ثابت کر دیا تھا۔۔ اس نے پیٹرا کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر ہلکی سی تھکان کے آثار تھے جسے میک اپ سے چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی گئی تھی۔ ۔۔ بالوں کی چکنائی بتا رہی تھی کہ انہیں کئی دنوں سے دھویا نہیں گیا۔ ۔۔۔۔ ڈنر کے لئے جہاں اس سمیت سب شرکاء ہی اپنی طرف سے اچھی تیاری کرکے آئے تھے وہاں وہ ایسے ہی چلی آئی تھی۔۔۔

"میں بھی چلتی ہوں۔” ایک لمبی سانس لیتے ہوئے اس نے کہا۔
٭٭٭٭٭
"ہائے ڈئیر!”

اس نے آواز کی سمت گھوم کر دیکھا۔۔۔ کرس اس کی طرف دیکھ کے ہاتھ ہلا رہا تھا۔وہ اکیلا تھا، کیرل اس کے ساتھ نہیں تھی۔

” میں تمہارے ہی باہر آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ ۔ ۔۔۔ ۔ کیرل کا خیال غلط تھا کہ تمیں کوئی پسند نہیں کرے گا۔۔۔۔ مجھ سے پوچھو جب سے تمہیں دیکھا ہے کیرل کی چاہت ختم ہو گئی ہے۔ ۔۔۔پھر میری دوست بننے کے بارے میں کیا خیال ہے۔” اس نے دوستانہ انداز میں اس کی طرف بڑھتے ہوۓ پوچھا۔

"اگر کیرل نے یہ کہا تھا کہ مجھے کوئی پسند نہیں کرے گا تو میری خواہش بھی یہی ہے کہ کوئی میری طرف متوجہ نہ ہو۔ ۔۔۔ میرا جواب "نہیں” ہے۔” اس نےدوسری طرف تیز تیز قدم بڑھاتے ہوئے کہا ۔اسے واپس جا کے کیرل کو دلاسہ بھی دینا تھا۔
٭٭٭٭٭

وہ خاموشی سے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔روشنیاں بجھی ہوئی تھیںصرف نائٹ لیمپ جل رہا تھا۔ ۔۔ لیکن کیرل جاگ رہی تھی۔۔۔

"صرف تمہاری وجہ سے۔۔۔۔”

اتنا کہہ کر کیرل نے منہ دوسری طرف کر لیا۔ کیرل کے ادھورے جملے کے معانی و مطلب وہ اچھی طرح سمجھتی تھی۔ ۔اسے کیرل سے ہمدردی محسوس ہوئی۔۔۔ اس کا دوست بھی ریت جیسا تھا۔ اور ریت کے گھروندے دیر پا نہیں ہوتے۔ ان میں رہا نہیں جا سکتا۔وہ سائباں نہیں بنتے۔ ان سے چھاؤں کی امید نہیں کی جا سکتی۔ وہ وقتی خوشی تو دیتے ہیں لیکن ان میں مضبوطی نہیں ہوتی۔ سہارا بننے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔

"مجھے افسوس ہے۔ میری ایسی خواہش نہیں تھی۔۔ لیکن وہ ہی تمہارے قابل نہیں تھا۔” اس نے کیرل سے کہا۔

وہ جان گئی تھی کہ شخصی آزادی اور تمام تر حقوق کے باوجود بھی اس معاشرے کے لوگ بھی عام انسان تھے۔ اسی جیسی خوشیوں، تکلیفوں، غم، پریشانیوں، فکروں، ذمہ داریوں کے ساتھ۔ چند ہی گھنٹوں میں اس نے خود ترسی سے لے کر دوسروں کے لئے ہمدردی، ترس جیسے احساسات اور ا ن کی تکلیف محسوس کی تھی ۔ ۔۔۔ اس کی نظروں کے سامنےسے جیسے کوئی پردہ ہٹ گیا تھا۔ جس معاشرے کو اس نے کسی سنگھاسن پر بٹھایا ہوا تھا۔۔۔ پردہ اٹھنے پر وہ اسے اپنے برابر ہی محسوس ہوا۔ ساری چمک دمک، چکاچوند روشنیاں سب کچھ سراب تھا۔ بس اتنی سی تو بات تھی اسے ہی سمجھنے میں دیر لگی۔ کمرے کی خاموشی میں کیرل کی ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز آ رہی تھی۔

ختم شد۔

Advertisements

4 comments on “سراب۔۔۔ آخری حصہ

  1. پنگ بیک: سراب۔۔۔ آخری حصہ | Tea Break

  2. پنگ بیک: سراب ۔۔۔ حصہ اول « سمارا کا بلاگ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s