یہ ہے میرا پاکستان

یہ ہے میرا پاکستان

لگ جا گلے کہ پھر یہ حسین رات ہو نہ ہو
شاید پھر اس جنم میں ملاقات ہو نہ ہو
لگ جا گلے۔۔۔۔۔۔

میں اپنے آٹھ ضرب دس کے کیبن میں بیٹھا، کانوں پہ ہیڈ فون لگائے کام میں مصروف تھا۔ ۔۔۔ میرے بالکل سامنے کمپیوٹر پر مختلف فائلیں کھلی ہوئی تھیں کہ سائڈ پہ رکھے ہوئے موبائل فون کی اسکرین روشن ہوئی۔ میں نے اس پہ چمکتا ہوا نام دیکھا اور کال ریسیو کر لی۔

"السلام علیکم ابو۔”
"وعلیکم السلام سجاد بیٹا، کیسے ہو۔۔؟”
"بالکل ٹھیک ہوں ابو۔ آپ کی طبیعیت کیسی ہے۔۔۔۔۔۔۔ پیسے میں نے بھجوا دئے تھے آپ کو مل گئے۔۔”
"ہاں مل گئے ہیں۔۔۔ بہت شکریہ۔”
"شکرئے کی کیا بات ہے ابو جی، یہ آپ کیسی غیروں جیسی باتیں کر رہے ہیں۔”
"شکرئے کی بات تو ہے نا بیٹا ۔۔۔ اگر میں غیروں جیسی بات کر رہا ہوں تو، تو ہی اپنوں جیسی بات کرکے دکھا دے ۔”
” میں تو اپنوں والی ہی بات کر رہا ہوں ابو۔۔۔ ۔”
"تو سب جانتا ہے، پھر مانتا کیوں نہیں۔”
"آپ بھی تو اپنی ضد پہ اٹکے ہوئے ہیں۔”
"کیسی ضد بیٹا۔۔۔ اپنے وطن میں مرنے کی خواہش کرنا، ضد کب سے ہو گیا۔۔۔ ساری زندگی میں نے وہاں گزاری ہے۔۔۔ اس کا اور میرا ایک رشتہ ہے۔ اب آخری عمر میں، میں بے وفائی نہیں کر سکتا۔”
"چھوڑیں ابو۔۔۔ آپ بھی کیا بات کرتے ہیں۔۔۔ وہاں ہے ہی کیا جس وجہ سے آپ وہیں رہنے پہ مصر ہیں۔ غربت، مہنگائی، بدعنوانی، لاقانونیت، انتہا پسندی، دھماکے، دہشت گردی۔۔۔۔۔ میں کہاں تک گنواؤں۔ وہاں تو ایک دن کی زندگی کی بھی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔ صبح گھر سے نکلنے والے کو یہ بھی علم نہیں کہ وہ شام کو زندہ گھر واپس جا بھی سکے گا یا نہیں۔”
"”جہاں تو رہتا ہے وہاں انسانی زندگی کی گارنٹی ہے؟۔۔۔ کیا تو گارنٹی دے سکتا ہے کہ تجھے موت نہیں آئے گی؟۔”
"موت تو سب کو ہی آنی ہے ابو۔۔۔ لیکن کم از کم یہاں ویسی موت نہیں ہے جیسی پاکستان میں ہوتی ہے۔ یہاں اگر کوئی ایکسیڈنٹ ہو جائے تو ایمبولینس منٹوں میں پہنچ جاتی ہے۔۔ پاکستان کی طرح نہیں کہ زخمی سڑک پہ ہی ایڑیاں رگڑتے رگڑتے مر جائے۔ کم از کم یہاں یہ تسلی تو ہے کہ مدد مل جائے گی۔ دیکھ بھال کرنے والے لوگ موجود ہوں گے۔۔ بےیار و مددگار تو نہیں پڑا رہوں گا۔”
"بس کر پتر۔۔۔ یہ کون تجھے ایسی باتیں بتاتا رہتا ہے۔۔ تو ساری زندگی یہاں رہا ہے کتنی دفعہ تو نے سڑک پہ ایڑیاں رگڑی ہیں۔۔۔؟”
"میرے بس کرنے سے حقیقت تو نہیں بدل جائے گی ابو۔۔۔ آپ اخبارات، ٹی وی دیکھ لیں۔ ”
"چھوڑ اس بحث کو، یہ تو کبھی ختم نہیں ہوگی۔ یہ بتا کہ واپس کب آ رہا ہے۔؟”
"بہت مشکل ہے ابو ۔۔۔ پچھلی دفعہ بچے آتے ساتھ ہی بیمار ہو گئے تھے اور اب وہ کہتے ہیں،”ڈیڈی! نو پاکستان۔” عظمیٰ کا بھی یہی خیال ہے کہ چھٹیاں پاکستان جانے میں ضائع نہ کی جائیں۔”
"اور تو۔۔۔۔۔؟ تو کیا کہتا ہے۔”
"اس سال تو بچوں سے پیرس گھمانے کا وعدہ کیا ہوا ہے ابو جی۔۔۔ اگلے سال دیکھوں گا اگر عظمیٰ مان گئی تو شاید۔۔۔۔”
"اچھا چل جیسے تیری مرضی۔۔ خوش رہ۔۔۔بہو اور بچوں کو دعا کہنا میری طرف سے۔۔۔ رب راکھا۔”
"بائے۔” اور میں بھی کمپیوٹر کی طرف متوجہ ہو گیا۔
*****

دفتر سے گھر واپس آتے ہوئے لا شعوری طور پر میرا دھیان پاکستان کی طرف چلا گیا۔ ایسا نہیں تھا کہ مجھے پاکستان سے نفرت تھی۔ لیکن یہ بھی سچ تھا کہ محبت بھی نہیں تھی۔ میں سمجھتا تھا کہ ہر انسان کو حق ہے کہ وہ اپنا معیار زندگی بہتر کرنے کے لئے کوشش کرے۔ اور اس کے لئے اگر پاکستان میں مواقع نہیں تو میری نظر میں باہر چلے جانے میں کوئی حرج نہیں تھا۔

میں آخری دفعہ آٹھ سال پہلے امی کے انتقال کے موقع پہ پاکستان گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔ بچوں کا وہ پاکستان کا پہلا ٹرپ تھا۔ وہاں جاتے ساتھ ہی وہ بیمار ہو گئے تھے جس کی وجہ سے مجھے بہت جلد واپس آنا پڑا تھا۔ ابو پاکستان میں ہی رہ گئے تھے۔ وہ بڑھاپے میں ملک چھوڑ کر اپنی زمین سے بےوفائی نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔۔ ان کی وہاں یادیں تھیں۔۔ ان پہ مٹی کا قرض تھا۔۔ وہ وہیں رہنا چاہتے تھے اس لئے میرے لاکھ زور لگانے کے باوجود بھی وہ میرے ساتھ آنے پر رضامند نہیں ہوئے۔ مجھے ان کی اس خواہش سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ یہ ان کا اپنا فیصلہ تھا۔ جس طرح مجھے اپنی مرضی سے باہر رہنے کا حق تھا ویسے ہی یہ حق ابو جی کے پاس بھی تھا کہ وہ جہاں رہنا چاہیں وہیں رہیں۔ ان کی صحت اچھی تھی اور دیکھ بھال کرنے کے لئے میرے چچا کی فیملی بھی موجود تھی۔ اس لئے پریشانی کی کوئی بات بھی نہیں تھی۔ لیکن میرا مسئلہ یہ تھا کہ ہر دوسرے فون پہ ابا جی مجھے واپس بلانے کا ورد شروع کر دیتے تھے۔ میں ان کی بات ٹالنا نہیں چاہتا تھا لیکن سچی بات تو یہ تھی کہ میں باہر کی سہولتوں اور آسانیوں کا اتنا عادی ہو چکا تھا کہ اب پاکستان واپس جا کے ان آسائشات کے بغیر رہنے کا تصور ہی میرے لئے ہولناک تھا۔۔۔ آئے دن ہونے والے دھماکوں، آتش زدگی اور حادثوں کی خبروں نے سونے پہ سہاگہ کا کام کیا تھا ۔۔۔حقیقت یہ تھی کہ میں اب پاکستان جانے سے خوفزدہ تھا۔۔۔بےحد خوفزدہ۔

میں انہی سوچوں میں تھا کہ اچانک ہائی وے پہ میرے سامنے چلتی ہوئی گاڑی بےقابو ہو کر دوسری لین میں چلتے ٹرالر سے جا ٹکرائی۔ میں نے گاڑی روک لی اور باہر اتر آیا۔ ڈرائیور بری طرح زخمی ہو گیا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ اس کا بچنا مشکل ہے۔ ٹرالر والے نے ریسکیو والوں کو فون کر دیا اور پھر سڑک کے کنارے کھڑے ہو کے سگریٹ پینے لگا۔ کچھ ہی دیر میں ایمبولینس پہنچ گئی۔ ایمبولینس کے اسٹاف نے گاڑی کے اندر سے زخمی کو باہر نکالا اور ہاسپٹل کی طرف رونہ ہو گئے۔

یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں کہ اگلی دفعہ جب ابو کا فون آیا تو میں نے سب سے پہلے انہیں یہی واقعہ سنایا تھا کہ کس طرح ایک فون کال پہ ایمبولینس آ موجود ہوئی ۔ آخر میرے پاس اپنا پوائنٹ ثابت کرنے کے لئے ایک اچھی دلیل جو آ گئی تھی ۔ ۔۔اور ساتھ ہی یہ بھی جتا دیا کہ اگر ایسا پاکستان میں ہوتا تو وہاں کتنے گھنٹوں میں ایمبولینس پہنچتی اور پہنچتی بھی یا نہیں۔ لیکن پوری گفتگو کے اختتام پہ میرا وہی ہمیشہ کا گھسا پٹا جملہ ہی تھا، "ابو جی، بہت ہوگئی، اب آپ یہاں آ ہی جائیں۔ کب تک پاکستان میں رہیں گے جہاں زندگی کا کچھ بھروسہ ہی نہیں۔”

وقت کا پہیہ چلتا رہا۔۔۔۔۔ میں اس دوران یورپ کی سیر اور ابو جی عمرہ کرکے آ چکے تھے۔ لیکن نہ تو میں پاکستان گیا تھا اور نہ ہی وہ میرے پاس آئے تھے ۔
*****

میں نے موبائل فون کو لاک کیا اور اسے دیکھتا رہا۔۔۔ مجھے احساس ہوا کہ میرے اردگرد بہت خاموشی ہے۔۔۔ ابھی میں ابو سے فون پہ بات کر رہا تھا۔۔۔ ہماری ہمیشہ ہونے والی گفتگوجاری تھی۔۔۔ لیکن کچھ عجیب ہوا تھا۔
"یہ بتا تو کب آ رہا ہے۔۔؟ بس آج بتا ہی دے۔۔۔” ابو جی نے مجھے زچ کر دیا تھا ۔

"بہت جلد ابو۔۔۔” میرے منہ سے نا جانے کیسے نکل گیا۔
"واقعی۔۔۔؟” ابو اتنا کہہ کر چپ ہو گئے تھے۔ شاید انہیں یقین نہیں آیا تھا۔ چپ تو میں بھی ہو گیا تھا۔ ناجانے کس رو میں یہ الفاظ میرے منہ سے نکل گئے تھے میرا تو ایسا کوئی ارادہ تھا ہی نہیں۔۔۔۔ میں نے کام کا بہانہ کرکے فون بند کر دیا۔

ایک گہری سانس لے کے میں نے اپنے آپ کو جمع کرنے کی کوشش کی تاکہ اپنے ان تین الفاظ پہ مشتمل جملے "بہت جلد ابو۔۔۔” کی کچھ وضاحت سمجھ سکوں۔۔۔ آخر یہ میں نے کیسے کہہ دیا کہ میں بہت جلد آ رہا ہوں۔۔۔ لیکن میں کہہ چکا تھا اور اب مجھے پاکستان جانا ہی تھا۔
*****

ایک ہفتے کے بعد میری فلائٹ پاکستان کی طرف رواں دواں تھی۔۔۔ میں پاکستان واپس آنے کی بے یقینی میں مبتلا تھا۔۔۔ کوفت اور جھنجھلاہٹ نے میرا احاطہ کیا ہوا تھا۔۔ میں پاکستان جا تو رہا تھا لیکن وہاں جانا نہیں چاہتا تھا۔ پاکستان سے آنے والی پریشان کن میڈیا رپورٹس، خبریں، تجزئے میرے ذہن میں گھوم رہے تھے۔ "میں جلد از جلد واپس آ جاؤں گا۔” میں خود کو بار بار تسلی دے رہا تھا۔ میں کسی دھماکے یا حادثے کا نشانہ نہیں بننا چاہتا تھا۔
****

ایر پورٹ پہ ابوجی اور میرا چچا زاد بھائی اکمل موجود تھے۔ ابو نے آگے بڑھ کر مجھے گلے لگا لیا۔۔۔ مجھے بھی اپنے اندر ویسی ہی گرمجوشی محسوس ہوئی جیسی ابو کے معانقے میں تھی۔ ۔ ان کی خوشی چہرے سے چھلک رہی تھی۔ میرا چہرا ان کے ہاتھوں میں تھا۔ وہ بار بار مجھے چھو کر میرے ہونے کا یقین کر رہے تھے۔

"تیری صحت بہت اچھی ہو گئی ہے سجاد۔ جسم پہلے سے بھر گیا ہے۔”
"خالص غذاؤں کا اثر ہے ابو جی۔” میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

مجھے خود پہ حیرت ہوئی۔ کچھ دیر پہلے جہاز میں، میں جس ذہنی کیفیت کا شکار تھا اس کے بعد مجھے لگ رہا تھا کہ شاید میں کسی بات کا ٹھیک جواب بھی نہیں دے سکوں گا عین ممکن تھا کہ میں ابو جی سے الجھ جاتا اور یہاں یہ صورتحال تھی کہ میں مسکرا کر بات کر رہا تھا۔ وہ کوفت جو راستے بھر میرے ساتھ تھی، اب اس کا کہیں نام و نشان بھی نہیں تھا۔ میں بھی ابو جی سے مل کے اتنی ہی خوشی محسوس کر رہا تھا جتنی کہ وہ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے میں تیز دھوپ سے نکل کر کسی گھنے سائبان کے نیچے آ گیا ہوں۔

میں اکمل سے ملنے کے لئے بڑھا۔۔ اس کے چہرے پہ موجود داڑھی نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔۔ کہیں یہ انتہا پسندی کے چکروں میں تو نہیں پڑ رہا۔ لیکن اس کے چہرے پہ کسی سختی اور وحشت کے آثار نہیں تھے۔ ایک سکون تھا جیسے وہ بہت مطمئن ہو ہر چیز سے، اپنی زندگی سے۔

ائیر پورٹ سے باہر نکلتے ہی گرمی، دھوپ اور دھول میرے استقبال کو آ موجود ہوئے۔ سب کچھ ویسا ہی تھا یا پہلے سے زیادہ خراب ہو گیا تھا میں اس کا فیصلہ نہیں کر پایا تھا ۔۔ اپنے کالے چشموں کی عینک سے دیکھتے ہوئے مجھے پاکستان مزید تاریکی میں ڈوبا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔

” کتنی گرمی ہے۔۔۔ اے سی تیز کرنا۔” پاکستان کی فضاؤں میں سانس لیتے مجھے ابھی بمشکل پانچ منٹ ہی ہوئے تھے۔ ۔ اکمل نے مسکرا کر اے سی تیز کر دیا۔
"اور کیسی گزر رہی ہے زندگی اکمل۔” میں نے گفتگو کا آغاز کیا۔

"اللہ کا شکر ہے سجاد بھائی۔۔ مزے میں ہیں۔”
"مزے میں۔۔؟” مجھے حیرت ہوئی، بھلا پاکستان میں بھی کوئی مزے میں ہو سکتا تھا۔
"جی بالکل مزے میں۔۔۔ آپ کا کیا خیال ہے سجاد بھائی۔”
"اس سے کیا پوچھتے ہو۔۔ یہ تو یہی کہے گا کہ پاکستان کی زندگی بھی کوئی زندگی ہے۔۔۔۔ زندگی کیا ہوتی ہے یہ تو باہر جا کے پتا چلتا ہے۔”ابو جی نے میرے لہجے کی نقل اتارتے ہوئے کہا۔ ۔ مجھے ان کے انداز پہ ہنسی آ گئی۔
"میں نے غلط تو نہیں کہا۔ تو ایسی ہی باتیں تو کرتا ہے ۔۔ جو کچھ ٹی وی پہ دیکھتا ہے اسی کو سچ مان کر بولتا رہتا ہے۔”
"چھوڑیں ابو جی اس بحث کو۔۔ اب میں پاکستان میں ہوں نا۔۔۔ باقی باتیں رہنے دیں۔”

ابو جی پہلے کی نسبت کافی کمزور ہو گئے تھے۔ پچھلی دفعہ جب میں آیا تھا تب ان کی داڑھی میں کالے اور سفید بال ملے جلے تھے لیکن اب وہ مکمل سفید ہو چکی تھی۔سفید شلوار قمیض میں وہ بہت اجلے اجلے لگ رہے تھے اندرونی طور پہ بھی اور بیرونی طور پہ بھی۔

جگہ جگہ بنی ہوئی چیک پوسٹ اور پولیس کے ناکے اپنی جانب میری توجہ مبذول کروا رہے تھے۔ گویا میڈیا میں آنے والی خبریں اتنی بھی غلط نہیں تھیں۔ ۔ ہر ناکے سے گزرتے ہوئے میں خوفزدہ ہو جاتا اور چوکنے انداز میں ادھر ادھر دیکھنے لگتا کہ کہیں پاس ہی کوئی خود کش بمبار نہ چھپا ہوا ہو۔ میری ہر ممکن کوشش تھی کہ میرا اندرونی خوف ابوجی کی نطروں سے اوجھل رہے۔
*****

پاکستان میں میرا وقت اگر بہت اچھا نہیں گزر رہا تھا تو برا بھی ہرگز نہیں تھا۔ ابو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ایک بھرپور زندگی گزار رہے تھے۔ ان کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا اور ملنے والوں کا سلسلہ چلتا رہتا تھا۔ ۔ میں آہستہ آہستہ نامحسوس انداز میں سب کی توجہ اور محبتوں کا عادی ہوتا جا رہا تھا۔ اب میرے اور ابو کا دیرینہ اختلاف بھی گفتگو کا موضوع کم ہی بنتا تھا۔ بظاہر ایسا لگتا تھا کہ ہم دونوں نے دوسرے کے خیالات سے سمجھوتہ کر لیا ہے۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ میں اب اپنے خیالات پر پہلے جیسی سختی سے قائم نہیں تھا۔ میں ابو جی کا نقطہ نظر بھی سمجھنے لگا تھا۔پتھر میں شاید کہیں جونک لگ ہی گئی تھی۔

جوں جوں میری واپسی کے دن قریب آ رہے تھے ابو جی کے چہرے کی رونق مانند پڑتی جا رہی تھی۔اگرچہ وہ میری خوشی میں خوش نظر آنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن میں ان کی اندرونی کیفیات سے واقف تھا۔ ۔اس تمام قصے میں میرے لئے سب سے حیرت کی بات میرے اپنے چہرے سے غائب ہوتی ہوئی بشاشت تھی۔

مجھے پاکستان آئے ایک مہینہ ہونے والا تھا ۔ اس دوران کسی نے میرا موبائل چھیننے کی کوشش نہیں کی تھی۔ میری جیب بھی نہیں کٹی تھی۔ اور میں کسی حادثے سے بھی اب تک محفوظ رہا تھا۔ گویا ابو جی کی باتیں اتنی بھی غلط نہیں تھیں۔ دوسری طرف میرا دماغ مجھے بار بار سمجھا رہا تھا کہ محبتوں کے سہارے سے زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔ جو سہولتیں، آسائشیں باہر دستیاب ہیں پاکستان میں ان کا عشر عشیر بھی موجود نہیں ہے۔ اس دوسری سوچ کو میرے اندر زندہ رکھنے میں عظمیٰ اور بچوں کے باقاعدگی سے آنے والی فون کالز کا بڑا ہاتھ تھا۔۔۔ عظمیٰ نے اب میری جگہ لے لی تھی وہی سوال جو کبھی میں ابو جی سے کیا کرتا تھا اب وہ مجھ سے کہتی تھی۔

"بہت جلد۔” میرا ہر دفعہ کا جواب ہوتا تھا۔ اور یہ سچ بھی تھا کیونکہ میں ہمیشہ کے لئے تو آیا بھی نہیں تھا۔ ۔ ۔ بالآخر جتنی بددلی سے میں پاکستان آیا تھا اب اس سے کہیں زیادہ بددلی کے ساتھ واپسی کی تیاری کرنے لگا۔ میں اب اس جگہ جانے سے گھبرا رہا تھا جہاں دنیا کی ہر آسائش موجود تھی۔
*****

روانگی میں چند ہی دن رہ گئے تھے۔ عظمیٰ نے پاکستان سے کچھ چیزیں منگوائی تھیں اور مارے باندھے آج کل میں اسی خریداری میں مصروف تھا۔اکمل روز کی طرح ہمیں مال پہ چھوڑ کے چلا گیا تھا۔ ہم ایک مال دیکھنے کے بعد سڑک کراس کرکے دوسری طرف والے مال میں جانے لگےتھے۔ ۔ میں اپنی دھن میں آگے نکل گیا اور ابو جی وہیں سڑک کے کنارے کھڑے ایک پھل فروش کے پاس رک گئے۔ ۔میں نے واپس جانے سے پہلے ان سے آم کھانے کی فرمائش کی تھی۔ اچانک کوئی چیز آکے زور سے مجھ سے ٹکرائی اور میں سڑک پہ گر گیا۔۔۔میں نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہو سکا۔ ۔ میرے اردگرد لوگ اکھٹے ہونے لگے تھے۔ گویا آخر کار وہ ہو ہی گیا تھا جس کا اتنے دنوں سے دل میں خدشہ تھا۔

حادثہ۔۔۔میرا حادثہ۔۔۔ ۔ میری موت کا وقت آ گیا تھا۔

‘ مرنے کے وقت مرحوم سجاد عنایت اللہ کی عمر انتالیس سال تھی۔ ان کی موت ایک ٹرک سے ٹکرانے کے نتیجے میں ہوئی تھیحادثے کے بعد وہ کئی گھنٹوں تک سڑک پہ ہی پڑے رہے۔ ابتدائی طبی امداد کے بروقت نہ ملنے کی وجہ سے ان کی جان نہیں بچائی جا سکی اور جائے حادثہ پر ہی ان کا انتقال ہو گیا۔ ‘

یہ وہ تمام ممکنہ تفصیلات تھیں جو میری موت کے بعد عظمیٰ کو بتائی جانی تھیں۔ ۔۔۔میں نے آنکھیں موند لیں۔۔۔ وہ تمام خیالات جو میں وقتاً فوقتاً ابو کے ساتھ شئیر کرتا رہتا تھا میرے سامنے آ کھڑے ہوئے۔۔۔ سب سچ ثابت ہوگئے تھے۔۔۔ میرے سارے اندیشے سچ ثابت ہو گئے تھے۔۔۔ پاکستان کے بارے میں میری رائے اور تجزیہ غلط نہیں تھا۔۔اور مجھے یہ ابو کو بتانا تھا۔

‘ ابو۔۔۔ ابو۔۔۔ ‘

ابو کدھر تھے۔۔۔ وہ مال اسے نکلتے وقت میرے ساتھ ہی تھے لیکن اب کہاں تھے۔۔ میں نے انہیں ڈھونڈنے کے لئے اٹھنا چاہا لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔۔۔

کیا کسی نے ایمبولنس کے لئے فون کیا ہے۔۔؟

یا سب یہاں تماشہ دیکھنے ہی آ موجود ہوئے ہیں۔ ۔۔؟

ہاں تماشہ ہی دیکھنے کے لئے آئے ہیں۔۔۔ ۔

یہ پولیس کیس ہے اور اس معاملے میں کوئی ہاتھ نہیں ڈالے گا۔۔۔

میرے ذہن میں سوچوں کا جال بنتا جا رہا تھا۔

"سجاد۔۔۔سجاد۔۔۔”

مجھے جانی پہچانی آواز آئی۔۔۔ اور میں نے آنکھیں کھول دیں۔ ابو میرے پاس ہی سڑک پہ بیٹھے ہوئے میرے گال تھپتھپا رہے تھے۔۔۔ اسی وقت چند لوگ آگے بڑھے اور مجھے اٹھا کے ایک ویگن میں لٹا دیا۔ ابو جی نے میرا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔۔۔میں نے پھر سے آنکھیں موند لیں۔۔

گویا یہ وین ہی میری ایمبولینس تھی جو مجھے ہسپتال تک لے جانے والی تھی۔

اتنے بےہنگم ٹریفک میں۔۔۔؟

بنا کسی سائرن کے۔۔۔؟

دیکھیں میں کتنے گھنٹے میں، میں ہسپتال تک پہنچ پاتا ہوں۔۔؟

میرے لب خاموش تھے لیکن ذہن میں مسلسل خیالات کی آمد تھی۔۔۔ یہ وہ دلائل تھے جو میں ابو جی کو دینا چاہتا تھا انہیں بتانا چاہتا تھا کہ مجھے پاکستان بلا کے انہوں نے کتنی بڑی غلطی کی تھی۔

میری جان کو داؤ پر لگا دیا تھا اپنی معمولی سی ضد کے پیچھے۔۔۔

اس عمر میں وہ اپنے بیٹے کو قبر میں اتاریں گے۔۔۔۔ ۔

عظمیٰ بیوہ ہو جائے گی۔۔ ۔

میرے بچے یتیم ہو جائیں گے۔۔۔۔

"تجھے کچھ نہیں ہوگا سجاد۔۔۔۔” ابو جی نے مجھ پر کچھ پھونکتے ہوئے کہا۔۔۔ ۔ شاید انہیں میرے خیالات کا اندازہ ہو گیا تھا ۔۔۔میں نے آنکھیں کھول کے ان کے چہرے کی طرف دیکھا۔۔ وہ زیر لب دعاؤں کا ورد کر رہے تھے۔۔ ایک ہاتھ انہوں نے میرے ماتھے پہ رکھا ہوا تھا۔

اچانک مجھے احساس ہوا کہ اتنے رش کے باوجود میری ویگن انتہائی تیز رفتاری سے گزر رہی تھی۔ ایسے جیسے سڑک بالکل خالی ہو۔

"سڑک خالی ہے کیا ابو۔؟” میں نے بند آنکھوں سے پوچھا۔

"نہیں تو۔۔”

"پھر یہ وین اتنی تیز رفتار سے کیسے جا رہی ہے۔۔۔؟”

"دو بچے موٹر سائیکل پر آگے راستہ بناتے ہوئے جا رہے ہیں۔۔۔ اللہ انہیں خوش رکھے۔”

موٹر بائیک پہ ہماری ویگن کے آگے آگے دو نوجوان جا رہے تھے اور وہ سامنے سے آنے والے لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے رش میں راستہ بناتے جا ر ہے تھے۔ لوگ ان کی بات سن کر اپنی گاڑیاں اسی طرح سائڈ پہ کر رہے تھے جیسے واقعی کوئی تیز ہارن بجاتی ہوئی ایمبولینس گزر رہی ہو۔

مجھ پر رقت طاری ہوگئی۔

یہ موٹر بائک والے میرے کیا لگتے تھے جو وہ اس گرمی رش میں میرے لئے جگہ بنا رہے تھے۔۔۔؟

وہ کسی رفاحی ادارے کے کارکن نہیں تھے۔

انہیں اس مشقت کے کوئی پیسے نہیں ملنے تھے،

کوئی تنخواہ نہیں۔

کوئی صلہ نہیں سوائے میری اور ابو کی دعاؤں کے۔

اور یہ وین والا۔۔۔جس نے مجھے ہسپتال پہنچانے کے لئے اپنی تمام سواریاں اتار دی تھیں، سے میرا کیا ناطہ تھا۔۔۔؟

شاید مذہب کا۔۔۔؟

شاید قومیت کا ۔۔۔؟

پھر شاید انسانیت کا۔۔۔؟

ان میں سے کوئی بھی رشتہ ہوتا لیکن وہ پیسے کا رشتہ نہیں تھا بے لوث تھا۔۔ میرے خون سے اس کی گاڑی کی سیٹس خراب ہو گئیں تھی اور اب بغیر دھلے کے استعمال نہیں ہو سکتی تھی۔ یہ میں کیسے لوگوں کے درمیان تھا جو بنا کسی تعلق، مفاد کے اپنا سب کام چھوڑ کر میری مدد کرنے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔۔۔۔ بے لوث لوگ۔۔۔ایسے بے لوث لوگوں کا وجود ہی میرے لئے حیران کن تھا۔۔۔ میں عرصے سے ایک ایسے معاشرے میں رہتا رہا تھا جہاں مادی مفاد ہر چیز پر فوقیت رکھتا تھا۔۔۔ ۔میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

"بس ہم پہنچنے ہی والے ہیں۔۔۔” ابو جی کی مہربان آواز میرے کانوں میں آئی۔۔۔ شاید انہوں نے میری بند آنکھوں سے نکلتے ہوئے آنسوؤں کو دیکھ لیا تھا۔۔۔۔ میرا سر ابو جی کی گود میں تھا اور میں مسلسل ان کی دعاؤں کے حصار میں تھا۔۔۔ مجھے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہو رہی تھی۔۔۔ لیکن اگر میں باہر ہوتا تو تب کیا ہو رہا ہوتا۔۔ اس وقت میرا جسم اسٹریچر پر پڑا ہوتا بیلٹس کے ساتھ بندھا ہوا۔۔۔ ہر طرح کی حرکت سے محروم۔۔۔ میرے آنسو دیکھنے والا وہاں کوئی نہیں ہوتا۔۔دعائیں پڑھ کے پھونکے والا کوئی نہ ہوتا۔۔۔ ۔۔۔میں ان کے لئے ایک اسائنمنٹ ہوتا جس کو ہسپتال پہنچا کے وہ اپنی ذمہ داری سے آزاد ہو جاتے۔۔۔ اور بس۔۔ ۔ فرق یہاں تھا۔۔۔۔امداد تو مجھے یہاں بھی مل گئی تھی۔۔۔۔ لیکن یہ امداد بے لوث تھی۔۔ انسانیت کی بنیاد پہ تھی۔۔۔ زخمی ہونے والا کوئی بھی ہوتا۔۔۔۔اس کے پاس انشورنس ہوتی یا نہ ہوتی۔۔۔۔اس کو امداد دے دی جاتی۔

ٹھیک ہے پاکستان میں 911 نہیں ہے۔

یہاں فون کال پہ ایمبولینس نہیں آتی۔

لیکن یہاں تو امداد کے لئے فون کال کی ضرورت ہوتی بھی نہیں۔

دنیا میں ایمبولنس کا نظام ہو سکتا ہے لیکن یہاں امداد باہمی کا نظام ہے ۔

کوئی ادارہ نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ یہاں کوئی نظام نہیں۔۔نظام ہے یہاں بھی ہے۔۔ لیکن ایک مختلف نظام ۔ میرا حادثہ ہو گیا تھا اور وہ کہیں بھی ہو سکتا تھا۔ لیکن مجھے حادثے کے بعد ایڑیاں نہیں رگڑنی پڑی تھیں۔۔ میں بےیار و مددگار نہیں پڑا رہا تھا، میرے اردگرد دیکھ بھال کرنے والے موجود تھے۔ ۔۔۔ میرے اندر اطمینان اتر آیا۔۔۔ میں محفوظ ہاتھوں میں تھا، مہربان لوگوں کے پاس۔۔میں نے پھر سے آنکھیں موند لیں۔۔۔اور خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا۔ابو جی کو اب مجھے قائل کرنے کی ضرورت نہیں رہی تھی۔
****

Advertisements

9 comments on “یہ ہے میرا پاکستان

  1. پنگ بیک: یہ ہے میرا پاکستان | Tea Break

  2. حسب معمول ایک دل کو چھو لینے والی تحریر ہے .ترک وطن اور اس سے متعلقہ مسائل اب گھر گھر کا مسئلہ ہیں. یا اگر آپ مجھے اجازت دن تو میں کہوں گا کہ ہر گھر کے مسئلہ کا حل ہے. میں افسانہ میں موجود اس فضا اور اس کے مرکزی خیال سے تو متفق نہیں ہوں کیونکہ اگر معاملہ قریب المرگ والدین اور والدین سے ہزاروں میل دور پردیس میں بیٹھی اکلوتی اولاد کا نہ ہو تو اس افسانہ کی فضا کا اطلاق نہیں ہوتا. کردار میں چند تبدیلیاں کر لیجئے . مثلا ایک بھرا پرا گھر جس میں کئی افراد ہوں اور والدین صحت مند ہوں تو جذباتی فضا اس کے برعکس بھی ہوسکتی ہے. آج والدین کی بھی خواھشات ہیں بہن بھائیوں کے مستقبل کے معاملات ہیں. اگر ایک آدھ بچے کو ملک سے باہر بھیج کر باقی گھر والوں کے لئے آسودگی حاصل کی جاسکتی ہو تو اسے گھاٹے کا سودا نہیں سمجھا جاتا.
    مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ لوگوں میں آج بھی اچھائی موجود ہے. دوسروں کی مدد کا جذبہ کسی بھی قوم سے زیادہ ہے مگر بدقسمتی سے یہ چیز کافی نہیں.تارکین وطن کی بہت بڑی تعداد ملک سے باہر ہے اسکی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ سارے لوگ ملک اور اس کے نظام سے بیزار ہیں بلکہ ایک طرح سے جبری ملک بے دخلی کا شکار ہیں.
    ان تمام باتوں کےبا وجود افسانہ ایک نہایت عمدہ کوشش ہے اور افسانہ نگار جس طرح سے جذباتی کشمکش کو اجاگر کرتی ہیں اور تحریر جس طرح سے قاری کو اپنی طرف کھینچ کر رکھتی ہے وہ لائق تحسین ہے.

    • پسندیدگی اور تشریف آوری کے لئے بہت شکریہ۔ آپ کی بات درست ہے تصویر کا وہ پہلو بھی موجود ہے جس کی آپ نے نشاندہی کی ہے۔۔ ان شاء اللہ اس بارے میں کچھ لکھنے اور پیش کرنے کی کوشش کروں گی۔

    • بہت شکریہ۔۔ ہم سب کو مل کر اس مایوسی کا مقابلہ کرنا ہے جو ہماری رگوں میں بڑی تیزی سے اتاری جا رہی ہے۔

  3. میں سات سال سے انگلینڈ میں ہوں۔ میں کبھی پاکستان نہیں آنا چاہتا۔ جب بھی آیا دھوکا، دکھ اور تکلیف کے سوا کچھ نہیں ملا۔ اپنا ہو یا کوئی غیر، لوگوں میں ایمان سچائی انسانیت نہیں۔ کافر اور مشرک پاکستانیوں سے بہتر ۱نسان ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s