سرمئی رنگ۔۔۔ حصہ اول

سرمئی رنگ

سمارا

سفید۔۔۔ ۔سیاہ۔۔۔۔ سیاہ۔۔۔۔سفید۔۔۔ سفید۔۔۔ سیاہ۔۔۔
گردش لیل و نہار رک گئی تھی۔مظاہر فطرت ساکت ہو گئے تھے۔ ۔ بہتا پانی، تیز ہوا دم سادھے تھے ۔نہ کوئی صدا کانوں تک پہنچ رہی تھی نہ کوئی خیال اپنی طرف توجہ کھینچ رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ سدا سفر میں رہنے والا وقت کا قافلہ بھی ساکن تھا۔۔۔ ۔ ۔ ۔اگر کچھ حرکت میں تھا توبس آنکھوں میں لہراتے دو رنگ۔ ۔۔۔ سیاہ اور سفید۔
ایک لمحے پتلیوں کے سامنے مکمل روشنی چھا جاتی تو دوسرے ہی پل وہ اندھیرے میں پھیلنے لگتیں۔ دونوں رنگ، اس کے وجود پہ اپنا رنگ جمانے کی بھر پور کوشش کر رہے تھے۔ ۔ جیسے ہی سفید رنگ سیاہ رنگ پہ غالب آنے لگتا اسی سمے سیاہی، سفیدی کی جگہ لینے لگتی۔ ۔۔ ۔
یہی رنگ اس کے دل پہ بھی گر رہے تھے۔۔۔ لیکن اتنی گہرائی میں گرنے کے باوجود نہ ہی سیاہ رنگ یہ دعویٰ کر سکتا تھا کہ اس نے اپنے اندر سفیدی کو شامل کر لیا تھا اور نہ ہی سپیدی اپنے اندر کسی قسم کی سیاہی کو جگہ دینے کے لئے تیار تھی۔۔۔ رنگوں کا خالص پن بدستور برقرار تھا۔ ہر چیز پہ سکوت طاری تھا۔ ۔ بس ایک آواز آ رہی تھی۔۔۔ آرڈر۔۔۔ آرڈر۔۔۔ اور اس کے بعد انصاف کے ہتھوڑے کی ٹھک۔ ۔۔ ۔ ٹھک۔ ۔۔ ۔ ٹھک ۔ ۔۔ ۔۔
*****
اس کی دائیں آنکھ میں دیکھنے کی صلاحیت نہیں تھی لیکن یہ بات اس سمیت کوئی نہیں جانتا تھا۔ ۔ گھر میں بیٹے کی پیدائش کی خوشی تھی۔ ۔ ۔ دنیا میں اس کی آمد کے ساتویں دن اس کا نام عبدالرؤف رکھ دیا گیا۔
*****
سیدھی آنکھ سے نظر نہ آنے کے باعث عبدالرؤف پوری گردن گھما کے اس سمت دیکھا کرتا تھا۔ اس کا یوں گردن گھمانا دیکھنے والوں کو مضحکہ خیز لگتا تھا ۔ ۔ ۔ محلے کے بچے دائیں طرف سے آتے اور دھکا دے کے بھاگ جاتے۔۔۔۔۔ سنبھل کے اٹھنے پہ وہ سب سے پہلے اپنے مخصوص انداز میں گردن گھما کے دیکھتا تھا ،” مجھے کس نے گرایا ہے۔”۔ ۔
"کھی کھی کھی” بچے اس کے گردن گھماتے ساتھ ہی ہنس پڑتے اور نقل اتارنے لگ جاتے، "مجھے کس نے گرایا ہے”۔
عبد الرؤف کی دائیں آنکھ میں روشنی نہیں ہے، یہ راز ایک دن فاش ہونا ہی تھا سو ہو گیا۔ ۔ ۔ لیکن تب تک وہ دنیا کو ایک آنکھ سے دیکھنے کا عادی ہو چکا تھا۔
*****
اس تمام قصے میں عبدالرؤف کی ایک آنکھ سے نظر نہ آنا اصل بات نہیں۔ عبدالرؤف گرچہ کانا تھا لیکن رنگوں کا اندھا نہیں تھا۔ اس کے باوجود وہ ان کی قید میں تھا۔ ۔۔اس کے وجود سے باہر ایسے ان دیکھے پہرے لگے ہوئے تھے جو صرف مخصوص رنگوں کو اندر آنے کی اجازت دیتے تھے۔۔۔ ۔ ایسا فلٹر نصب تھا جو سفید اور سیاہ میں پہچان کرکے انہیں الگ کر دیتا تھا۔باقی تمام رنگ چھاننی کے دوسری طرف ہی رہ جاتے تھے۔ ایسا شیشہ لگا ہوا تھا جو بیک وقت آئینے کا کام بھی کرتا تھا اور عدسے کا بھی۔ عدسہ اپنے اندر سے صرف سفید اور سیاہ رنگ کو ہی گزرنے دیتا اور دیگر تمام رنگوں کو آئینہ منعکس کر دیتا ۔ یوں اس کے اندر، بہت اندر، ذات کی اتھاہ گہرائیوں تک صرف سیاہ اور سفید رنگ کو ہی رسائی حاصل ہو پاتی تھی۔
عبدالرؤف کی جسمانی خامی کا رنگوں کی قید سے کتنا تعلق تھا یہ بتانا مشکل ہے۔ لیکن یہ بات مسلم تھی کہ جس رنگوں بھری دنیا میں وہ موجود تھا اس کے معاملات جانچنے اور پرکھنے کے لئے اس کے پاس صرف دو ہی رنگ تھے۔ ۔ یہ معاملہ سیاہ سفید رنگوں تک محدود نہیں تھا۔ صحیح اور غلط کے تعین کا تھا۔۔ اچھائی اور برائی کے درمیان حد فاصل قائم کرنے کا تھا۔ ۔ ۔ ۔ اس کی زندگی کمپیوٹر کے بائنری کوڈ کی طرح تھی صفر اور ایک پہ مشتمل۔ ۔۔۔ ۔ زندگی میں یا تو سب صفر تھا یا پھر ایک۔۔۔۔ اور بس۔۔۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ ۔۔۔
زمین کے باسی اس کے افکار اور افعال سے لا علم تھے اور اگر وہ ان کے بارے میں جان جاتے تو شاید انہیں کتابی باتیں قرار دے دیتے۔ ۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ اصل بات یہ تھی کہ اس کی باتیں اور کام صحیح اور غلط کے دائرے میں قیدی تھے۔ ۔ اس کے اندر ہر معاملہ درست اور غلط کی کسوٹی پہ پرکھا جاتا تھا۔ ۔ پرکھنے کا یہ کلیہ بہت سادہ اور آسان تھا۔۔۔ صحیح کے لئے سفید اور غلط کے لئے سیاہ۔ ایمانداری، اصولوں کی پاسداری، سچائی ، حقوق و فرائض کی منصفانہ انجام دہی، سفیدی کے پلڑے میں وزن بڑھا دیتے تھے۔ اور بےایمانی، بے اصولی، جھوٹ، ناانصافی اپنے بوجھ سے سیاہی کے پلڑے کو جھکا دیتے تھے۔
ایسا کوئی بھی کام جو معاشرے میں کسی قسم کا انتشار پھیلانے کا باعث بنتا وہ اس کے دائرے میں سیاہی بکھیر دیتا ۔ ۔ معاملات اگر مروجہ اصولوں ضوابط کے بجائے سازش، مکاری، چال بازی اور دھوکا دہی کے طریقے استعمال کرکے حل کئے جاتے تو وہ اپنے ساتھ اندھیرا لیتے آتے۔۔۔ ۔
دنیا کے باشندے جہاں بے اصولی، جھوٹ، فریب وغیرہ دیکھنے کے عادی ہو چکے تھے اور ایک ایسی بےحسی کا شکار تھے کہ غلط ہوتے دیکھ کر بھی مدافعت نہیں کرتے تھے۔ ۔ برائی کو محسوس نہیں کرتے تھے۔۔۔ ۔۔۔ وہاں عبدالرؤف ہر معاملے میں درست یا غلط کا تعین کرتا اور صرف اسی راستے کو اپناتا جس کو عدالت میں سفید کا درجہ مل جاتا۔
‘Always go white’
کے اصول پہ اس کی زندگی کی گاڑی چل رہی تھی۔۔۔ انسانوں بھری اس بستی میں اپنی نوعیت کا وہ ایک واحد ہی تھا۔۔۔۔ اس کے وجود میں ایک آنکھ کم تھی لیکن تخلیق کرنے والے نے یہ آنکھ شاید باہر کی بجائے اندر لگا دی تھی۔ اور اب جہاں وہ موجود تھی وہاں سے وہ صرف سیاہ اور سفید دیکھنے پہ ہی قادر تھی۔۔ باقی رنگ اس کی رسائی سے باہر تھے۔
گوالا دودھ میں پانی ملاتا اور ایمانداری کے پلڑے کا وزن ہلکا ہونے کی بنا پر سیاہ پردہ چاروں طرف تن جاتا۔ اسی ناخالص دودھ کو خالص کہہ کر بیچنے کے جھوٹ سے ایک اور سیاہ چادر گوالے کے گردا گرد لپٹی نظر آتی۔۔
کسی باپ کو اپنے بچے کو اسکول سے لا تے یا چھوڑنے جاتا دیکھتا۔ تو فرائض کی انجام دہی پہ سفید رنگ اڑ کے اس کے دل پہ جا گرتا۔
کوئی گاڑی سگنل کی خلاف ورزی کرتی تو بے اصولی کا پلڑا جھکتا اور ڈرائیور سمیت سیاہی کے تالاب میں جا گرتا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
رنگوں کی یہ عدالت اس کے اندر ہر وقت لگی رہتی۔۔۔ مقدمات پیش ہوتے رہتے اور وہ کھٹا کھٹ ان پر سیاہ یا سفید مہر لگا کے فیصلہ کرتا جاتا۔سینکڑوں ہی مقدمات روزانہ نبٹائے جاتے۔ ۔ کبھی کوئی مقدمہ تاخیر کا شکار نہیں ہوا تھا۔ کسی بھی معاملے کو سفید یا سیاہ کی کیٹیگری میں ڈالنے میں مشکل نہیں ہوئی تھی۔۔۔
دنیا والے جہاں اس سلسلے سے ناواقف تھے وہیں مظاہر فطرت کے لئے یہ دلچسپ تھا۔ وہ اس عدالت اور اس کے طریقہ کار سے نا صرف مانوس تھے بلکہ وہاں آیا بھی کرتے تھے۔ ۔ ۔ ۔ یہ زمین پہ اس نوعیت کی واحد عدالت تھی اور ہوا، پانی، دن، رات، وقت سب ان مقدمات کی کاروائیاں دیکھنے آیا کرتے تھے۔ ۔ انصاف، ایمانداری اور سچائی کے تقاضوں کو پورا ہوتے دیکھ کر وہ مسکرا دیتے۔
*****
اوائل نومبر کا ایک چھوٹا دن تھا۔ نرم دھوپ ڈھلنے لگی تھی۔۔۔ عبدالرؤف اسی وقت گھر پہنچا تھا جب پڑوس میں رہنے والی رشیدہ آنٹی نے اسے ھادیہ کو لینے جامعہ بھیجا تھا۔ ڈرائیور کو انہوں نے کسی کام سے بھیج دیا تھا اور وہ ابھی تک لوٹ کے نہیں آیا تھا۔۔ ان کا خیال تھا کہ دیر ہونے کی وجہ سے ھادیہ پریشان ہو رہی ہوگی۔ ۔۔۔ ان کے کہنے پہ فوراً ہی وہ ھادیہ کو لینے چلا گیا تھا ۔۔۔ لیکن پہنچتے پہنچتے بھی دیر ہو گئی تھی ۔ ۔درختوں کے سائے لمبے ترین ہو گئے تھے اور معدومیت کی طرف بڑھنے لگے تھے۔ ۔ طلباء اپنے اپنے گھروں کو جا چکے تھے۔ یونیورسٹی خالی ہو چکی تھی۔ وہ ھادیہ کے ڈیپارٹمنٹ چلا آیا۔۔۔ کاریڈور سنسان تھے اور ان میں سے گزرتی ہوا کی شائیں شائیں سناٹے میں بہت اونچی محسوس ہو رہی تھی۔ اسی ہوا میں درختوں سے ٹوٹے پتے بھی اڑ رہے تھے اور یہاں وہاں بکھرے ہوئے تھے۔ ۔۔ وہ ھادیہ کو ڈھونڈتا کلاس روم تک چلا گیا۔ ۔۔۔ کلاس پہلی منزل پہ تھی۔۔ کلاس روم خالی تھا۔ اور ھادیہ وہاں اپنے کلاس فیلو فیاض کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ باقی طلبا طالبات چھٹی کے بعد جا چکے تھے۔
"السلام علیکم۔” اس نے اندر آتے ہوئے کہا۔ ۔”چلو ھادیہ، میں تمہیں لینے آیا ہوں۔ مجھے آنٹی نے بھیجا ہے۔”
"ڈرائیور نہیں آیا۔”
” ڈرائیور کو آنٹی نے کہیں کام سے بھیجا ہے اور وہ ابھی تک واپس نہیں آ یا انہوں نے مجھے کہا کہ تمہیں گھر پہنچا دوں۔”
"اچھا ٹھیک ہے۔ مجھے کچھ نوٹس ڈسکس کر نے ہیں۔۔۔تم گاڑی میں چل کر بیٹھو، میں آتی ہوں۔”
"اوکے ۔”
دس منٹ۔ ۔۔۔
بیس منٹ۔ ۔۔۔
آدھہ گھنٹہ۔ ۔۔۔
گھنٹہ۔ ۔۔۔
ھادیہ نیچے نہیں آئی۔
پورے ایک گھنٹے اور بیس منٹ کے بعد جب وہ دوبارہ اس کو بلانے جانے لگا تھا تب وہ باہر آ گئی ۔
"چلو۔” فیاض بھی باہر نکل کر اپنے ہوسٹل کی طرف طرف جا رہا تھا۔
"تم نے دیر لگا دی۔”
” مجھے فیاض کے ساتھ کچھ ٹاپک ڈسکس کرنے تھے ۔”
” اتنی دیر تک۔۔۔ پوری یونیورسٹی خالی ہو چکی ہے۔۔تمہیں معلوم ہے کہ تم دونوں اوپر اکیلے تھے۔ ۔ ”
"پلیز اب کوئی گھٹیا بات نہ کرنا۔۔۔ فیاض میرے لئے بالکل ایسے ہی ہے جیسے بڑے بھیا۔۔۔میں اسے اپنا بھائی سمجھتی ہوں۔”
عبدالرؤف جانتا تھا کہ کسی کو اس طرح بھائی سمجھنا معاشرے میں قابل قبول تھا۔ تعلقات میں شفافیت کا عکاس تھا۔ صاف دل اور خیر خواہی کا نشان تھا۔ اعتبار کا رشتہ تھا۔ وہ اسے سمجھانا چاہتا تھا کہ اگر کبھی پڑھائی کے لئے دیر ہوجائے تو اس طرح خالی ڈیپارٹمنٹ میں فیاض کے ساتھ اکیلے رکنے کی بجائے وہ لائبریری یا کینٹین چلی جایا کرے جہاں اور لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔ وہ ھادیہ کو محتاط رہنے کا کہنا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن ھادیہ کے انداز نے بتا دیا تھا کہ وہ پہلے سے ہی محتاط تھی ۔ ۔۔۔ ایک ہی جملے میں دوٹوک الفاظ میں منع کرکے اس نے اس موضوع کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند اور ختم کر دیا تھا۔ وہ اپنے کردار پہ فیاض کے حوالے سے کسی قسم کی انگلی اٹھنے نہیں دینا چاہتی تھی۔ عدالت نے سفید جھنڈا لہرا دیا تھا۔
"پڑھائی کیسی جا رہی ہے۔” اس نے پوچھا۔
” کل سے پریزینٹیشنز شروع ہو رہی ہیں۔۔ سر نے دو دو طالبعلموں کے گروپس بنائے ہیں۔ میں نے فیاض کے ساتھ گروپ بنایا ہے۔ وہ پڑھائی میں اچھا ہے۔ ۔ ۔ اسی کی تیاری کر رہے تھے۔اب تو روز ہی یونیورسٹی میں دیر تک رکنا پڑا کرے گا۔ ” ھادیہ نے تفصیلی جواب دیا۔
"تمہاری باری کب ہے۔”
” اگلے مہینے کے پہلے ہفتے میں ہے ۔ ۔”
انہی باتوں کے دوران راستہ کٹ گیا۔ اور وہ ھادیہ کو گھر چھوڑ کے اپنے گھر چلا آیا۔
*****
ھادیہ محلے کے ان بچوں میں شامل تھی جو بچپن میں عبدالرؤف کو دھکا دیا کرتے تھے۔ ۔ لیکن بچپن بیت چکا تھا۔ کھیلنے کی شوقین ھادیہ نے اس طرح کے کھیلوں میں حصہ لینا چھوڑ دیا تھا۔ ۔ اب وہ پڑھائی پڑھائی کھیلتی تھی اور کھیلتے کھیلتے یونیورسٹی تک آ پہنچی تھی۔ ۔۔۔ اس کی سہیلیاں پیچھے رہتے رہتے اب کھیل سے باہر ہو گئی تھیں۔ ۔۔۔ وہ گھروں میں بیٹھ کے کیبل پہ پڑوسی ملک کی فلمیں اور ڈرامے دیکھتی تھیں اور خود کو ایسی ہیروئن سمجھا کرتی تھیں جن کی زندگی میں خوبرو، لمبا چوڑا اور مضبوط ہیرو بس آنے ہی والا تھا۔ ۔ ۔۔ ۔ دوسری طرف ھادیہ اپنے جیون ساتھی کے بارے میں کیا سوچتی تھی ، یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔ ۔ وہ بدستور پڑھائی پڑھائی کھیلنے میں مصروف تھی۔۔۔ پڑھائی کا کھیل ختم ہونے کے بعد وہ کس کھیل کی طرف توجہ دیتی، یہ کوئی نہیں بتا سکتا تھا۔ ۔۔
دبلی پتلی ھادیہ کا قد لمبا تھا۔ ۔ اپنے لمبے قد کے ساتھ وہ مزید پتلی لگتی یا پھر شاید پتلی ہونے کی وجہ سے لمبی لگا کرتی تھی۔ ۔ ۔ بال لمبے، گھنے اور ریشمی تھے جو ہمیشہ چٹیا کی قید میں رہتے تھے۔ سر پہ دوپٹہ نہ لینے کی وجہ سے اس لہراتی چوٹی کا دیدار ہر کوئی کر سکتا تھا۔ آنکھیں چھوٹی تھیں جو لمبے چہرے پہ مزید چھوٹی لگتیں۔۔۔ لیکن باقی چہرہ متناسب تھا۔۔۔ رنگت گوری تھی اس لئے آنکھوں کا چھوٹا ہونا بھی کوئی خامی نہیں تصور ہوتا تھا۔ ناخن ہمیشہ کٹے ہوئے اور پالش سے آزاد ہوتے تھے۔ ۔ کانوں میں اکثر وہ گول گول بالیاں ڈال لیتی تھی اور بائیں ہاتھ میں گھڑی۔۔۔ جس کا چمڑے کا پٹہ کلائی کے گرد لپٹا رہتا۔۔۔ کلف لگے کرتے اور لمبے دوپٹے اس کی پہچان تھے۔ قد میں زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے کبھی اونچی ایڑی کے جوتوں کی ضرورت نہیں پڑی۔۔۔ وہ کھسے پہنے پہنے مزے سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جایا کرتی تھی۔
ھادیہ کے برعکس فیاض گرچہ موٹا نہیں تھا لیکن موٹاپے کی طرف مائل تھا۔۔۔۔ قد اس کا ھادیہ سے تو زیادہ ہی تھا لیکن لڑکوں کے حساب سے وہ چھوٹے قد میں شمار ہوتا تھا۔۔ کچھ موٹاپے کی وجہ سے اس کا قد مزید کم لگتا۔ ایک ہاتھ میں تھامی نوٹ بک اس کی پہچان تھی۔ جس میں وہ لیکچرز نوٹ کرتا تھا۔۔۔ یہ نوٹ بک بعد میں ھادیہ سمیت پوری جماعت فوٹو اسٹیٹ کروا لیا کرتی تھی۔ فیاض کلاس کے ہونہار طالبعلموں میں سے تھا۔ یونیورسٹی میں کئی لڑکیاں اس پہ مرا کرتی تھیں۔۔۔
‘فیاض کا مستقبل بہت روشن ہے‘ یہ اکثر لڑکیوں کا خیال تھا۔۔۔ کلاس میں ھادیہ اور فیاض کے علاوہ اور بھی چالیس طالبعلم شامل تھے۔ لڑکیوں کی تعداد اگر لڑکوں سے زیادہ نہیں تھی تو بہت کم بھی نہیں تھی۔ بیالیس طلباء کی اس جماعت میں سترہ اور لڑکیاں بھی موجود تھیں۔ ھادیہ کی ان کے ساتھ اچھی سلام دعا تھی لیکن قریبی تعلق کسی کے ساتھ استوار نہیں ہو سکا تھا۔۔۔ کلاس میں اس کی واحد دوستی فیاض کے ساتھ ہی تھی۔۔۔ عبد الرؤف جب بھی یونیورسٹی آتا ان دونوں کو ہمیشہ ساتھ ہی دیکھتا، کبھی سیڑھیوں پہ بیٹھے ہوئے، کبھی لان میں چہل قدمی کرتے ہوئے، کبھی کینٹین میں اور کبھی لائبریری یا کلاس روم میں۔ وہ جتنا وقت یونیورسٹی میں موجود رہتی فیاض کے ساتھ ہی رہتی۔
کھانے پینے کا شوقین فیاض عموماً چیک کی شرٹس میں نظر آتا۔۔۔ نیلے، گلابی، سبز، بھورے۔۔۔ غرض ہر رنگ میں چیک شرٹ اس کے پاس موجود تھی۔۔۔ ایک گہرے نیلے رنگ کی چیک شرٹ بھی تھی جو اسے کسی نے باہر سے بھجوائی تھی۔ یہ قمیض وہ خاص مواقع پہ ہی پہنا کرتا تھا۔ نوٹس لکھنے اور چیک شرٹس پہننے کے علاوہ اس کا تیسرا مشغلہ سگریٹ پینا تھا۔ اور چوتھا کینٹین کے پراٹھے کھانا ۔
عبد الرؤف کو نہ تو اس بات سے غرض تھی کہ ھادیہ دیکھنے، چلنے یا بولنے میں کیسی تھی اور نہ ہی اس بات سے کہ فیاض کتنا لمبا، چوڑا یا موٹا تھا۔۔۔ فیاض اگر لمبا چوڑا، یا گورا نہ ہوتا۔۔ ۔بلکہ کالا، ناٹا اور بھدا ہوتا۔ یا پھر اگر وہ چیکس کی قمیضیں پہننے کی بجائے لائننگ والی قمیضیں پہنتا یا صرف شلوار قمیض ہی پہنا کرتا ۔۔ ۔ عبدالرؤف کی فہرست میں اس کی شناخت سفید کی ہی ہوتی۔۔ اسی طرح اگر ہادیہ کے بال لمبے اور گھنے نہ بھی ہوتے بلکہ کھچڑی نما اور خشک ہوتے۔۔۔ تب بھی وہ اس کی نظر میں سفید ہی رہتی۔ پھر چاہے وہ کھسے پہنتی یا پھر اونچی ایڑی والے جوتے،لمبے دوپٹے لیتی یا چادر میں لپٹی ہوتی۔
*****
*****
عبد الرؤف جاگنگ کے لئے پارک میں آیا ہوا تھا کہ ایک بنچ پہ رشیدہ آنٹی کو دیکھ کے ان کے پاس رک گیا۔
"السلام علیکم آنٹی!۔۔۔ اتنی صبح صبح یہاں۔”
"وعلیکم السلام رؤف بیٹا۔۔ ہاں ھادیہ روز کہتی ہے امی صبح کی سیر کیا کریں۔۔ صحت کے لئے اچھی ہوتی ہے۔ اسی کی فرمائش پوری کرنے آئی تھی۔۔ لیکن ایک چکر میں ہی سانس پھول گیا تو دم لینے یہاں بیٹھ گئی۔”
"اچھا ھادیہ بھی ہے ساتھ۔۔۔” اس نے ھادیہ کی تلاش میں گردن گھمائی۔ وہ دوسری طرف سے دوڑتی ہوئی آ رہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی فیاض بھی تھا۔ عبدالرؤف کو وہاں دیکھ کر وہ دونوں بھی رک گئے۔ کچھ رسمی گفتگو کے بعد فیاض نے جانے کی اجازت چاہی۔
"ایسے کیسے فیاض بیٹا! ہمارے ساتھ گھر چلو۔۔۔ ناشتہ کرکے چلے جانا۔” رشیدہ آنٹی نے جواب دیتے ہوئے کہا۔
"شکریہ آنٹی۔ ناشتے کا تکلف نہیں کیجئے۔”
"تکلف کی کیا بات۔ تم تو اپنے ہو۔ ناشتہ کئے بغیر تو میں تمہیں جانے نہیں دوں گی۔”
"جیسا آپ کہیں آنٹی۔”
ھادیہ نے فیاض کے متعلق ٹھیک کہا تھا یعنی وہ ان کے گھر میں ایک فرد کی طرح قبول کیا جا چکا تھا۔ ۔ ۔ اس کا احساس اسے بعد میں بھی کئی مواقع پر ہوا۔ ہوا۔۔ وہ اکثر ہادیہ کے گھر آیا کرتا تھا۔۔۔ اس کے ساتھ ہمیشہ ھادیہ کے ابو یا بڑے بھائی ہوتے تھے۔ رشیدہ آنٹی خاص طور پر اس کے لئے پراٹھے بنا کے بھیجتی تھیں تاکہ اسے گھر کی کمی محسوس نہ ہو۔
ھادیہ اکثر پڑھائی کی وجہ سے یونیورسٹی ختم ہونے کے بعد بھی وہاں رکا کرتی تھی اور ایسے میں آنٹی رشیدہ اس کے اور فیاض کے لئے کھانا بھجوا دیا کرتی تھیں۔ چند دفعہ عبد الرؤف بھی ان دونوں کے لئے کھانا لے کے گیا۔ ھادیہ نے فیاض کے علاوہ کبھی کسی اور لڑکے یا لڑکی کے ساتھ گروپ نہیں بنایا تھا۔ عبد الرؤف نے انہیں یونیورسٹی کے علاوہ بھی اکثر اکھٹے ہی دیکھا تھا ۔۔۔ ۔ کبھی کسی فنکشن پہ جاتے ہوئے، کبھی کسی مقصد کے لئے چندہ اکھٹا کرتے ہوئے۔۔۔
*****
یونیورسٹی میں چہ مگویاں شروع ہو گئی تھیں۔ لوگ دبے دبے انداز میں باتیں کرنے لگے تھے۔۔۔۔ انگلیاں اٹھنے لگی تھیں۔
*****
"سمجھتے کیا ہیں سب خود کو۔۔۔ کتنی دفعہ بتاؤں کہ میرے اور فیاض کے درمیان کچھ نہیں ہے۔۔۔ دوستی بھی نہیں، میں تو خود ایسی باتوں کو پسند نہیں کرتی۔۔۔وہ میرے لئے بالکل بھائی جیسا ہے۔۔۔ پھر بھلا کیوں اس کے ساتھ افیئر چلاؤں گی۔”
عبدالرؤف کسی کام سے وہاں آیا تھا۔ رشیدہ آنٹی اسے لاؤنج میں بٹھا کے اندر گئی تھیں۔ ھادیہ وہیں صوفے پہ بیٹھی کسی سے فون پہ بات کر رہی تھی۔
دوسری طرف سے کچھ کہا گیا تھا،” اپنے پاس ہی رکھو یہ اپنی خبیث سوچیں۔”
دوسری طرف کی گفتگو سنے بغیر بھی وہ سمجھ سکتا تھا کہ فون پہ ہونے والی گفتگو کا سیاق و سباق کیا ہے۔ ۔۔۔
"میں چوری چھپے کوئی کام نہیں کر رہی۔۔۔ فیاض سے میرے گھر میں سب واقف ہیں۔۔۔ میرے امی ابو جانتے ہیں کہ میرا اس کے ساتھ گروپ ہے۔میں اس کے ساتھ آتی جاتی ہوں۔۔۔ جب انہیں اعتراض نہیں ہے تو پھر کوئی اور کیوں میرے معاملات پہ اعتراض کرے۔۔ ۔۔۔ کلاس میں کوئی بھی اس قابل نہیں کہ اس کے ساتھ گروپ بنایا جا سکے یا یہ امید ہی کی جائے کہ کوئی کچھ مدد کر دے گا۔ میں اس کے ساتھ نہ رہوں تو اور کس کے ساتھ رہوں۔ میری اس کے ساتھ بات چیت کتنی ضروری ہے یہ میں ہی جانتی ہوں۔”
"بھاڑ میں جائیں سب ۔۔۔ مجھے کسی کی پروا نہیں ہے۔۔۔ میں جہاں چاہوں گی فیاض کے ساتھ جاؤں گی۔۔۔ آج میں نے یہ سب سن لیا ہے آئندہ یہ سب بکواس میرے سامنے مت کرنا۔۔”
ھادیہ نے زور سے فون پٹخا۔۔۔ اس کا منہ سرخ ہو رہا تھا۔۔اس نے یہ بھی دھیان نہیں دیا کہ لاؤںج میں ہی دوسری طرف عبدالرؤف بیٹھا ہوا تھا۔
اسی وقت رشیدہ آنٹی اندر داخل ہوئیں۔۔۔ "کیا ہوا ھادیہ؟” انہوں نے اس کی گفتگو کا بس آخری جملہ ہی سنا تھا۔
"سارہ کا فون تھا امی ۔۔۔ اسے کسی نے کچھ کہا ہے میرے اور فیاض کے بارے میں۔۔۔ میں نے بھی ایسا منہ توڑ جواب دیا ہے کہ یاد رکھے گی۔۔۔ ویسے تو مہینوں فون نہیں کرتی۔۔ اور اب دیکھو کیسے فون کر لیا۔گھر میں بیٹھی ہوئی ہے لیکن خبریں ساری دنیا کی رکھتی ہے۔۔۔ ”
"تنگ ذہن لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ۔۔۔ اپنا خون کیوں جلا رہی ہو۔۔۔۔ فیاض بیٹا بہت دنوں سے نہیں آیا۔۔کہیں کوئی ناراضگی تو نہیں ہو گئی۔۔ تم اسے آج گھر بلاؤ، میں اس کی پسند کے نرگسی کوفتے بناتی ہوں۔”
"اوکے امی۔ میں فون کر دیتی ہوں اسے۔” ھادیہ نے نمبر ملاتے ہوئے کہا۔
"ہیلو! ”
” ہاں فیاض! کیسے ہو۔؟”
"میں بھی بالکل ٹھیک ٹھاک۔۔۔ امی یاد کر رہی ہیں تمہیں۔۔۔ کہہ رہی ہیں کہ بہت دنوں سے تم نے گھر کا چکر نہیں لگایا۔۔۔ کھانے پہ بلا رہی ہیں۔۔۔ تمہارے لئے نرگسی کوفتے بن رہے ہیں۔۔۔”
*****
عبدالرؤف ھادیہ کی رائے سے متفق تھا۔۔۔۔ وہ اپنے معاملات میں محتاط تھی اور شروع سے ایک ہی بات پہ قائم تھی کہ فیاض اس کے لئے بھائی کی طرح ہے۔۔۔ گرچہ عبدالرؤف نے لوگوں کو پیٹھ پیچھے انہیں "بہن بھائی” کہہ کر مذاق اڑاتے سنا تھا کہ ان کے خیال میں اندرون خانہ وہ پسندیدگی کے جذبات رکھتے تھے۔ بہن بھائی کا ناٹک صرف ساتھ رہنے کے لئے گھڑا گیا۔ ایک بہانہ تھا۔ کھیل تھا۔ ڈھونگ تھا۔ لیکن وہ ایسی باتوں پہ یقین نہیں کرتا تھا۔ انہیں کوئی اہمیت نہیں دیا کرتا تھا۔۔۔ کہنے والے کو جو بات سامنے کہنے کی ہمت نہ ہو وہ ایسی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑا دیا کرتا تھا۔۔۔ عدالت میں ایسی تمام باتوں اور افواہوں کا رنگ سیاہ تھا۔۔۔
*****
جاری ہے۔۔۔

Advertisements

3 comments on “سرمئی رنگ۔۔۔ حصہ اول

  1. پنگ بیک: سرمئی رنگ۔۔۔ حصہ اول | Tea Break

  2. سمارا جی سرمئی رنگ کے تو کیا ہی کہنے۔ اندازِ بیاں میں جو روانی ہے سو ہے، تشبیہات اور منظر نگاری اس قدر خوب ہوتی ہیں کہ انسان ان کے پیچ و خم میں جیسے کھو سا جاتا ہے ۔ کہانی کا تھیم بہت اچھا لگا۔۔ زندگی میں ہم واقعی ہر بات کو سفید اور سیاہ کی حدود میں نہیں پرکھ سکتے، کہیں کہیں یہی سرمئی رنگ بہت سے مسائل کا حل بتا دیتا ہے۔۔ جہاں تک میرا خیال ہے ھادیہ اور فیاض کچھ اس قدر غلط بھی نہیں تھے۔ بہت ممکن ہے کہ جب تک دونوں یوں ملتے اور ساتھ پڑھتے ہوں تو انہوں نے کبھی کسی اور نظر سے ایک دوسرے کو نہ دیکھا ہو اور عزت و تکریم کی خاطر اس نے فیاض کے ساتھ بھائی لفظ کا اضافہ کیا ہو۔ اور کچھ وقت ساتھ گزارنے کے بعد انہیں احساس ہوا ہو کہ اگر یہی انسان زندگی کی اس راہ کا ہمسفر بھی بن جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ ویسے بھی ہمارے معاشرے میں تو یہ بڑی عام سی بات ہے، جہاں خاندانوں میں شادیاں ہوتی ہیں وہاں عموماً لڑکیاں شادی سے پہلے اپنے ہونے والے شریکِ حیات کے نام کے ساتھ عموماً یہی لاحقہ استعمال کرتی ہیں۔۔۔ بہرحال کہانی نہایت ہی عمدہ تھی۔۔ لکھتی رہیں۔

    • تشریف آوری اور پسندیدگی کے لئے بہت شکریہ۔۔

      بس ایک وضاحت کہ کلاس فیلو اور کزن میں فرق ہوتا ہے۔۔ کزنز بہر حال ماموں، چاچاؤں وغیرہ کے بچے ہی ہوتے ہیں۔ گھریلو واقفیت اور جان پہچان ہوتی ہے۔ ایک اجنبی کلاس فیلو، سے اتنی بے تکلفی کی اجازت کم ہی دیکھنے میں آتی ہے بے شک نام کے ساتھ بھائی کا لاحقہ لگا بھی لیا جائے۔۔ ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s