سرمئی رنگ۔۔۔ آخری حصہ

ایک سال بعد عبدالرؤف کے گھر والے دوسرے علاقے میں منتقل ہو گئے ۔۔۔ گھروں کے درمیان دوریاں آئیں تو ملنے جلنے میں بھی تعطل آ گیا۔۔۔ اسے اچھی پیشکش ہوئی تو وہ ملک سے باہر اٹھ آیا۔ اور اس کے ساتھ ہی سیاہ سفید کا دائرہ بھی۔ گھر والوں سے فون اور انٹر نیٹ کے ذریعے باقاعدگی سے رابطہ رہتا تھا۔ وہ اپنے دوستوں اور رشتے داروں سے بھی رابطے میں رہتا تھا۔ لیکن ھادیہ نہ تو اس کے دوستوں میں شامل تھی اور نہ ہی رشتہ دار تھی۔ پہلے بھی ان کے درمیان بس رسماً اور ضرورتاً ہی گفتگو ہوا کرتی تھی۔ اور اب اس کا بھی کوئی امکان نہیں رہا تھا۔ باقی رہا فیاض، تو اس کے ساتھ تو بات چیت سلام دعا اور مصافحے سے آگے کبھی بڑھ ہی نہیں سکی۔۔۔ یوں پردہ قرطاس پہ ھادیہ اور فیاض نامی نقطے مدھم ترین ہوتے چلے گئے۔
*****
عبدالرؤف ایم۔ایس۔این پہ چیٹنگ کر رہا تھا کہ کامران نے کہا، ” ایک نیوز ہے میرے پاس۔”
کامران اس کا دوست بھی تھا اور سابقہ محلے دار بھی۔۔۔ کامران اور اس نے میٹرک ایک ساتھ ہی کیا تھا۔ اس کے بعد کالج میں ان کی راہیں تبدیل ہو گئیں۔ ابو کا ٹرانسفر ہو جانے کے بعد وہ بھی گھر والوں کے ساتھ دوسرے شہر میں چلا گیا تھا۔۔۔ ۔ اور اب دوبارہ اس شہر میں اپنی نوکری کی وجہ سے واپس آیا تھا۔ وہ آج کل ایک ملٹی نیشنل فرم میں بہت اچھی تنخواہ پہ کام کر رہا تھا۔ مہینے میں ایک آدھ دفعہ ان کی چیٹ پہ گفتگو ہو جاتی تھی۔ عبدالرؤف کی بلیک اینڈ وائٹ رنگولی میں کامران کے لئے بھی ایک رنگ مختص تھا۔۔۔ اور وہ تھا سفید۔۔۔ ۔ اس نے کامران کو سچا اور کھرا پایا تھا۔
” کیا۔؟”
” ھادیہ کی شادی ہو گئی ہے ۔ ۔”
"کب ہوئی ۔؟
” دو دن پہلے ۔”
” لڑکا کون ہے؟ کیا کرتا ہے؟”
” تم شاید فیاض کو جانتے ہو؟۔۔۔ ۔”
"ہاں۔۔۔اس کا یہاں کیا ذکر۔”
"اسی کے ساتھ تو ہوئی ہے۔۔ ۔”
"فیاض کے ساتھ۔۔۔؟ لیکن ھادیہ تو اسے ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ لکھتے لکھتے ہچکچا گیا کہ وہ تو اسے بھائی کہتی تھی۔
"بھائی کہتی تھی۔” سامنے والے نے جملہ مکمل کر دیا تھا۔ "سب کو وہ یہی بتاتی تھی۔۔۔۔لیکن یہ اس کی پسند کی شادی ہے۔ ”
"تمہیں کس نے کہا کہ یہ پسند کی شادی ہے۔۔۔ ہو سکتا ہے انکل آنٹی نے اچھا لڑکا دیکھ کر یہ رشتہ طے کر دیا ہو۔”
"خود فیاض نے یہ بتایا ہے مجھے۔ فیاض اور میں ایک ہی دفتر میں کام کرتے ہیں۔ ھادیہ بھی اکثر آفس میں آتی جاتی رہتی تھی۔ فیاض کے گھر والے اس رشتے کے لئے راضی نہیں تھے۔ فیاض کی امی اس کی شادی اپنے خاندان میں ہی کرنا چاہ رہی تھیں۔۔۔اپنی بہن کی بیٹی کے ساتھ۔۔۔ لیکن پھر انہیں ہاں کرنی پڑی۔ اپنی ہونے والی بیوی کے بارے میں وہ کوئی غلط بات تو نہیں کرے گا۔ ۔ ”
"”یہ کیسے ہو سکتا ہے۔کیا تم نے کبھی فیاض سے پوچھا کہ جب وہ اسے بہن سمجھتا تھا تو پھر اسی کے لئے رشتہ کیسے دے دیا۔۔ اسے شرمندگی نہیں ہوئی ھادیہ سے۔۔۔؟”
” ھادیہ کے گھر والوں نے یہ رشتہ دیا تھا۔۔۔۔۔ اور یہ بھائی والی بات تو ھادیہ کہتی تھی۔۔ فیاض کے منہ سے میں نے کبھی ایسی کوئی بات نہیں سنی۔ ۔اس نے ہمیشہ اس کا کلاس فیلو اور اچھی دوست کے طور پہ ہی ذکر کیا ہے۔ ویسے تو ھادیہ بھی اسے نام سے ہی بلاتی تھی کبھی ‘فیاض بھائی‘ نہیں کہا۔۔۔ ہاں یہ الگ بات کہ وہ یہ ضرور کہتی تھی کہ وہ میرے لئے بھائی جیسا ہے۔۔۔ چھوڑ اس بات کو ۔۔۔۔۔۔وہ جو بھی کہتی تھی، جس کو بھی پسند کرتی تھی۔۔۔۔۔۔۔ جب انہوں نے نکاح کرکے اپنے تعلق کو مضبوط کر لیا ہے تو ہمیں کیا ضرورت ہے اعتراض کرنے کی۔”
"میری آج صبح بھی گھر بات ہوئی ہے۔ کسی نے اس بات کا ذکر نہیں کیا۔”
"ھادیہ لوگوں نے زیادہ لوگوں کو نہیں بلایا تھا۔ میں بھی اس لئے وہاں گیا تھا کہ مجھے فیاض نے دعوت دی تھی۔ اور ہادیہ نے اپنی کلاس میں سے بھی کسی کو نہیں بلایا تھا۔ البتہ فیاض کے دوست موجود تھے۔ ”
” شاید یہی بات ہو۔۔ لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ھادیہ ایسی کیسے ہو سکتی ہے۔ وہ ایسی تو نہیں تھی۔۔۔
کامران کچھ اور بھی کہہ رہا تھا لیکن اس کی سوچ اٹک گئی تھی۔۔کبھی کی سنی ہوئی باتیں اس کے ذہن میں گونجنے لگی تھیں۔
"یہ تو رشتہ ڈھونڈنے آتی ہیں یونیورسٹی میں۔۔ یہ بھلا کیا بھائی بنائیں گی۔”
"یہ جو ان کے گھر سے کھانے اور پراٹھے آتے ہیں، کیا اس لئے کہ یہ انہیں بھائی سمجھ رہی ہیں۔ یہ تو بےچارے فیاض کو گھیرنے کی کوشش ہے تاکہ وہ بھاگ نہ سکے۔”
"خود ہی سوچو کہ کیا کوئی لڑکا کسی لڑکی کلاس فیلو کے گھر جا سکتا ہے بھلا۔۔۔اور وہ بھی جس کا بڑے بھائی ہو۔۔۔ مار تھوڑی کھانی ہے پیارے ۔”
"ہمیشہ نام سے بلاتی ہے اسے، کبھی "فیاض بھائی” سنا اس کے منہ سے۔”
انہی آوازوں میں ایک مختلف گونج بھی آ رہی تھی۔
"وہ جو بھی کہتی تھی، جس کو بھی پسند کرتی تھی۔۔۔۔۔۔۔ جب انہوں نے نکاح کرکے اپنے تعلق کو مضبوط کر لیا ہے تو ہمیں کیا ضرورت ہے اعتراض کرنے کی۔”
جو کچھ اسے معلوم ہوا تھا اس کے بارے میں وہ طے نہیں کر پا رہا تھا کہ سفید تھا یا سیاہ۔۔۔ اس کی آنکھوں کے سامنے رنگ لہرا رہے تھے۔۔۔ سفید۔۔۔ سیاہ۔۔۔ سیاہ۔۔۔ سفید۔۔۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی رنگ ٹھہر نہیں رہا تھا ۔ ۔۔ ایک لمحے پتلیوں کے سامنے مکمل سفیدی چھا جاتی تو دوسرے ہی پل وہ اندھیرے میں پھیلنے لگتیں۔ دونوں رنگ، اس کے وجود پہ اپنا رنگ جمانے کی بھر پور کوشش کر رہے تھے۔ ۔ جیسے ہی سفید رنگ سیاہ رنگ پہ غالب آنے لگتا اسی سمے سیاہی، سفیدی کی جگہ لینے لگتی۔ ۔۔ ۔
یہی رنگ اس کے دل پہ بھی گر رہے تھے۔۔۔ لیکن اتنی گہرائی میں گرنے کے باوجود نہ ہی سیاہ رنگ یہ دعویٰ کر سکتا تھا کہ اس نے اپنے اندر سفیدی کو شامل کر لیا تھا اور نہ ہی سپیدی اپنے اندر کسی قسم کی سیاہی کو جگہ دینے کے لئے تیار تھی۔۔۔ رنگوں کا خالص پن بدستور برقرار تھا۔ کائنات کی ہر چیز پہ سکوت طاری تھا۔ ۔ بس ایک آواز آ رہی تھی۔۔۔ آرڈر۔۔۔ آرڈر۔۔۔ اور اس کے بعد انصاف کے ہتھوڑے کی ٹھک۔ ۔۔ ۔ ٹھک۔ ۔۔ ۔ ٹھک ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔
*****
عدالت لگ چکی تھی۔
سفید اور سیاہ رنگ مقدمہ لڑنے کے لئے تیار تھے۔۔ ۔۔ ۔ ۔
ملزم کے کٹہرے میں ھادیہ کھڑی تھی۔۔ ۔۔ ۔ ۔
عناصر فطرت کے لئے اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ تھا۔ ۔ اب تک وہ مقدموں کے فیصلے ہوتے دیکھتے آئے تھے۔ ۔ ایسا پہلی دفعہ ہوا تھا کہ عدالت کو کسی فیصلے میں دشواری ہوئی تھی۔۔۔۔ ۔ وقت ، ہوا، پانی سب کاروائی دیکھنے آ موجود ہوئے تھے۔ کمرہ عدالت کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔
"آرڈر۔۔۔ آرڈر۔۔۔” منصف نے میز پہ ہتھوڑا بجاتے ہوئے کہا، "کاروائی شروع کی جائے۔”
” جنابِ عالی۔” سفید رنگ نے آغاز کیا۔ ھادیہ احسان بنت احسان اللہ کی شادی فیاض احمد ولد منیب احمد سے ہوئی ہے۔ ۔ اس مبارک کام کی انجام دہی پہ میری گزارش ہے کہ ملزمہ ھادیہ کو سفید قرار دیا جائے۔”
” می لارڈ۔” سیاہ رنگ نے مداخلت کی، ” ملزمہ ھادیہ لفظوں اور رشتوں کے تقدس کی پامالی کی مرتکب ہوئی ہیں۔ وہ شادی سے پہلے سے ہی فیاض سے واقف تھیں۔ تاہم انہوں نے جھوٹ بول کے زمانے کی آنکھوں میں دھول جھونکی۔ اس لئے ملزمہ کو سیاہ قرار دیا جائے۔”
"کیا آپ نے وہ کہاوت نہیں سنی۔” سفید نے دلیل دیتے ہوئے کہا۔” ‘آل از ویل دیٹ اینڈز ویل‘۔۔۔۔ اگر انجام صحیح ہو تو سب صحیح ہو جاتا ہے۔۔”
"یہ بات مانی نہیں جا سکتی کہ اگر انجام درست ہو تو سب کچھ درست مان لیا جائے۔ یہ معاملہ قطعاً سفید نہیں۔”
"” یاد دہانی کے لئے عرض کرتا چلوں کہ نکاح جیسے سنت رسول کو پورا کرنا کسی بھی طرح سے سیاہ نہیں ہو سکتا۔”
"اس کام کی شروعات صحیح نہیں تھیں۔”
"لیکن انجام بخیر ہے۔ نیز ابتدا بھی سفید تھی۔ اس بارے میں معزز عدالت کا فیصلہ بہت پہلے ہی آ چکا ہے۔”
"” معزز عدالت کے سابقہ فیصلے کی بنیاد ملزمہ ھادیہ کا یہ جملہ تھا۔۔۔۔۔۔”‘فیاض میرے لئے بالکل ایسے ہی ہے جیسے بڑے بھیا۔۔۔میں اسے اپنا بھائی سمجھتی ہوں۔‘ اس بات میں کتنی سچائی تھی یہ اب سامنے آ چکی ہے۔ یہ بات کھل چکی ہے کہ یہ ملزمہ ھادیہ کی پسند کی شادی ہے۔۔۔۔
خود سوچئے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جس لڑکے کو بھائی سمجھا جائے اسی کے ساتھ پسند کی شادی کی جائے۔ ۔۔۔
یہ درست کہ بھائی کہنے سے کوئی بھائی نہیں بن جاتا۔۔۔ تاہم بیک وقت بھائی سمجھنا اور پسندیدگی کے جذبات رکھنا پسندیدہ فعل نہیں۔ ۔
ایسے جذبات اور خیالات فطرت سے متصادم ہیں۔
یہ بات صرف ایک صورت میں سمجھ میں آتی ہے جب یہ مان لیا جائے کہ ملزمہ ھادیہ نے جھوٹ بولا تھا۔۔ وہ شروع سے فیاض کو پسند کرتی تھی لیکن اپنی چوری پکڑی جانے کے ڈر سے اس نے اس پسندیدگی کے اوپر بھائی کے نام کا خول چڑھا دیا تھا۔۔۔ معزز عدالت یہ بات اچھی طرح جانتی ہے کہ جھوٹ کا رنگ ہمیشہ سیاہ ہوا کرتا ہے۔ ۔”
"جناب ھادیہ نے اپنے آدھے دین کو مکمل کر لیا ہے۔۔ سنت پوری ہو رہی ہے۔۔یہ شادی ولی کی موجودگی میں اور اس کی مرضی سے ہوئی ہے۔ ۔ اس معاملے پہ بحث کی گنجائش ہی نہیں”
کرسئ انصاف پہ بیٹھا عبد الرؤف دونوں اطراف کے دلائل سن رہا تھا۔ لیکن طے نہیں کر پا رہا تھا کہ غلط ابتدا سے تکمیل پانے والے درست کام کو کس کیٹیگری میں رکھے۔۔۔ نہ وہ اس کو مکمل درست کہہ سکتا تھا اور نہ ہی مکمل غلط۔۔۔۔
مظاہر فطرت ساکت تھے اور اس بات کے منتظر تھے کہ عبدالرؤف اس مقدمے کا کس طرح فیصلہ کرتا ہے۔ آیا ھادیہ سفید قرار پاتی ہے یا سیاہ۔
"معزز عدالت کی اجازت ہو تو میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ "۔ عدالت میں موجود مظاہر فطرت میں سے ایک نے اپنی جگہ سے اٹھ کے کہا۔ وہ وہاں موجود مظاہر فطرت میں سب سے قدیم تھا۔ صدیوں کے ماہ و سال کے اثرات اس پہ نمایاں تھے۔ ا لیکن آنکھوں میں چمک بلا کی تھی اور پل بھر میں ہی بات کی تہہ میں اتر جانے کی غماز۔
"اجازت ہے۔”
"جناب عالی! مجھے اس دنیا میں وقت کے نام سے جانا جاتا ہے۔۔میرا کام چلتے چلے جانا ہے۔۔۔۔۔ جب سے کائنات وجود میں آئی ہے تب سے سفر میں ہوں۔ ۔ اپنی زندگی میں جتنا سفر میں نے کیا ہے اتنا یہاں موجود کسی مظہر نے نہیں کیا۔۔ اس سفر کے دوران جتنا سیاہ سفید میں نے دیکھا ہے وہ بھی کسی نے نہیں دیکھا ۔ میرے چلنے سے ہی دن کا اجالا پھیلتا ہے اور رات کی تاریکی آتی ہے۔ یہ ہمیشہ کا معمول رہا ہے کہ برائی کی راہ پہ چلنے والے اپنے کاموں کے لئے رات کا اندھیرا ہونے کے منتظر رہتے ہیں۔ اور نیکو کار صبح کی پہلی کرن کے، تاکہ اپنے نیک اعمال کا آغاز کریں۔
اس تمہید کے بعد میں عدالت کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ دنیا میں صرف سیاہ اور سفید رنگ نہیں ہیں۔بلکہ کئی رنگ موجود ہیں۔ تاہم سیاہ اور سفید رنگ قدیم ترین اور بنیادی ہیں۔۔۔ معزز عدالت کے علم میں یہ بات نہیں کہ ان دونوں رنگوں کو اگر آپس میں ملا دیا جائے تو ایک نیا رنگ بن جاتا ہے۔۔۔ سرمئی رنگ۔۔۔ جو سفید اور سیاہ کا ملاپ ہونے کے باوجود نہ تو سفید ہوتا ہے اور نہ ہی سیاہ۔ ۔۔۔ اس ملاپ کے بعد جہاں دونوں رنگ اپنی انفرادیت کھو دیتے ہیں۔۔۔۔وہیں غلط اور درست کے تصور کے درمیان فاصلاتی لکیر ختم ہو جاتی ہے۔ غلط، درست کا روپ دھار لیتے ہیں اور صحیح کو غلط مانا جا سکتا ہے۔ اصل میں یہ دونوں باتیں ہی سیاہ ہیں جو سفیدی کو سرمئی رنگ میں تبدیل کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحیح اور غلط کے درمیان ہمیشہ حد فاصل برقرار رکھی جاتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے برائی کرنے والے اپنے شر پسند اعمال سے دن کے اجالے میں بھی اندھیرا پھیلانا شروع کر دیں اور اگر ایسے کاموں کی بہتات ہونے لگے تو سرمئی رنگ پھر سیاہی رنگ کی شکل اختیار کرنے لگتا ہے۔ ۔
جناب عالی! جس طرح سرمئی رنگ میں سے سفید اور سیاہ کو الگ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی طرح موجودہ معاملے کو مکمل درست یا مکمل غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔گرچہ یہ معزز عدالت صرف خالص پن کو جانتی ہے۔ ۔ ہر چیز کو سیاہ سفید کے درمیان تقسیم کرنے کی عادی ہے۔ کوئی بھی کام یا تو درست ہو سکتا ہے یا پھر غلط۔۔۔ بات یا تو سچ ہو سکتی ہے یا پھر جھوٹ۔۔۔ سرمئی جھوٹ یا سرمئی سچ کی یہاں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
تاہم اس معاملے کو دیکھیں تو ملزمہ ھادیہ نے دنیا کی آنکھ میں دھول جھونکی، غلط کیا۔
پڑھائی کے بہانے یونیورسٹی جا کے مسٹر فیاض کے ساتھ راہ و رسم پیدا کی، غلط کیا۔ ۔
ان کے گھر والوں نے جانتے بوجھتے بیٹی کو ڈھیل دی، غلط کیا۔ ۔
لیکن ان کا نکاح سفید ہے۔
اس پورے قصے میں کچھ باتیں سیاہ ہیں اور کچھ سفید۔۔۔ ۔ انصاف کے تقاضوں کے مطابق یہ مکمل سیاہ یا مکمل سفید قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور بے انصافی عدالت کی سرشت میں نہیں ہے۔ ۔ ۔ فیصلہ معزز عدالت کے ہاتھ میں ہے۔ ۔”
چھن چھن چھن کی آواز نے زنجیروں کے ٹوٹنے کا اعلان کیا۔ ۔ ۔۔۔ شیشہ کرچی کرچی ہو کے زمین پہ ہر طرف بکھر گیا تھا۔ ۔۔۔۔ جو رنگ کبھی سیاہ اور سفید کے طور پر اپنا الگ تشخص رکھتے تھے ایک دوسرے میں ضم ہو کر اپنا انفرادی وجود کھو بیٹھے تھے۔ سیاہی اور سفیدی آپس میں مل گئے تھے۔۔۔ ۔ اور اس طرح مدغم ہو چکے تھے کہ اب انہیں الگ کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔۔ ۔۔۔ فیصلہ ہو گیا تھا۔ ھادیہ سرمئی رنگ میں ڈوبی کھڑی تھی۔ ۔۔ عدالت برخاست ہوگئی تھی۔۔۔۔ ۔ رنگوں کی قید ختم ہو گئی تھی۔ عبد الرؤف کے ارد گرد بندھی رنگوں کی زنجیریں ٹوٹ گئی تھیں۔ وہ آزاد ہو گیا تھا۔۔ اب سیاہ اور سفید کے ساتھ دھنک کے رنگ بھی اس کی زندگی میں شامل ہو گئے تھے۔ یہ مقدمہ اس عدالت کا آخری مقدمہ ثابت ہوا تھا۔
گردشِ لیل و نہار پھر سے شروع ہو گئی تھی۔۔۔ مظاہر فطرت اپنے معمول کی طرف پلٹ گئے تھے۔ تیز ہوا شور مچاتی اڑنے لگی تھی۔۔ پرندے چہچہانے لگے تھے۔ وقت کا قافلہ اپنے سفر پہ رواں ہو گیا تھا۔ زمین پہ سرمئی رنگ پھیلتا جا رہا تھا اور اس میں سیاہی بڑھتی جا رہی تھی۔

Advertisements

2 comments on “سرمئی رنگ۔۔۔ آخری حصہ

  1. کہانی میں عمدہ تناسب سے تمثیل کا استعمال کیا ہے جس نے ایک لمحہ کو بھی بور نہیں ہونے دیا۔ ورنہ عام طور پر بڑے لکھاری جس طرح کا شدھ اور گاڑھا تمثیلی اور رمزیہ اندازاستعمال کرتے رہے ہیں اس سے کہانی تمثیلی کم اور تجریدی زیادہ ہو جاتی ہے۔
    سفید ، سیاہ اور سرمئی رنگت کی تمثیل انسان کو بہتر طریقے سے بیان کرتی ہے۔ جس کا کہانی میں بڑی خوبی سے استعمال کیا گیا ہے۔یہ ایک مسلمہ بات ہے کہ انسانوں کی اکثریت قول میں سفیدی اور عمل میں سرمئی رنگت کو پسند کرتی ہے۔
    صفحہ کا پس منظر کچھ زیادہ ہی سفید ہوگیا ہے ۔ پڑھنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ اگر آپ کسی اور رنگ سے بدل دیں تو بہت مناسب ہوگا۔

    • تشریف آوری اور پسندیدگی کے لئے بہت شکریہ۔

      ٹیکسٹ کا کلر پہلے ڈارک گرے تھا اب تبدیل کرکے بلیک کر دیا ہے۔ امید ہے اب پڑھنے میں آسانی رہے گی۔

      فیڈ بیک کے لئے بہت مشکور ہوں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s