آگے سمندر ہے از انتظار حسین


آگے سمندر ہے از انتظار حسین

مشہور مصنف انتظار حسین کا لکھا ہوا یہ پہلا ناول ہے جو میں نے پڑھا ہے۔۔۔ یہ ناول کراچی کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ جس میں قیام پاکستان کے بعد کا زمانہ دکھایا گیا ہے۔۔ ناول کی خوبصورتی یہ ہے کہ جہاں یہ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے پاکستان پہنچنے والوں کی ترجمانی کرتا ہے وہیں انڈیا میں باقی رہ جانے والے لوگوں کے خیالات سے بھی آگاہی دلاتا ہے۔۔۔۔ مختلف علاقوں کے لوگ جس طرح اپنے پرانے دنوں کو یاد کرتے ہیں اور نئے ماحول میں شامل ہو رہے ہیں۔۔۔ یہ سب سچویشنز مصنف نے بہت اچھے سے دکھائی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس موضوع پہ مصنف کی گرفت بہت مضبوط ہے۔ اس کے ساتھ ہی کراچی کے بگڑتے حالات کی نشاندہی بھی مصنف نے کی ہے۔ یہ اوپن اینڈڈ ناول ہے اور اپنے اختتام پہ قاری کو گم صم اور اکیلا چھوڑ دیتا ہے جس سے ناول کا تاثر بھر پور طریقے سے ابھرتا ہے۔

کراچی کی صورتحال کو جس طرح اندلس کے مسلمانوں سے مماثل قرار دیا ہے وہ اگرچہ مصنف کی مہارت کا ثبوت ہے وہیں ہمارے لئے لمحہ فکریہ۔

یہ اقتباس ناول کی جان لگا۔۔۔

عبداللہ یوں لب کشا ہوا۔ ” اے مرے عزیز، تو نے غلط قیاس کیا۔ میرے پاس بتانے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ میں اگر جانتا ہوں تو بس اتنا کہ ایک وقت کشتیاں جلانے کا ہوتا ہے اور ایک وقت کشتی بنانے کا۔ وہ وقت بہت پیچھے رہ گیا ہے جب ہم سے اگلوں نے ساحل پہ اتر کر سمندر کی طرف پشت کر لی تھی اور اپنی ساری کشتیاں جلا ڈالی تھیں۔ اب بپھرتا سمندر ہمارے پیچھے نہیں، ہمارے سامنے ہے۔ اور ہم نے کوئی کشتی نہیں بنائی ہے۔”

ایک اور اقتباس

کار سے اتر کر میں چند قدم چلا اور سکتہ میں آ گیا۔ "دلکشا، کہاں ہے، منہ سے بےساختہ نکلا۔ گیٹ سے کتنی دور تک پتلے سے کچے راستے پر تانگہ چلتا رہتا تھا۔ دائیں بائین درخت ہی درخت، درختوں کے پیچھے درخت کچھ اونچے کچھ اور گھنے، کچھ جھاڑیوں کی طرح کے، آم، امرود، جامن، پھر انار، آڑو، آلو بخارا اور کیلے کے درختوں کی دو رویہ قطار جس کے بیچ سے تانگہ میں بیٹھ کر گزرتے ہوئے کتنا اچھا لگتا۔ سب درخت کہاں گئے۔ اور دلکشا کی عمارت؟ گرد آلود میدان میں دور تک نظر دوڑائی۔ دور اینٹوں کا ایک ڈھیر نظر آ رہا تھا، ایک ڈھئی ہوئی عمارت، قریب جا کر غور سے دیکھا اور پہچاننے کی کوشش کی۔ منہدم دو و دیوار کے بیچ بس ایک زینہ تھا جسے میں پہچان نہ سکا۔ عجیب بات ہے۔ ڈھئی ہوئی عمارت میں بس ایک زینہ ہوتا ہے جو اپنی شکل کو کسی نہ کسی طور پر برقرار رکھتا ہے۔

Advertisements

3 comments on “آگے سمندر ہے از انتظار حسین

  1. پنگ بیک: آگے سمندر ہے از انتظار حسین | Tea Break

  2. آہا۔۔ یہ تو دلچسپ سلسلہ ہے۔۔ ایک نیا آئیڈیا بھی مل گیا مجھے تھینکس۔۔۔

    اور بہت ہی خوبصورتی سے اس کتاب کے بارے میں بیان کیا ہے، مزید اقتباسات کا شامل کرنا بھی خوب رہا۔۔
    تھینکس

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s