فئیر ویدر

فئیر ویدر

(یہ تحریر رافعہ خان کی تحریر "فئیر ویدر” سے متاثر ہو کے لکھی گئی ہے)

اپنے گھر سے ہونیورسٹی جانے کے لئے روز مجھے بس لینی پڑتی ہے۔ بس کا پک اپ پوائنٹ میرے گھر سے کچھ فاصلے پہ ہے۔ اس پوائنٹ تک پہنچنے کے لئے دو راستے ہیں۔ ایک صاف ستھری پختہ سڑک ہے، لیکن پیدل چلنے والوں کے لئے یہ نسبتاً لمبا راستہ ہے۔ دوسرا راستہ پگڈنڈی نما ہے، یعنی کچا۔ یہ راستہ گھروں کی پچھلی طرف سے نکلتا ہے۔ اگرچہ یہ پگڈنڈی نما ہے لیکن چوڑی پگڈنڈی ہے، ساتھ ہی یہ مکمل کچا بھی نہیں ہے، کچا نما ہے۔

کچا نما۔۔۔۔؟

مجھے نہیں معلوم کہ اس کے لئے صحیح لفظ کیا ہو، لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ راستہ سرخ پختہ اینٹوں سے بنایا گیا ہے۔ بارش ہو تو یہ اینٹیں دھل کے نکھر جاتی ہیں۔ لیکن ان کا سب سے بڑا فائدہ جو مجھے نظر آتا ہے اور انہیں لگوانے والے کا مقصد بھی یہی محسوس ہوتا ہے وہ بارش کے نتیجے میں ہونے والے کیچڑ سے بچاؤ ہے۔ میں روز ان اینٹوں پر سے گزرتی ہوں یہ جانے بغیر کہ ان اینٹوں کو کس نے یہاں بچھوایا ہے۔ مجھے بس یہ علم ہے کہ یہ رستہ بارش میں بھی صاف رہتا ہے کسی بھی کیچڑ، گندگی کے بغیر، اور ہمیشہ شارٹ کٹ کا کام دیتا ہے۔

میں روز صبح پونے سات بجے گھر سے نکلتی ہوں۔ واپسی کا وقت مقرر نہیں۔۔ لیکن کم از کم صبح کے وقت تو گھر والے مجھے دیکھ کے اپنی گھڑیاں درست کر سکتے ہیں۔ اس راستے سے چلتے ہوئے اسٹاپ تک پہنچنے میں اندازاً آٹھ سے دس منٹ لگ جاتے ہیں۔ اگر کبھی گھر سے جلدی نکل آنا ہو تو چہل قدمی کے انداز میں بھی جایا جا سکتا ہے۔ یوں روز صبح ایک مختصر سی مارننگ واک بھی ہو جاتی ہے۔ اپنی بس لینے کے لئے یہ راستہ صرف میں ہی اختیار نہیں کرتی بلکہ یہ اسکول کالج جانے والے طلباء، ظالبات کا بھی پسندیدہ راستہ ہے۔ بہت سارے دفتر جانے والے لوگ بھی مین روڈ تک پہنچنے کے لئے اسی شارٹ کٹ کو استعمال کرتے ہیں۔ یوں اس راستے پہ کافی چہل پہل ہوتی ہے۔ مخصوص اوقات میں گزرنے والے مخصوص لوگ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں اور رستے کے دوران مختصر سی سلام دعا بھی کرتے جاتے ہیں۔ یوں دس منٹ کا یہ رستہ مارننگ واک کے ساتھ ساتھ سوشل ایکٹیویٹی کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

اسی پگڈنڈی پہ چلتے ہوئے دائیں طرف ایک خالی پلاٹ ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے میں یہاں دوگھوڑے دیکھ رہی ہوں۔ ان میں سے ایک سفید اور دوسرا بھورے رنگ کا ہے۔ ان گھوڑوں کا مالک بھی آس پاس ہی کہیں ہوتا ہے، لیکن میں ابھی تک اسے تلاش نہیں کر پائی۔ دسمبر کا مینہ شروع ہو گیا ہے۔ نومبر کے شفاف اور نیلے دن کی جگہ دسمبر کے کہرے میں ڈوبے دنوں نے لے لی ہے۔ بارش نہ ہونے کی وجہ سے خشک سردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہوا میں مٹی کی مقدار بڑھ رہی ہے۔ یہی مٹی درختوں اور پتوں پہ بھی جمی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن دونوں گھوڑے اس دھول مٹی اور سردی سے بے نیاز روز صبح پلاٹ میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ اس رستے کے ساتھیوں میں اب یہ دو گھوڑے بھی شامل ہو گئے ہیں۔
*****

دسمبر کی خشک ٹھنڈ میں سورج تو جیسے مستقل کہرے کے پیچھے چھپ گیا ہے۔ اس رستے سے گزرنے والے ساتھی بھی اب کوٹ اور سوئٹروں میں نظر آتے ہیں۔۔ کبھی کبھی کسی کے ہاتھ میں چائے یا کافی کا مگ بھی ہوتا ہے اور اس کپ سے اٹھتی بھاپ دور تک جاتی نظر آتی ہے۔ خشک سردی کی وجہ سے کھانسی، زکام جیسی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بارش نہ ہونے کے باعث ہر طرف دھول اڑتی دکھائی دیتی ہے۔ خزاں رسیدہ درختوں کے بچے کھچے پتوں پہ مٹی کی اتنی تہیں ہیں کہ لگتا ہے عرصے سے ان کی پیاس نہیں بجھی۔ اس رستے پہ جانے والے لوگوں میں سے بھی اب کچھ کو کھانسی کی شکایت ہو گئی ہے۔ خشک موسم، خشک سردی اور خشک دسمبر کا اثر لوگوں پہ ہو رہا ہے۔۔۔ لیکن گھوڑے ابھی تک اسی میدان میں ڈٹے کھڑے ہیں۔ اپنی زندگی اور معمولات میں مگن، جیسے موسموں کا تغیر و تبدل ان کے لئے کوئی معنی ہی نہ رکھتا ہو۔ "گھوڑوں کو سردی نہیں لگتی۔” میں نے اپنا مفروضہ بنا لیا ہے۔

اسی رستے پہ چلتے ہوئے، مین روڈ سے کوئی ایک منٹ کی مسافت پہلے، ایک طرف تین چار ریڑھیاں کھڑی نظر آتی ہیں۔ یہ مالٹے فروشوں کی ریڑھیاں ہیں۔ شاید یہ لوگ ان گھروں کے سرونٹ کوارٹرز میں رہتے ہیں اور اپنی ریڑھیاں جگہ نہ ہونے کے باعث باہر رستے پہ ہی کھڑی کرتے ہیں۔ ان ریڑھیوں کی موجودگی کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ ریڑھیاں خالی نہیں ہوتیں، ان پہ مالٹے بھی موجود ہوتے ہیں، جنہیں ایک موٹی چادر ڈال کے ڈھک دیا جاتا ہے۔ کسی بھی راہ گیر کے لئے یہ بہت آسان ہے کہ وہ آتے جاتے ان ریڑھیوں سے کچھ مالٹے نکال کے ان سے اپنی پیاس اور ذائقے کی تسکین کر لے۔ اس کے باوجود آج تک یہاں سے کوئی شخص ایک مالٹا بھی اٹھاتا دکھائی نہیں دیا۔ یہاں اسکول جانے والے بچے بھی ہوتے ہیں اور کالج جانے والے کھلنڈرے لڑکے، لڑکیاں بھی، اور سنجیدہ افراد بھی۔۔۔ لیکن یہ سب ان ریڑھیوں کے پاس سے ایسے گزر جاتے ہیں جیسے یہ وہاں موجود ہی نہیں ہیں۔ معلوم نہیں یہ پھل فروشوں کا توکل ہے یا راہ چلتے لوگوں کی ایمانداری۔

اس رستے کے اختتام یعنی مین روڈ پہ ایک بیکری ہے، جو صبح صبح کھلی ہوتی ہے اور اکثر لوگ اس سے خریداری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ صبح صبح تازہ تازہ بیکری کے آئٹم کی خوشبو دور تک پھیلی ہوتی ہے۔ یہ خوشبو دور سے ہی اس مختصر سے رستے کے ختم ہونے کی نوید دینا شروع کر دیتی ہے۔ بیکری کے ملازمین ہاتھوں پہ پلاسٹک کے دستانے چڑھائے، الیکٹرک بیلنس پہ دھڑا دھڑ ناشتے کی چیزیں تولتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

مین روڈ پہ صبح کے وقت کافی ٹریفک ہوتی ہے۔سب لوگوں کو ہی اپنی منزل پہ پہنچنے کی جلدی ہوتی ہے۔ اس وقت اسٹاف ڈیوٹی پہ جاتی ہوئی ایمبولینس بھی یہاں سے روز گزرتی ہے۔ اس کا سائرن اگرچہ آف ہوتا ہے لیکن سڑک سے گزرتی گاڑیاں پھر بھی اسے رستہ دیتی جاتی ہیں۔۔ اور میں ہنستی ہوں کہ دیکو لوگ اتنی جلدی میں ہیں کہ انہوں نے یہ بھی دھیان نہیں دیا کہ اس وقت یہ ایمبولینس کسی مریض کو لے کے نہیں بلکہ اسٹاف کے لوگوں کو لے کے جا رہی ہے۔
*****

دسمبر گزر گیا۔۔۔ جنوری آ گیا۔۔ نیا سال، نئی امیدیں، نیا عزم اور نئی ہمت، لیکن وہی پرانی روٹین۔۔۔ ہاں نئی بارش، جنوری کی بارش۔۔۔

بارش کے بعد سبزہ نکھر آیا ہے۔۔۔ درختوں کے پتے دھل کے نکھر گئے، ہوا میں اڑتی دھول مٹی بیٹھ گئی۔ رستہ دھل کے نکھر گیا۔۔ آسمان پہ چھائے کہرے کی جگہ شفافیت نے لے لی۔ سورج مشرق سے طلوع ہو رہا ہے اور اس کی نرم شعاعیں، آنے والے روشن دن کی نوید دے رہی ہیں۔ موسم میں سردی ہے لیکن گھوڑے اسی طرح میدان میں موجود ہیں۔
پرندے فضا میں شور مچا رہے ہیں۔ دینے والے نے ان سے بھی رزق کا وعدہ کیا ہے اور وہ اسی تلاش میں صبح صبح اپنے اپنے گھونسلوں سے باہر نکلے ہیں۔ سرخ اینٹیں دور تک بچھی ہوئی عجیب سا اطمینان بخش احساس دے رہی ہیں۔۔ جیسے کہہ رہی ہوں کہ آؤ اور ہم پہ سے گزر کہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جاؤ۔ اور پرندوں کی طرح ہی ہم سب بھی صبح صبح اپنے اپنے حصے کے رزق، اسباب اور نعمتوں کی تلاش میں گھروں سے نکلےہیں۔

Advertisements

5 comments on “فئیر ویدر

  1. واہ واہ سمارہ جی۔۔
    منظر کشی والی تحریریں تو ویسے بھی میری فیورٹ ہوتی ہیں۔۔ اور اس میں بیان کی فگئی چھوٹی چھوٹی باتیں اگرچہ بظاہر کسی اہمیت کی حامل نظر نہیں آتیں لیکن بہت اہم ہیں۔۔ اچھی عکاسی کر رہی ہیں وہ ہمارے ارد گرد کے ماحول اور طرز و اطور کی۔ ۔ ۔
    بہت خوبصورت تحریر ہے۔۔ شکریہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s