میٹھے بول میں جادو ہے۔

میٹھے بول میں جادو ہے۔
لیکن میٹھے سے تو شوگر ہو جاتی ہے۔
پھر بھی زیادہ تر لوگوں کو میٹھا پسند ہوتا ہے۔
اسی لئے زیادہ تر لوگ شوگر کی بیماری میں مبتلا ہیں۔

پھر۔۔۔ ؟ کیا میٹھا کھانا۔۔۔۔ ۔میرا مطلب ہے میٹھا بولنا چھوڑ دیا جائے۔

نہیں۔۔۔ توازن رکھا جائے۔

کیسے۔۔۔؟

زیادہ میٹھے سے بھی تو دل بھر جاتا ہے۔۔۔ تو کچھ منہ کا ذائقہ بدلنا چاہئے۔

ہمممم۔۔۔۔ یعنی کڑواہٹ شامل کر لی جائے۔

یوں ہی سمجھ لو۔

لیکن کڑواہٹ تو نیلا کر دیتی ہے، زہر کی مانند۔۔۔ رگوں میں پھیل جاتی ہے۔۔۔۔ ویسے ہی جیسے میٹھے سے شوگر خون میں شامل ہو جاتی ہے۔ پھر توازن کیسے قائم ہوگا۔؟

جیسے ایٹم میں ہوتا ہے۔۔۔ الیکٹران، پروٹان ایک دوسرے کا اثر ذائل کر دیتے ہیں۔

ہمممم۔۔۔۔ لیکن ایک مثبت اور ایک منفی کا حاصل ضرب تو ہمیشہ منفی ہی ہوتا ہے۔

لیکن دو منفی آپس میں مل کر ایک مثبت بھی تو بنا دیتے ہیں۔

اور یہ بھی تو کہ اگر کئی مثبت ہوں اور ان میں ایک منفی موجود ہو تو سارے مثبتوں کی موجودگی کے باوجود حاصل ضرب منفی ہی آتا ہے۔۔ ایک منفی تمام مثبتیت پہ بھاری آ جاتا ہے۔ آخری جیت منفیت کی ہو جاتی ہے۔۔۔ کڑواہٹ کا زہر رگوں کو نیلوں نیل کر دیتا ہے۔۔۔ خون کی گرم سرخی، سرد نیلاہٹ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔۔۔ ترازو کا پلڑا منفیت کی طرف جھکنے لگتا ہے۔ توازن قائم نہیں ہو پاتا۔

تو کیا صرف میٹھا ہی بولنا چاہئے کہ میٹھے بول میں جادو ہے۔؟

لیکن میٹھے سے تو شوگر ہو جاتی ہے۔

Advertisements

2 comments on “میٹھے بول میں جادو ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s