اتفاقات۔۔۔؟

اتفاقات۔۔۔؟

زندگی اتفاقات کا مجموعہ ہے۔

کسی نے کہا کہ اتفاقات پہ لکھو۔ اسی مقصد کے لئے اوپر والا جملہ لکھا ہے اور اس کے بعد۔۔۔۔ شاید ایک فل اسٹاپ۔۔۔ یعنی بات ختم۔

ایسا نہیں کہ مجھے اتفاقات پہ لکھنا نہیں آ رہا بلکہ میرے سامنے یہ سوال آ کھڑا ہوا ہے کہ کیا میں اتفاقات پہ یقین رکھتی ہوں۔۔۔؟

نہیں۔

میرا جواب نفی میں ہے۔ میری سوچ یوں ہے

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

یہاں "حادثے” کی جگہ "اتفاق” پڑھ کے دیکھیں، کیا کچھ سینس بنتی ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کچھ اتفاقی یا حادثاتی طور پہ نہیں ہوتا۔ یہ کائنات ایک مکمل نظام کے تحت چل رہی ہے اور اس نظام میں اتفاق کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن ہم پھر بھی واقعات کو اتفاقات سمجھ لیتے ہیں، کیونکہ ہمارے پاس اس کے علاوہ ان کی کوئی اور وضاحت نہیں ہوتی۔

ایک دفعہ کہیں پڑھا تھا کہ اگر آپ کسی دوسرے شہر میں سیر کے لئے جائیں اور کسی ہوٹل میں قیام کریں۔۔ اور وہاں رہنے کے لئے آپ کو پانچ سو چار نمبر کمرہ دیا جائے تو آپ کچھ بھی محسوس نہیں کریں گے۔

اسی سفر کو جاری رکھتے ہوئے، کسی دوسرے شہر میں، کسی دوسرے ہوٹل میں بھی آپ کو پانچ سو چار نمبر کمرے میں ٹھہرا دیا جائے تو ایک لمحے کو آپ چونکیں گے ضرور۔ عین ممکن ہے اسے اتفاق سمجھ کے مسکرائیں۔

لیکن اگر تیسرے ہوٹل میں بھی آپ کو پانچ سو چار نمبر کمرہ دے دیا جائے پھر۔۔۔۔ ؟

کیا آپ اسے اتفاق کا نام دیں گے؟

کیا آپ اسے کسی کی شرارت سمجھیں گے؟

کسی کی Planning کا نتیجہ؟

وجہ کچھ بھی ہو سکتی ہے۔۔۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اب آپ اس معاملے پہ غور ضرور کریں گے اور عین ممکن ہے کہ کسی نتیجے پہ پہنچ بھی جائیں۔ یوں بظاہر اتفاق نظر آنے والے واقعے کے پیچھے موجود وجہ بھی معلوم ہو جائے گی۔

یہ مثال جو میں نے آپ کو دی ہے، یہ بہت neat یعنی نفیس نہیں ہے۔ یہ بہت آسانی سے پکڑ میں آنے والی ہے۔ مزا تو تب ہے کہ planning بھی ہو اور اگلے کو علم بھی نہ ہو۔ گویا اتفاق ایک بہت اچھی planning کا نام ہے۔

کائنات میں سب سے اچھا planner بس ایک ہی ہے اور اس نے سارا پروگرام پہلے سے ہی لکھ کے محفوظ کر دیا ہے۔ اس پروگرام کو ہم لوگ تقدیر کہتے ہیں اور اس planner کو اللہ۔ ہر چیز اس کے مقرر کردہ حساب سے ہوتی ہے لیکن ہم سمجھ نہیں پاتے، جان نہیں پاتے۔ ہم ایسے واقعات کو اتفاق کا نام دے دیتے ہیں کیونکہ ہم نہیں جانتے۔

اتفاقات کے بارے مین ایک اچھی مثال بشریٰ سعید صاحبہ کے ناول "سفال گر” میں پڑھنے کو ملی تھی۔ جس میں ایک خوبصورت لڑکی اتفاق سے چند سر پھرے لڑکوں کے ہتھے چڑھ جاتی ہے جو اسے یہ یقین دلاتے ہیں کہ وہ انتہائی بدصورت لڑکی ہے۔۔ اب اس لڑکی کی ان لڑکوں سے ملاقات ایک اتفاق تھی یا کسی خاص وجہ سے، یہ جاننے کے لئے آپ کو ناول پڑھنا پڑے گا۔

شیکسپئر کی ایک بات یاد آ رہی ہے،

"دنیا ایک اسٹیج ہے اور ہم سب یہاں اپنے اپنے حصے کے کردار ادا کر رہے ہیں۔”

یہاں تک تو بات ٹھیک ہے، لیکن کردار ادا کرنے سے پہلے کیا کسی نے اسکرپٹ پڑھا ہے؟ اگر نہیں تو بس "زندگی اتفاقات کے مجموعے کا نام ہے۔”

Advertisements

6 comments on “اتفاقات۔۔۔؟

  1. محترمہ ۔ اتفاق میں بڑی برکت ہے ۔ یہ تو آپ نے سنا یا پڑھا ہو گا ۔ مگر جسے آپ نے اتفاق لکھا وہ دراصل "حُسِ اتفاق” ہے یا پھر "حادثہ” ۔ اور میں آپ سے متفق ہوں کہ حادثاتی طور یا حُسنِ اتفاق صرف ایک سوچ ہے ۔ سب کچھ منصوبہ بندی کے نتیجہ میں ہوتا ہے
    مجھے مجبوراً اپنے انگریزی بلاگ کے راستے سے یہاں آنا پڑا ہے
    http://www.theajmals.com

  2. ہمیں تو اتفاقات پر بڑا یقین ہے اور اپنے حق میں دلائل رکھے بغیر یقین ہے۔ انتظار کیجیے گا کسی دن ہم بھی اتفاق پر ایک بلاگ لکھ کر آپ کو مطلع کریں گے 🙂

  3. بہت خُوب جناب۔۔ عمدہ تحریر ہے۔۔
    اتفاقات کے بارے میں میری رائے بھی کچھ ، بلکہ یہی ہے۔۔
    مجھے بھی لگتا ہے سب پلیننگ کے تحت ہے۔۔ پتے کا ہلنا تک۔۔ تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی بڑا کام بنا کسی پلیننگ کے ہو جائے۔۔
    آخری لائن بہت ہی عمدہ ہے۔۔
    گریٹ جاب۔۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s