ذلتوں کے مارے لوگ از فیودور دوستوفیسکی

"
  The insulted and humiliated by Fyodor Dostoyevskyکا اردو ترجمہ "ذلتوں کے مارے لوگ”، ظ۔ انصاری صاحب نے کیا ہے۔

کرداروں کے نام روسی ہونے کی وجہ سے شروع میں ان کو سمجھنے اور ان سے تعلق بنانے میں کچھ وقت لگتا ہے۔۔ لیکن جب کہانی سے ربط بن جاتا ہے تو 400 سے زائد صفحات کی اس کتاب کو مکمل پڑھے بغیر چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔

کہانی کے عنوان سے ہی ظاہر ہے کہ اس میں ان لوگوں کی کہانی ہے جنہیں دنیا میں امیروں اور طاقتور لوگوں کے ہاتھوں ذلت اٹھانا پڑی۔۔۔ اس میں اولاد کے ہاتھوں والدین کو ہونے والی حزیمت کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔۔۔

کہانی بےحد سادہ انداز میں لکھی گئی ہے، کسی بھی گاڑھے اور مشکل فلسفے کے بغیر۔ اس کے باوجود یہ دل پہ گہرا اثر ڈالتی ہے۔ اپنے آغاز سے ہی یہ قاری کو جکڑ لیتی ہے اور جس طرح ایک غریب بوڑھے اور اس کے کتے کی موت کا ذکر ہے اس سے قاری بےحد متاثر ہوتا ہے۔

پلاٹ بے حد مربوط ہے اور تمام کردار اپنی اپنی جگہ بےحد ضروری ہے، کوئی بھی بھرتی کا یا غیر ضروری کردار اس کہانی میں نظر نہیں آتا۔ ہر کردار کی اپنی نفسیات ہے، جس کے پیچھے اس کا عجیب و غریب ماضی اور حالات ہیں۔

ایک اقتباس ملاحظہ کیجئے۔۔

میں نے ایک ہی نشست میں سارا ناول پڑھ کر سنا دیا۔ چائے پینے کے فوراً بعد شروع کیا تھا، رات کے دو بجے تک جاری رہا۔ بڑے میاں نے اول تو ناک بھوں چڑھائی۔ انہیں گمان تھا کہ کوئی بڑی شاندار چیز ہوگی، کوئی ایسی بات جسے وہ خود بھی سمجھ نہ پائیں، لیکن ہو بہت اعلیٰ ارفع۔ اور اس کے بجائے سننے کو کیا ملا۔۔۔ نہایت روزمرہ قدم کی سادہ چیزیں، یعنی ایسی جو خود انہی کو زندگی میں پیش آتی تھیں۔ یہ بھی نہ ہوتا، کم از کم اتنا تو ہوتا کہ ناول کا ہیرو ہی کوئی بڑا آدمی یا دلچسپ شخصیت کا مالک ہوتا یا تاریخی شخصیت کا آدمی، جیسے روسلا ولیف یا یوری میلو سلافسکی۔ مگر وہ بھی نہیں۔ اس کے بجائے جس ہیرو کا ذکر تھا اسے ایک معمولی دبا کچلا بلکہ سادہ لوح کلرک بتایا گیا جس کی وردی کے بٹن تک غائب تھے۔ اور پھر یہ ساری باتیں اس قدر معمولی، روزمرہ کی زبان میں لکھی ہوئی تھیں جیسی ہم خود بولتے رہتے ہیں۔ عجیب بات! بڑی بی نے نکولائی سرگیئچ کے چہرے کو حیران حیران نظروں سے دیکھا اور ایسے منہ بنایا جیسے روٹھ گئی ہوں۔۔۔ "کیا واقعی یہ خرافات اس قابل تھی کہ اسے چھاپا جاتا اور سنا جاتا، اور اوپر سے اس کام کا روپیہ بھی ملتا ہے۔” یہ جملہ گویا ان کے چہرے پہ لکھا ہوا تھا۔ نتاشا پوری توجہ سے سن رہی تھی۔ وہ ایسی منہمک تھی سننے میں کہ میرے چہرے سے اس کی نظر نہ ہٹتی تھی اور میرے ہونٹوں کی حرکت دیکھ رہی تھی کہ کیسے میں لفظوں کو ادا کرتا ہوں اور ساتھ ساتھ خود بھی اپنے نازک لبوں کو حرکت دیتی جاتی تھی۔ کیا سمجھتے ہیں آپ، کیا ہوا؟ ابھی میں ناول کا آدھا حصہ بھی ختم نہ کر پایا تھا کہ ان تینوں کی آنکھوں سے اشک رواں ہو گئے۔ آننا اندریئو سچ مچ رو رہی تھیں اور انہیں میرے ہیرو پہ رہ رہ کر ترس آ رہا تھااور ان کے بار بار کے ہائے وائے کرکے چونکنے سے میں نے یہ اندازہ کیا کہ وہ حد درجہ سادگی سے بےقرار ہیں کہ میرے ہیرو کی مصیبت میں کسی طرح کام آئیں۔ بڑے میاں نے تو اونچے خوابوں اور خیالوں سے ہی ہاتھ دھو لئے، یہ گمان ہی چھوڑ دیا کہ کوئی اونچے پائے کی چیز سامنے آئے گی۔ وہ بولے،” پہلے ہی نظر میں لگتا ہے کہ اتنا بڑا تیر تو نہیں مارا، یوں ہی معمولی سی ادنیٰ درجے کی کہانی ہے۔ بس اتنا ہے کہ دل دھڑکا دیتی ہے۔ اس سے آدمی محسوس کرنے لگتا ہے اور دیکھنے لگتا ہے کہ اس کے اردگرد کیا بیت رہی ہے۔ اور یہ احساس ہوتا ہے کہ سب سے دبا کچلا، بہت ہی نیچے درجے کا آدمی بھی آدمی ہے، اور میرا بھائی ہے۔”

ایک اور

"یہ ایک ایسی عورت کی کہانی تھی جسے لاوارث چھوڑ دیا گیا اور جو اپنے عیش لٹ جانے کے بعد جیتی رہی۔ بیمار رہی، قوت ذائل ہو گئی۔ ہر شخص نے اس پر تھوتھو کیا۔ اور وہ آخری آدمی جس کا سہارا لینا چاہا اس نے دھتکار دیا۔ یہ آخری شخص خود اس عورت کا باپ تھا جس کے ساتھ وہ ایک بار زیادتی کر چکی تھی اور جو بیٹی کی زیادتی اور دنیا بھر کے مصائب اور ذلتوں سے تنگ آ کر عقل کھو چکا تھا۔ یہ ایسی عورت کی کہانی تھی جو ہر طرف سے مایوس و نامراد ہو کر پیٹر برگ کی سڑکوں پر اپنی بچی کو، جسے وہ ابھی بہت کم سن سمجھتی تھی، لئے ہوئے، کیچڑ پانی میں، سردی پالے میں بھیک مانگتی رہی۔ ایسی عورت کی کہانی جو مہینوں ایک سیلے ہوئے تہہ خانے میں پڑی مرتی رہی جب کہ اس کا باپ، جس نے مرتے دم تک اسے معاف کرنے سے انکار کیا، بالکل آخری وقت پہ ترس کھاتا ہوا آیا کہ بیٹی کو معاف کر دے لیکن وہاں اس عورت کی جگہ جسے وہ دنیا میں سب سے عزیز سمجھتا تھا، ایک ٹھنڈی لاش پڑی تھی۔

Advertisements

2 comments on “ذلتوں کے مارے لوگ از فیودور دوستوفیسکی

  1. بہت خُوب جناب۔۔ اگر اس کتاب کا مطالعہ ای بُک کے ذریعے کیا گیا ہے تو لنک دینا بھی بنتا ہے۔۔
    دلچسپ کہانی لگی ۔۔ جب اتنا جامع تبصرہ ہو تو کہانی تو خُوب لگے گی ہی۔۔۔
    شکریہ

    • اتفاق سے اس کتاب کا بذریعہ ای بک مطالعہ نہیں کیا گیا، اس لئے لنک دینے سے قاصر ہوں۔۔

      تشریف آوری کے لئے بہت شکریہ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s