عشق آتش

تحریر: سیدہ سمارا شاہ

 

یار ڈاڈھی عشق آتش لائی ہے

ہر منظر پس منظر میں تھا۔۔۔ پیش منظر ایک الاؤکی صورت میں تھا جس کے اندر خشک لکڑیاں بھڑ بھڑ جل رہی تھیں اور اپنے جلنے سے الاؤ کو روشنی اور زندگی دئیے ہوئے تھیں۔ ۔ پس منظر اور پیش منظر کے درمیان اسی روشنی کا پردہ حائل تھا جس نے پس منظر پہ اندھیرا تان دیا تھا۔

پس منظر کی تمام آوازیں خاموش تھیں۔۔ پیش منظر کے سناٹے میں لکڑیوں کے جلنے کی بھڑ بھڑاہٹ تھی یا پھر مغنی کے گلے سے نکلتے ہوئے نغمہء عشق کی نغمگی، جو پیش منظر کا احاطہ کئے ہوئے تھی۔ ۔ ۔۔۔ لیکن نغمہء عشق ابھی نامکمل تھا، پہلے ہی مصرعے تک محدود تھا۔ ۔ مغنی کو نغمہ پورا گانے کی اجازت نہیں تھی۔ ۔ اس کا ریاض ادھورا تھا۔ ۔ ۔۔ ۔۔ پیش منظر میں دی جانے والی صدا، پس منظر کے خلاؤں سے ٹکرا کے گونج پیدا کرتی ہوئی واپس پیش منظر میں آ رہی تھی ۔۔

یار ڈاڈھی عشق آتش لائی ہے
یار ڈاڈھی عشق آتش لائی ہے

چٹختی لکڑیوں سے نکلتے شرارے اڑ اڑ کر ارد گرد کی زمین پہ بکھر رہے تھے۔ ایک وجود اس الاؤ کے گرد رقصاں تھا۔ لمبے قد، گھنگھریالے بال، سنہری رنگت اور سبز آنکھوں کے ساتھ یونانی دیوتا اپالو جیسے مردانہ حسن و وجاہت کا شاہکار، مائیکل اینجلو کے ڈیوڈ کا زندہ مجسم، یوسفِ ثانی جس کی موجودگی سے ایک دنیا میں آتشِ شوق بھڑک رہی تھی لیکن وہ خود کسی اور آگ میں جل رہا تھا۔ کندن یا راکھ بننے کے مرحلے سے گزر رہا تھا۔ ۔ ۔۔ اس کے اپنے اندر عشق کا الاؤ جل رہا تھا۔۔ اوروہ عشق کے سر، عشق کی لے اور عشق کی تال سے آتش عشق کا احاطہ کئے ہوئے تھا ۔اس کے قدموں کی تھاپ میں ماہر رقاص جیسی روانی تھی ۔ الاؤ اور رقصاں قدموں کے بیچ کا فاصلہ ہر تھاپ کے ساتھ کم ہو رہا تھا۔ پیش منظر میں لکڑیوں کے الاؤ کے گرد عشق کا الاؤ رقصاں تھا ۔
*****

کندھوں پہ بوجھ بھاری ہو تو چند قدم کا سفر بھی دشوار ہوتا ہے۔ ۔ گو ہر سفر کے لئے پہلا قدم اٹھانا ضروری ہوتا ہے۔پھر کبھی دو گام چلنے پہ منزل سامنے آ کھڑی ہوتی ہے اور کبھی آبلہ پا ہو جانے کے بعد بھی کوسوں دور رہتی ہے جیسے مسافر سے ملنے کی مشتاق نہ ہو یا مسافر کا سفر شوق آزمانے کے لئے دوری کو مہمیز کرتی چلی جاتی ہو، سفر کے ہر ایک قدم کے طے ہونے پہ مسافت کے دو قدم بڑھا دیتی ہو ۔۔۔۔ لیکن سفر صرف قدموں کے ساتھ نہیں طے ہوتا، رستہ ہونا بھی لازم ہے۔ اور رستہ وہ ہی ڈھونڈ سکتا ہے جس کو منزل اپنی طرف بلائے یا پھر جو اپنی جستجو سے منزل تک پہنچنے کا خود کو حقدار ثابت کرے ورنہ تڑپتا سسکتا رہ جاتا ہے۔ ۔

یہ تمام اسے مشکلات در پیش تھیں۔۔ فراق کا بھاری بوجھ تھا دل پہ اور رسائی کے سارے رستے کیمو فلاج کر دئے گئے تھے۔ اسے اپنی منزل کا علم تھا لیکن منزل تک پہنچانے والے رستے کا نہیں۔ نا ہی کسی رہبر کا ساتھ تھا جو ہاتھ پکڑ کے اس سفر کی منزلیں طے کرا دیتا ۔ ۔ ۔ عشق نے اس کے جسم و روح کو ایسے گرفت میں لیا ہوا تھا کہ فرار ممکن نہیں تھا۔ رسائی کے لئے رستہ گرچہ صرف ایک نہیں بلکہ کئی ایک تھے لیکن سب دسترس سے باہر تھےاور وصل کی آرزو لمحہ بھر چین نہیں لینے دے رہی تھی۔ اپنا رستہ اسے خود ہی بنانا تھا۔ جنہیں زمین کے اوپر پناہ نہ ملے انہیں زمین کے اندر پناہ لینی پڑتی ہے۔ ۔ رستہ جب سامنے نہ ہو تو اندر گھس کے سرنگ بنانی پڑتی ہے۔
*****

ڈھگ۔۔۔ڈھگ۔۔۔ ڈھگ

اس کے ہاتھ خالی تھے، نہ کدال پاس تھی اور نہ ہی پھاؤڑا۔ منزل تک پہنچنے کی طلب اسے یہ سرنگ کھودنے پہ مجبور کر رہی تھی۔ اس کا واحد اوزار اس کے ہاتھ تھے، کہنیاں تھیں ، پیر تھے۔۔ اور وہ انہی کو استعمال کرتے ہوئے دیوانہ وار سرنگ بنانے میں لگا ہوا تھا۔۔ ہر خطرے، نقصان سے بے پروا ہو کے اندر ہی اندر کھودے جا رہا تھا۔معلوم نہیں کتنا وقت بیت چکا تھا اور کتنا باقی تھا۔۔ اسے بس یہ معلوم تھا کہ اسے بہت محدود وقت دیا گیا تھا ، ایک دن کا۔۔ ۔۔ ایک ہی دن میں اسے منزل تک پہنچنا تھا۔۔۔ ورنہ دیر ہو جاتی، بہت دیر۔۔۔۔ اور یہ دیر اپنے پیچھے پچھتاوے چھوڑ جاتی، تڑپ چھوڑ جاتی اور سسکن چھوڑ جاتی جنہیں برداشت کرنے کا اس کا وجود متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ اسے ہر قیمت پہ اپنے لئے رستہ تلاشنا تھا اور آج ہی۔ ۔ یہ سرنگ ہی منزل تک پہنچنے کے لئے اس کی واحد امید تھی۔

کھودتے کھودتے سرنگ کہیں کھل گئی تھی۔ رستہ بن ہی گیا تھا ۔۔ اس نے خوشی، اطمینان، مسرت کا ایک سمندر اپنے اندر محسوس کیا۔ کندھوں پہ رکھا فراق کا بھاری بوجھ بھی عنقریب ہٹنے والا تھا۔۔۔ منزل سامنے موجود تھی۔۔۔ اس نے بے اختیار اپنے کپڑوں کو جھاڑا کہ مٹی ہٹا کے انہیں صاف ستھرا کر لے، ہاتھ پھیر کے شکنوں کو دور کرنے کی کوشش کی۔۔ الجھے بالوں کو سلجھایا، سمیٹا اور چہرے پہ تازگی لانے کے لئے ہاتھ منہ پہ پھیر کے وہ اب اپنے معشوق سے ملاقات کے لئے بالکل تیار تھا۔۔ اس نے اپنے قدم آگے کی طرف بڑھائے۔۔۔

لیکن اس سے پہلے کہ وہ دوسرا قدم بڑھاتا کوئی اور وجود اس کی طرف لپکا تھا، بہت تیزی کے ساتھ، پر تپاک انداز میں استقبال کے لئےجیسے عرصے کے فراق کی بے تابی ہو۔۔

” بڑی دیر لگائی صاحب ۔ آنکھیں ترس گئیں آپ کی راہ دیکھتے ۔۔ کہئے سفر کیسا رہا؟ رستہ خوشگوار گزرا؟ کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی؟۔” نازنیں اس کی طرف بڑھی تھی۔

وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکا۔

"آئیے۔۔ آئیے نا، کھڑے کیوں ہیں۔۔ تشریف فرمائیے۔ارے پنکھا جھلو آ کے صاحب کو، دیکھتے نہیں دور سے آئے ہیں۔ تھکے ہوئے ہیں۔ خاطر مدارت کرو ان کی۔ ایسے لوگ بار بار نہیں آتے۔ یہ تو ہماری خوش قسمتی ہے کہ یہ ہمارے غریب خانے پہ تشریف لائے۔ دیکھو کیسا روشن ہو گیا یہ گھر ان کے آ جانے سے۔” نازنین نے اپنی ہمنوا لڑکیوں کو اس کی مہمان نوازی کے لئے دوڑایا۔۔

اس نے ایک نظر اٹھا کے سامنے دیکھا۔۔۔۔ کمرے کے ایک کونے میں سازندے بیٹھے تھے۔۔ عرق گلاب کا تازہ تازہ چھڑکاؤ کیا گیا تھا جس سے کمرے کی فضا معطر تھی۔۔ قدم آدم بلند کھڑکیوں پہ پڑے جالی کے نفیس پردوں سے پائیں باغ کا منظر دکھائی دے رہا تھا، جس کے بیچوں بیچ صاف پانی کا فوارہ رواں تھا۔ جا بجا کھلے ہوئے رنگ برنگے پھول اور ڈال ڈال اڑتے پرندے، ماحول کی خوبصورتی کو بڑھا رہے تھے۔ ۔ فرش پہ سفید چاندنی بچھی ہوئی تھی، جس پہ اک ادا سے چلتی نازنین کے مہندی لگے پاؤں سے ایسا لگتا، ابھی سرخ رنگ اتر کے چاندنی پہ لگ جائے گا۔ وہ قدم اٹھاتی اور رکھتی لیکن چاندنی اس کے سرخ سرخ پاؤں کے نیچے سے ویسی کی ویسی سفید نکلتی چلی آ رہی تھی ۔۔۔۔

مورچھل اٹھائے کنزیں دائیں بائیں آ کھڑی ہوئیں۔۔ ایک خوبصورت لڑکی صراحی میں مشروب لے آئی تھی ۔۔

"ارے آپ ابھی تک کھڑے ہیں، بیٹھے نا، یہ لیجئے نوش کیجئے۔۔۔” نازنین نے گلاس میں مشروب انڈیلتے ہوئے اسے کہا۔

” یہ کیا جگہ ہے۔۔۔” اس نے سوال کیا۔

"یہ وہی جگہ ہے صاحب جہاں آپ آئے ہیں، خود سے چل کے اور اتنی مشقت سے ڈھونڈ کے۔ کیا نہیں پہچانتے اس جگہ کو۔۔ یہی تو ہے آپ کی منزل جس کے لئے آپ نے اتنا کشٹ اٹھایا ہے۔” نازنین نے اس کے قریب آتے ہوئے کہا۔
"یہ میری منزل نہیں یہ تو کنجر خانہ ہے۔ ”

” دعویء عشق کا پہلا اصول ہے کہ جہاں معشوق وہیں منزل۔ معشوق اگر کنجر خانے میں ہو صاحب، تو وہی منزل بن جایا کرتا ہے۔”

” لیکن تم میری معشوق نہیں ہو میں تمہاری تلاش میں یہاں نہیں آیا تو یہ جگہ میری منزل کیسے ہو سکتی ہے”

"یہ عشق نہیں آسان بس اتنا سمجھ لیجئے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
مکتب عشق کے آداب سے آپ ناواقف لگتے ہیں صاحب! ۔ صرف پا لینا ہی عشق نہیں، فنا ہونا بھی عشق ہے۔ مجھ میں فنا ہو جائیے صاحب ، ڈوب جائیے۔۔ ”

نازنین نے گلاس اس کے لبوں سے لگا دیا۔۔

"نہیں۔۔۔” اس نے ہاتھوں سے گلاس کو ہٹاتے ہوئے تیز آواز میں کہا۔ ۔

"کیا وہ بہت خوبصورت ہے، پر کم تو میں بھی نہیں ہوں۔۔ ”

اس نے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا تھا۔

"مت جاؤ، دیکھو میں اپنی کلائی کاٹ لوں گی۔زہر کھا لوں گی۔ کنویں میں کود جاؤں گی۔۔ ۔ میں تو خوش نصیب ہوں کہ تم اس طرح ڈھونڈتے ہوئے میرے پاس آ پہنچے ہو، منزل چاہے کوئی بھی ہو تمہاری، ایسے سچے عاشق کی سیوا کرنے میں ہی میری نجات ہے۔۔ میں تمہیں نہیں جانے دوں گی۔۔ ” نازنیں اس کے قدموں سے لپٹ گئی تھی۔
منزل اس کی کچھ اور تھی لیکن رستے نے دھوکہ دے دیا تھا اسے وہاں نہیں پہنچایا تھا جہاں وہ جانا چاہتا تھا ۔۔۔

"چل ہٹ سامنے سے۔۔۔ دفع ہو یہاں سے فاحشہ عورت۔۔۔” اس نے متوحش انداز میں کہا اور کھڑے کھڑے پلٹ گیا۔
*****

چل ہٹ سامنے سے۔۔۔ دفع ہو یہاں سے فاحشہ عورت۔۔۔”

راہ گیر نے مڑ کر آواز کی سمت دیکھا۔ ایک شخص خود کلامی میں مگن تھا۔
*****

ڈھگ۔۔۔ڈھگ۔۔۔ ڈھگ

اس نے نئی سرنگ کھودنی شروع کر دی تھی ۔ پہلی سرنگ اس کی منزل کی طرف نہیں لے گئی تھی۔۔۔ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا سوائے دوسری سرنگ کھودنے کے۔۔۔ اس کے پاس کوئی مدد نہیں تھی اور اس نے کسی سے مدد مانگی بھی نہیں تھی۔ ۔۔ وقت گزرتا جا رہا تھا لیکن نہیں جانتا تھا کہ باہر ابھی تک صبح ہی تھی، دن چڑھ گیا تھا، سائے بننے لگے تھے، یا شام ہو چلی تھی۔۔۔ بس رات نہ ہو، اسے یہی فکر تھی وہ ناکام نہیں ہونا چاہتا تھا۔۔ وہ تیزی سے کھدائی کر رہا تھا۔ آگ کا الاؤ لحظہ بہ لحظہ اسے جلائے دے رہا تھا۔۔۔ آتش عشق مسلسل اس کے گرد رقصاں تھی۔
کھودتے کھودتے اس کا ہاتھ خلا میں جا پڑا۔ سرنگ کے اختتام پہ راستہ نکل آیا تھا۔ اس کا دل بہت زور سے دھڑکا، منزل پہنچنے کی خوشی نے اس کے دل کی دھڑکن کو بڑھا دیا تھا۔۔ ۔ یہ خوشی ایسی تھی کہ جیسے برسوں صحرا میں پیاسا بھٹکنے کے بعد ایک دم سے سامنے نخلستان آ جائے اور نخلستان ہی تو تھا اس کے سامنے۔۔ کھجوروں کا باغ، ٹھنڈے پانی کا چشمہ اور نخلستان کے بیچوں بیچ سفید یاقوت سے بنا سر بفلک محل۔۔۔سینے میں جلتی آتش عشق نے اس کے اندر موجود پانی کے ہر قطرے کو سکھا دیا تھا اور اب آتش عشق کے ساتھ ساتھ پیاس اس کی مستقل ہمسفر تھی۔ وہ پانی پینے کے ارادے سے چشمے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ محل کے اندر سے سیاہ لباس میں ملبوس ایک شخص نکل کے اس کے پاس آیا۔۔

"خوش آمدید مالک! امید ہے آپ کا سفر اچھا گزرا ہوگا۔ میں آپ ہی کا منتظر تھا، ادھر تشریف لے آئیے۔”اس کا لہجہ کھردرا اور انداز مؤدبانہ تھا۔

"کون مالک۔”

"آپ مالک! اور کون۔”

"میں مالک نہیں ہوں، رستہ بھٹکا ہوا ایک مسافر ہوں جو اپنی منزل تلاش کرتے کرتے یہاں آ نکلا ہے ۔ پیاسا ہوں، چشمے سے دو گھونٹ پانی پیوں گا اور اپنی منزل کی تلاش میں نکل جاؤں گا۔ تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔”

غلط فہمی نہیں ہوئی مالک، مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ آپ ہی یہاں کے مالک ہیں۔ یہ نخلستان آپ کی ملکیت ہے، یہ عالی شان سفید محل آپ کا ہی ہے۔ میں آپ کا خادم خاص ہوں۔اور یہاں سب آپ کے خادم ہیں۔ ” اتنا کہہ کے اس شخص نے تالی بجائی۔ سیاہ لباس میں ملبوس ایک اور شخص حاضر ہو گیا۔ اس کے لباس کی آرائش اور وضع قطع اسے درجے میں پہلے شخص سے کم تر ثابت کر رہی تھی۔

"مالک کے لئے شربت خاص لے کے آؤ۔” خادم خاص نے حاضر ہونے والے خادم سے کہا۔

"آئیے مالک، جتنی دیر میں شربت آتا ہے اور آپ اس سے اپنی پیاس بجھاتے ہیں، میں آپ کو یہاں کی سیر کراتا ہوں۔ آپ کو بھی یاد آ جائے گا کہ یہ نخلستان آپ ہی کا ہے۔”
خادم خاص اسے لے کے محل کے اندر داخل ہو گیا۔

"یہ دیوان عام ہے اور آپ کی مسند خالص سونے کی ہے جس کی آرائش ہیروں اور مرجان سے کی گئی ہے۔ ۔ اس کمرے کی تزئین میں سرخ، سفید اور سبز سنگ کا استعمال کیا گیا ہے ۔ صبح کے وقت جب روشنی اندر آتی ہے تو سنگ مرمر سے ٹکرا کے مختلف رنگوں میں بکھر جاتی ہے اور ہر دیوار پہ الگ ہی رنگ بکھیر دیتی ہے۔”

” یہ دیوان خاص مالک۔” وہ دونوں ایک دوسرے کمرے میں داخل ہو گئے تھے۔

"دیوان خاص کا قالین خاص پرندوں کے پروں سے بنا گیا ہے۔ اور قدم رکھنے پہ آرام اور نرمی کا انمٹ اثر چھوڑتا ہے۔ آپ اس قالین پہ قدم رکھیں گے اور آپ کی سفر کی تمام تھکاؤٹ دور ہوجائے گی۔” خادم خاص نے اس سے کہا۔
وہ خاموشی سے سنتے ہوئے جا رہا تھا۔ خادم شربت خاص لے کے ابھی تک واپس نہیں لوٹا تھا۔ ایک کے بعد ایک کمرے سے ہوتے ہوئے اب محل کے پچھلے حصے میں تھے۔

"یہ اونٹوں کا باڑہ ہے اور ان سے ملئے، یہ داروغہء خزانہ ہیں۔ آپ کے خزانے کی حفاظت انہی کے زمے ہے۔” اس نے باڑے کے دروازے پہ ایستادہ خادم کا تعارف کراتے ہوئے کہا۔

"کیسا خزانہ۔”

"قارون کا خزانہ مالک۔۔ پورے چالیس اونٹوں پہ اس خزانے کی چابیاں لدی ہیں۔۔۔”

"قارون کا خزانہ تو زمین میں غرق ہو گیا تھا۔”

"جی مالک زمین پھاڑ کے اس خزانے کو نیچے اتار لیا گیا تھا اور غرق ہونے کے بعد اسے آپ کی عملداری میں دے دیا گیا ہے۔ اب اس خزانے کے مالک آپ ہیں۔ ہم خدام صدیوں سے آپ کی آمد کے منتظر ہیں اور اس خزانے کی حفاظت، محل اور نخلستان کی دیکھ بھال کر رہے ہیں تاکہ آپ جب بھی یہاں تشریف لائیں آپ کے دل کو اطمینان اور سکون محسوس ہو اور آپ کا کہیں اور جانے کا دل نہ کرے اور آپ ہمیشہ یہاں قیام کریں۔”

"اور یہاں کی خاص ترین چیز مالک، معلق باغات۔”

وہ اب دریچے سے باہر دیکھ رہے تھے۔۔ خادم خاص نے سچ کہا تھا معلق باغات اس کے سامنے تھے۔

"کیا یہ اہل بابل والے باغات ہیں ۔ پر یہ باغات تو تباہ ہو گئے تھے۔”

"جی مالک، صحیح پہچانا آپ نے۔ یہ نعمت زمین کے باسیوں کے لئے نہین تھی اس لئے انہیں تباہ کر دیا گیا تھا۔۔ اس تباہی کے بعد یہ معلق باغات یہاں موجود ہیں، اپنے مالک یعنی آپ کی آمد کا انتطار کرتے ہوئے کہ وہ کب آئے اور ان میں چہل قدمی کرے۔”
خادم ہاتھ میں ٹرے اٹھائے نمودار ہو گیا تھا ۔ اس ٹرے میں مشروب سے بھرا گلاس تھا۔ اسے اپنی پیاس یاد آ گئی۔۔ اس نے ہاتھ بڑھا کے گلاس اٹھا لیا لیکن ابھی پہلا گھونٹ بھی نہ لیا تھا کہ مشروب سے آنے والی مہک اسے ناگوار محسوس ہوئی۔۔ ۔ "یہ کیا ہے۔” اس نے مشروب کی طرف اشارہ کیا۔

"یہ شربت خاص ہے مالک۔۔ معلق باغات کے انگوروں سے نکلا ہوا، خاص آپ کے لئے۔ کبھی اس مشروب سے کوئی لطف اندوز نہیں ہوا۔ آپ وہ خوش نصیب ہیں جس کے نصیب میں سب سے پہلے اس کا ذائقہ چکھنا لکھا ہے۔ ۔”

"یہ شراب ہے۔” اس نے پئے بغیر ہی گلاس زمین پہ پھینک دیا۔۔ سیاہی مائل سرخ مشروب زمین میں جذب ہو گیا۔۔

"مشروب خاص ہے یہ مالک۔ شراب طہور ہے، آپ کے لئے حلال ہے” خادم خاص نے جواب دیا۔

وہ پیاسا ہی الٹے قدموں واپسی کی طرف دوڑا۔۔

” رک جائیے۔۔۔ ہم سے کیا غلطی ہوئی مالک۔۔۔ مت جائیے، یہ نخلستان، یہ محل، یہ خزانہ، یہ باغات آپ کے ہی ہیں۔۔۔ رک جائیے مالک۔۔” خادم خاص اس کے پیچھے لپکا۔ ۔۔ ۔۔

” میں یہاں کا مالک نہیں ہوں۔۔۔ یہ نخلستان نہیں سراب ہے۔۔یہاں کسی کی پیاس نہیں بجھ سکتی۔۔۔ میری منزل یہاں نہیں ہے ۔۔۔”
*****

” میں یہاں کا مالک نہیں ہوں۔۔۔ یہ نخلستان نہیں سراب ہے۔۔یہاں کسی کی پیاس نہیں بجھ سکتی۔۔۔ میری منزل یہاں نہیں ہے ۔۔۔” وہ تکرار کئے جا رہا تھا۔

” پانی پی لو۔۔”

اس نے سر اٹھا کے دیکھا، ایک چرواہا کٹوری میں پانی لئے اس کے سامنے کھڑا تھا۔ بکریاں آس پاس ہی چر رہی تھیں۔ ۔ اس نے ہونٹوں پہ زبان پھیری، وہاں سخت پپڑیاں جمی ہوئی تھیں۔لیکن زبان بھی پیاس کی وجہ سے اکڑ چکی تھی ۔۔ مسلسل کھدائی سے اس کے ہاتھ پھٹ گئے تھے، انگلیاں ٹیڑھی ہو کے سخت ہو گئی تھیں۔ اس نے کانپتے ہاتھوں، اور ٹیڑھی انگلیوں کے ساتھ وہ کٹوری تھام لی۔ اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔ اورلڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ چلتا چلا گیا۔۔۔ کٹوری کے پانی سے زمین سیراب ہوتی چلی گئی۔۔۔ ہونٹوں کی پپڑیاں پہلی کی طرح سوکھی تھیں۔
چرواہا حیرت سے اس فقیر کو دیکھ رہا تھا جس نے پیاس کے باوجود پانی پینے کی کوشش نہیں کی تھی۔ وہ دوبارہ سے اپنے ریوڑ کو چرانے میں مشغول ہو گیا۔
*****

ڈھگ۔۔۔۔ ڈھگ۔۔۔۔ ڈھگ۔۔۔۔

وہ دعویء عشق سے دستبردار نہیں ہوا تھا۔ ہاتھوں کی انگلیاں کب کی ختم ہو چکی تھیں۔۔ اب وہ کلائی سے کھدائی کر رہا تھا۔ محبوب کا دیدار حسرت بنتا جا رہا تھا۔ وقت تھوڑا رہ گیا تھا۔۔۔ ناجانے کب شام ہو جاتی اور وہ منزل پہ پہنچے بنا ہی اندھیرے کا شکار ہو جاتا۔ اتش عشق کی تپش اس کے روؤں کو جلائے دے رہی تھی۔

“تم اندر نہیں جا سکتے”

سرنگ مکمل ہو گئی تھی لیکن راستہ نہیں کھلا تھا۔ سرنگ کے اختتام پہ ایک جنگلہ تھا جو بند تھا اور چوکیدار دوسری طرف سے کہہ رہا تھا، ” تم اندر نہیں جا سکتے۔”

اس نے جنگلے کے پیچھے سے اندر جھانکنے کی کوشش کی تاکہ اندازہ کر سکے کہ اس دفعہ سرنگ کدھر نکلی ہے۔ آیا یہ اس کی منزل ہے یا ہمیشہ کی طرح سراب ، فریب نظر۔۔ لیکن دوسری طرف دھند کا دبیز پردہ تھا، اس کی نظریں اس کے پار نہ جھانک سکیں۔

” یہ کیا جگہ ہے۔” اس نے چوکیدار سے پوچھا۔

"انسانوں کی پہنچ کی یہ آخری حد ہے۔ اس مقام سے آگے جانے کی کسی انسان کو اجازت نہیں۔ ۔ اب تم جاؤ یہاں سے”

"لیکن میں بہت دور سے آیا ہوں، تھکا ہوا ہوں۔۔ کیا دو گھڑی سستانے کی اجازت بھی نہیں۔”

"نہیں۔”

خوش آمدید۔۔۔ خوش آمدید۔۔۔!” جنگلے کی دوسری طرف ایک انتہائی خوبصورت شخص نمودار ہوا تھا ۔ اس کے پیچھے سے نکلتے دو پر اس کے غیر انسانی مخلوق ہونے کے عکاس تھے۔

"میرے آقا نے یہاں مجھے آپ کے استقبال کے لئے بھیجا ہے۔ مبارک ہو آپ آزمائش میں پورے اترے ہیں۔”

"دروازہ کھولو ان کے لئے، یہ بڑے مرتبے والے مہمان ہیں” آنے والے نے اس کے استقبال کے ساتھ ہی دربان کو دروازہ کھولنے کا بھی حکم دے دیا تھا ۔

"کیسی آزمائش۔۔؟” جنگلہ کھل گیا تھا لیکن وہ اندر داخل نہیں ہوا تھا۔

” آپ یہاں آنے کے خواہش مند تھے۔ انسانوں کو یہاں کی رسائی نہیں دی گئی ہے لیکن اس کے باوجود آپ کوشش میں جٹے رہے۔ پھر صرف آپ کے لئے قوانین میں تبدیلی کی گئی۔ رستہ کھول دیا گیا۔۔ آپ کو اجازت دینے کا فیصلہ توہوا لیکن لیکن اس کے لئے آپ کی آزمائش کی شرط رکھ دی گئی تھی۔ دنیا کی حسین ترین عورت آپ کے تصرف میں دے دی گئی لیکن آپ نے اس پہ نگاہ غلط نہ کی۔۔ مال و دولت اور جاہ و رتبہ دے کے آزمایا گیا لیکن آپ نے اسے پانی کی طرح زمین پہ بہا دیا۔۔”

وہ خاموشی سے اس کی باتیں سن رہا تھا۔ یہ اس پہ انکشاف تھا کہ پچھلی ناکامیاں دراصل اس کا امتحان تھیں۔ وہ مسرور تھا کہ انجانے میں ہی سہی لیکن ان امتحانوں سے کامیابی سے گزر آیا تھا اور اب اس کی منزل سےدوری کی مدت بہت کم رہ گئی تھی۔۔ وہ مشکلات کا سمندر پار کر آیا تھا، عشق کے دریا میں ڈوب کے باہر نکل آیا تھا۔ اس کے دل میں خوشیوں کی قلقاریاں پھوٹنے لگی تھیں۔۔ ۔ ۔

"آپ عشق کے دعوے دار تھے اور آپ کی آزمائش تھی کہ پے در پے ناکامیوں کے بعد بھی آپ کتنی دیر تک آس لگائے کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ دعوے دار تو بہت ہوتے ہیں لیکن دائرے میں ہی گھومتے رہ جاتے ہیں، عشق و محبت کو سمجھ ہی نہیں پاتے اور پھر ان کے لئے اصولوں میں تبدیلی بھی نہیں ہوتی، حکم نہیں آتا ان کے لئے۔۔ حکم صرف آپ کے لئے ہی آیا ہے۔”

اس کا دل بلیوں اچھلنے لگا تھا۔۔ اتنی پذیرائی کا تو اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔۔

"آقا نے آپ کے لئے خلعت فاخرہ بھجوائی ہے۔ اور مجھے ہدایت کی ہے کہ آپ کو ترو تازہ کروا کے تیار کرکے ان کے پاس لے آؤں تاکہ سفر کی پریشانیوں کے آثار آپ کے وجود سے مٹ جائیں۔ آپ پہلے کی طرح خوبصورت بن کے ان سے ملیں اور اپنی حالت زار پہ کسی قسم کی شرمندگی محسوس نہ کریں۔ آزمائشوں کے دوران جتنی تکالیف آپ نے اٹھائی ہیں ان کی تلافی کے طور پہ انہوں نے آپ کو ہمیشہ کی زندگی عطا کر دی ہے۔ یہ آب حیات بھجوایا ہے، اسے پی کے آپ زندہ جاوید ہو جائیں گے۔ وہ آپ سے ملنے کے منتظر ہیں۔” اس کے ہاتھ میں چاندی کی ایک خوبصورت طشتری تھی جس پہ سرخ مخملیں کپڑا ڈھکا ہوا تھا۔

"تم جھوٹ بولتے ہو۔۔۔ جس کو میں اتنی محنت سے ڈھونڈ رہا ہوں یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ میرے استقبال کے لئے کسی اور کو بھیج دے۔ تمہیں کسی نے نہیں بھیجا۔ تم یہاں مجھے بھٹکانے کے لئے آئے ہو۔ میں جس کی تلاش میں ہوں۔ جب اس کی تلاش کے لئے میں نے کسی کی مدد نہیں لی، اپنے عشق میں کسی کو شریک نہیں کیا تو وہ کیسے اپنی جگہ کسی اور کو بھیج سکتا ہے۔ میرا عشق خالص ہے، طلب سچی ہے، جب میں نے اس کی تلاش کے سفر کو آلودہ نہیں کیا تو وہ بھی نہیں کر سکتا۔اس کو میری حالت زار سے کیا کرنا۔۔ اس کے لئے تو طلب کی سچائی پیمانہ ہے۔میں تھوکتا ہوں تم پہ۔” اور اس کے ساتھ ہی اس نے اس کی طرف تھوک دیا۔

"تم کب تک آس لگاؤ گے ۔تمہیں ہر سرنگ کے کنارے پہ میں ہی ملوں گا کبھی نازنین کے روپ میں اور کبھی خادم خاص کے روپ میں۔۔ ۔۔” اسے شیطانی قہقہہ پیچھے سنائی دیا۔راز کھلنے پہ وہ اپنے اصلی روپ میں آ گیا تھا۔

۔۔ تم جھوٹے ہو۔۔۔ ابلیس ہو۔۔۔ رستے سے بھٹکانے والے ہو۔۔۔ شیطان ہو۔۔۔” ۔۔۔”

اور وہ اسی سرنگ پہ واپس پلٹ گیا۔آنسو ٹپ ٹپ اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے، خون کے آنسو۔۔۔رستہ اس کے پیچھے سرخ ہوتا جا رہا تھا۔۔
*****

"تم جھوٹے ہو۔۔۔ ابلیس ہو۔۔۔ رستے سے بھٹکانے والے ہو۔۔۔ شیطان ہو۔۔۔” وہ بڑ بڑا رہا تھا۔ اندر کی آگ کی تپش سے اس کا چہرہ جھلس رہا تھا اور بدن جل رہا تھا۔مسلسل کھدائی کی تھکن چہرے پہ ہویدا تھی اور اس کا وجود آنسوؤں سے تربتر تھا۔

مجمعے میں سے ایک پتھر نکل کے اسے لگا۔۔۔ پھر ایک اور پتھر۔۔۔ اس کے بعد ایک اور۔۔۔ اس کے بعد کئی ایک۔۔۔ اور پھر پتھر ہی پتھر۔۔۔۔

"مارو، مارو۔۔۔۔ پاگل ہے، پاگل ہے یہ۔”
*****

ڈھگ۔۔ ڈھگ۔۔۔ ڈھگ۔۔۔

کھدائی مسلسل جاری تھی۔ کلائیاں ختم ہو چکی تھیں اور اب کہنیوں کے بل پہ کھدائی جاری تھی لیکن جذبہ پہلے سے بڑھ کر تھا ۔۔۔ وہ اپنے کام سے لگا ہوا تھا۔ رک جاتا تو آتش عشق کی تپش ناقابل برداشت ہو جاتی۔ مستقل کوشش ہی اس آگ کو نسبتاً ٹھنڈا کرنے میں مدد گار تھی۔
وہ پھر سے نقطہء آغاز پہ آ پہنچا تھا۔ اتنی محنت، کوشش سب لا حاصل رہی تھی، بے نتیجہ، وہ اب بھی اسی مقام پہ کھڑا تھا جہاں سے اس نے سفر کا آغاز کیا تھا۔ منزل تک پہنچنا تو دور کی بات وہ ابھی تک رستہ ڈھونڈنے اور بنانے میں ناکام رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ منزل کو اس کا شدید امتحان مقصود ہے اسی لئے وہ اس کے ساتھ بھل بھلیاں کا کھیل رچا رہی تھی۔ شاید اس کی تلاش، اس کی کوشش اور بڑھتی طلب کو دیکھ کے منزل کو لطف آ رہا تھا اور وہ اس تلاش کو طول دئے جا رہی تھی۔ اس کی راہ کو خار زار کر رہی تھی اور وہ اسے گل و گلزار سمجھ کے آگے ہی آگے بڑھتا چلا جا رہا تھا۔

کیا دل کا حال سناؤں
کوئی محرم راز نہ پاؤں
صحراؤں کی مٹی چھانی
سب نام اور ننگ گنوایا
کوئی پوچھنے پھر بھی نہ آیا
الٹا جگ سارا ہنستا ہے
ہے بوجھ فراق کا بھاری
ہوئی شہر بہ شہر خواری
روتے ساری عمر گزاری
نہ پتہ چلا منزل کا
دل تڑپے یار کی خاطر
اور تڑپ تڑپ غم کھائے
دکھ پائے رنج اٹھائے
ہے طور یہی اب دل کا

مسلسل کھدائی سے اس کا دل لہولہان ہو چکا تھا۔ اس سرنگ کی ناکامی کے بعد اس میں مزید سرنگ کھودنے کی جگہ بھی نہیں بچی تھی،، یہ سرنگ ممکنہ طور پہ آخری سرنگ ہو سکتی تھی۔۔۔ اس کو دیا گیا وقت بھی ختم ہونے والا تھا۔۔۔ اور اگر اس کا معشوق یہاں بھی نہ ہوا تو۔۔۔

اپنے من ميں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر ميرا نہيں بنتا نہ بن ، اپنا تو بن
من کی دنيا ! من کی دنيا سوز و مستی ، جذب و شوق
تن کی دنيا! تن کی دنيا سود و سودا ، مکروفن
من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہيں
تن کی دولت چھاؤں ہے ، آتا ہے دھن جاتا ہے دھن

اور وہ اپنے من کی دنیا میں اپنے معشوق کی تلاش میں جتا تھا۔۔ اس نے اپنے دل کے اندر ہی اندر سرنگیں کھود ڈالی تھیں کہ اسے یقین تھا کہ کسی نہ کسی سرنگ میں تو وہ بیٹھا ملے گا ہی ۔۔ منزل تو ہر دل میں موجود ہونے کی دعوے دار ہے تو اس کی تلاش کے لئے خلاؤں میں بھٹکنے کی کیا ضرورت ہے صرف دل کو کھنگالنے سے وہ مل جائے گی۔ ۔من کی دنیا اور تن کی دنیا میں بہت فرق تھا اور اس نے یہ فرق پہچان لیا تھا۔۔ تن کی دنیا نے اسے دکھ دئے تھے، تکلیف دی تھی، پتھر دئے تھے اور من کی دنیامعشوق کی دنیا تھی جہاں سے کچھ لینے کے لئے وہ کھوج کر رہا تھا، سراغ زندگی پانے کی تلاش میں تھا۔

سرنگ کہیں بھی نہیں پہنچی تھی لیکن اس کی آنکھوں کے سامنے سے پردہ ہٹا دیا گیا تھا۔ منظر صاف اور واضح تھا منزل اس کے سامنے تھی، اس کے اندر تھی، اس کے من میں چھپی ہوئی تھی ۔۔۔۔ منزل نے اسے اپنے رسوخ تک، ملاقات تک، شناسائی تک، مصاحبت تک، ہمسائگی تک پہنچا دیا تھا۔ وہ خوش قسمت تھا، رسائی پا گیا تھا۔ اس کا دعویء عشق سچا تھا کہ وقتی سنوائی نہ ہونے کے بعد بھی وہ آس لگائے بیٹھا تھا اور بالآخر کامیاب ہو گیا تھا۔۔رات ہونے سے پہلے پہلے اس نے منزل تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ فراق کا بوجھ سینے سے ہٹ گیا تھا۔۔ ۔ اس کا وجود خوشی سے بھر گیا تھا۔۔

"انا الحق۔۔۔” اس نے زور دار نعرہ لگایا اور بےہوش ہو کے گر گیا۔
*****

"انا الحق”۔۔۔ اس نے زور دار نعرہ لگایا۔

جلاد نے ایک ہی جھٹکے میں اس کا سر قلم کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی زندگی کے اکلوتے دن کی رات ہو گئی تھی۔
****

پیش منظر میں الاؤ جل رہا تھا۔ ۔۔ سنہری وجود ہنوزمحو رقص تھا۔۔۔ آتش عشق اس کے من سے نکل کے آکاس بیل کی طرح پورے وجود پہ پھیل گئی تھی۔۔ اس کے قدموں اور آگ کے الاؤ کا فاصلہ کم ہوتے ہوتے ختم ہو گیا تھا۔ اب وہ الاؤ کے بیچوں بیچ کھڑا رقص کر رہا تھا۔ اور ایسا لگتا تھا کہ الاؤ اور آتش عشق اس کے گرد رقص کر رہے ہیں۔ لکڑیوں کے الاؤ نے اس کے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ لیکن یہ آتش عشق تھی، جو سامنے سے دیکھنے میں تپش دیتی تھی لیکن اندر سے ٹھنڈی سکون بخش تھی اور جلنے میں لذت دے رہی تھی۔ بظاہر آگ میں رقصاں وجود پہ پاگل ہونے کا گمان ہوتا تھا لیکن وہ ہوشمندی کے عروج پہ تھا۔۔ آگ میں لکڑیوں کی بھڑبھڑاہٹ کے ساتھ ساتھ ہڈیوں کے جلنے کی چرچراہٹ تھی۔ ہڈیاں راکھ ہو کے سفوف بنتی جا رہی تھیں لیکن یہ کندن بننے کا عمل تھا ۔۔۔ عشق حقیقی کی پہلی منزل پار ہو گئی تھی ، لیکن اور کئی منزلیں اس کے آگے تھیں۔۔

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

پیش منظر سے آگے اور بھی کئی پیش منظر تھے جہاں آتش عشق اس کے رقص کی منتظر تھی۔۔ ایک پردہ اٹھا تھا ابھی کئی پردے اٹھنے باقی تھے۔۔
پیش منظر میں الاؤ جل رہا تھا لیکن اب اس کے گرد کوئی وجود رقصاں نہیں تھا۔۔۔ پس منظر میں اندھیرا اور سناٹا تھا۔ مغنی کے نغمہء عشق نے پیش منظر کو اپنی گرفت میں لیا ہوا تھا

یار ڈاڈھی عشق آتش لائی ہے
یار ڈاڈھی عشق آتش لائی ہے
وے یار سانوں وے دوست
سانوں لگ گئی بے اختیاری
سینے دے وچ ایہہ سمائی ہے
یار ڈاڈھی عشق آتش لائی ہے
یار ڈاڈھی عشق آتش لائی ہے
۔۔۔۔ اختتام۔۔۔

Advertisements

2 comments on “عشق آتش

  1. السلام علیکم

    ایک بار پھر آپ کی یہ دل کو چھونے والی تحریر پڑھ کر بے انتہا اچھی لگی ۔۔۔

    میرے بلاگ کا نام بھی اپنے بلاگز کی لسٹ میں شامل کرنے کا تہہ دل سے شکریہ سمارا جی ،خوش رہیں سدا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s