آپریشن جیرونیمو از برگیڈیئر ریٹائرڈ شوکت قادر

آپریشن جیرونیمو از برگیڈیئر ریٹائرڈ شوکت قادر

ترجمہ: عبدالقادر (روزنامہ امت)

انگریزی زبان میں لکھی گئی یہ کتاب اسامہ بن لادن کے قتل کے موضوع کا احاطہ کرتی ہے اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا پہلا سال مکمل ہونے کے موقع پہ شائع ہوئی ہے۔ مصنف عسکری اور سیاسی تجزیہ نگار ہیں اور اسی مہارت کو استعمال کرتے ہوئے اس کتاب میں انہوں نے اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی اور اس کی ہلاکت کے بارے میں اٹھنے والے سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔

مصنف نے اسامہ بن لادن کی پاکستان آمد کے بارے میں کافی تفصیلی پلان پیش کیا ہے۔ ان کے تجزئے کے مطابق اسامہ بن لادن کی ہلاکت القاعدہ کے تعاون سے ہی ممکن ہو سکی ہے اور اسامہ کی ایک بیوی خیری نے اس معاملے میں اپنا کردار ادا کیا ہے جسے  القاعدہ کے آپریشنل انچارج عطیہ عبدالرحمٰن نے وہاں پہنچایا ۔ مصنف کے مطابق خیری، الکویتی (اسامہ کا وہ قاصد جس کا پیچھا کرکے بظاہر سی آئی اے اسامہ تک پہنچی) وغیرہ سب امریکیوں کی آمد کے منتظر تھے، اور یہی وجہ تھی کہ امریکی اہلکاروں کو اسامہ کے کمپاؤنڈ میں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا۔۔۔ تاہم الکویتی اور اس کے ساتھ والے غلط فہمی کا شکار ہوئے کیونکہ وہ سمجھتے رہے کہ امریکی فوج سے انہیں کوئی خطرہ نہیں ہوگا لیکن انہیں جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔۔

مصنف کے مطابق اسامہ کی بیویوں میں آپس میں بہت حسد تھا۔ بی بی سی نے بھی اسی ترجمے سے مواد لے کر "اسامہ کی حاسد بیویوں” کے نام سے آرٹیکل اپنی سائٹ پہ شائع کیا۔۔ اس موقع پہ یہ کہنا دلچسپ لگتا ہے کہ بظاہر امت اخبار کا شمار صف اول کے اخباروں میں نہیں ہوتا لیکن بی بی سی جیسی سائٹ بھی یہاں سے مواد لے کے اپنی سائٹ پہ شائع کرتی ہے (لیکن اپنے نام سے)۔

امت اخبار میں یہ ترجمہ 18 مسلسل اقساط میں شائع ہوا ہے اور ان کی ویب سائٹ سے پڑھا جا سکتا ہے۔

مصنف کا تجزیہ کس حد تک درست ہو سکتا ہے، اس بارے میں مصنف کے اپنے الفاظ یوں ہیں۔۔

” امریکیوں کے لئے اسامہ بن لادن کے قتل پہ لکھی گئی میری یہ کہانی زیادہ اہمیت کی حامل نہیں ہوگی۔ لیکن امریکی انتظامیہ، پنٹاگون اور سی آئی اے کے درمیان پھنسی پاکستانی قوم کے لئے یہ مستقبل کا سوال ہے کہ کیا انکل سام آئندہ بھی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ ؟ کارگل جنگ کی طرح، اسامہ بن لادن کے قتل کے اثرات بھی شاید ایک دہائی یا اس سے زائد عرصے تک پاکستان پر مرتب ہوتے رہیں گے۔

میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ مجھے ایسے شواہد نہیں مل سکے کہ جن سے میرے نتیجے کو تقویت ملتی ہو۔ میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی اس موقع پر یہ کام انجام دے سکتا ہے۔ شاید ستر برس بعد جب امریکہ کی سرکاری دستاویزات کو منظر عام پہ لایا جائے یا اس سے پہلے کہ جب موجودہ پاکستانی فوجی افسران میں سے بعض اپنی ر ٹائرمنٹ کے کافی عرصے بعد راز افشا کریں تو لوگوں کو آپریشن کی حقیقت کا پتہ چل سکے۔ میں نے پاکستانی و امریکی حکام کے موقف کے بجائے حقیقی واقعات کی ترتیب کو مدنظر رکھتے ہوئے دلائل کی بینیاد پہ بحث کی ہے اور میں اس کا فیصلہ قاری پہ چھوڑتا ہوں۔”

اس بارے میں دیگر تبصرہ نگاروں کے تجزئے کا ذکر دلچسپی سے خالی نہیں کہ اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ القاعدہ نے ہی دراصل اسامہ تک پہنچنے کا راستہ سی آئی اے کو فراہم کیا اور ان کی مدد کی۔۔۔ تو پھر اسامہ کے سر پہ رکھے گئے انعام کا بڑا حصہ بھی القاعدہ ہی کو گیا ہے، جو اس کی آئندہ مالی ضروریات کو پورا کرنے میں مددگار ہوگا اور یہ وہی القاعدہ ہے جس کو ختم کرنے کے لئے امریکہ اپنے وسائل جنگ جھونکے جا رہا ہے۔

کتاب یہاں سے پڑھئے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s