بری عورت کی کتھا از کشور ناہید

بری عورت کی کتھا از کشور ناہید

یہ حالیہ تازہ ترین کتاب ہے جو میں نے پڑھی ہے۔۔۔ یہ کشور ناہید کی اپنی آپ بیتی ہے لیکن اس کو انہوں نے کہانی سے زیادہ فلسفے کے انداز میں لکھا ہے اور حالات و واقعات کو بیان کرنے سے زیادہ ان کا تجزیہ بیان کیا ہے۔

اس میں ان کی مشکلات کا بیان ہے اور عمومی انداز میں ہمارے معاشرے میں ایک بچی سے لے کر لڑکی اور عورت تک جو مشکلات پیش آتی ہیں ان کا ذکر ہے۔ کئی باتیں بہت تلخ لگیں، لیکن اس کی اچھی بات یہ کہ کشور جی نے اشارہ دے کر چھوڑ دیا۔ ان کی تفصیلات میں جا کے کتاب کی تلخی میں اضافہ نہیں کیا۔

بری عورت کی کتھا از کشور ناہید سے اقتباس

زندگی میں جو لوگ دوست ہوتے ہیں۔ وہ اتنے قریب اور عزیز ہوتے ہیں کہ دوسرے لوگ اجنبی اور ناآشنا بلکہ فاصلے پر نظر آتے ہیں۔ پھر چار پانچ سال کے پھیر میں جائزہ لو۔ تو پھر ماحول بدلا ہوتا ہے۔ دوستیوں کے سلسلے میں نئے نام، نئے چہرے اور نیا ماحول آپ کو حصار میں لے لیتا ہے۔ لوگ وہی رہتے ہیں، وہیں رہتے ہیں آپ بدل جاتے ہیں، مزاج بدل جاتے ہیں۔ اور یوں قرب کی فصل، فاصلے کی خزاں میں ڈھل جاتی ہیں۔

بری عورت کی کتھا از کشور ناہید سے اقتباس

میرے وطن میں تو عورت کے ساتھ مرد بھی مظلوم ہے کہ سارے ملک کی ستاسی فیصد زمین پر صرف تیرہ فیصد لوگوں کا، وڈیروں کے نام پر قبضہ ہے۔ میرے ملک کے اناج اگانے والے، سارا زر مبادلہ لانے والے تو چار صدیوں پرانے ماحول میں سڑتے ہیں اور ان کے مفادات کا سودا کرنے والے اسمبلیوں اور ائیر کنڈیشنڈ گھروں میں آسائشیں لوٹتے ہیں۔ میرے ملک میں عورت کا کوئی نام نہیں ہے۔ وہ تو خود سے وابستہ رشتوں کے ذریعہ شناخت پاتی ہے۔ وہ بہن ہے، ماں ہے، بیٹی ہے، مگر کیا وہ خود بھی کچھ ہے!


Advertisements

3 comments on “بری عورت کی کتھا از کشور ناہید

  1. سچ کہتی ہیں کشور ناہید صاحبہ ۔ ان کا بلند شہر سے ہجرت کر کے 1947ء میں پاکستان آیا تھا ۔ بہت محنت کر کے سارے خاندان نے تعلیم حاصل کی ۔ خیر بہتوں سے اچھا وقت گذارا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s