خالہ رضیہ

خالہ رضیہ

تحریر: سیدہ سمارا شاہ

گنجان بازار سے داہنے ہاتھ ایک پتلی سی گلی نکلتی ہے۔ اس گلی کے اختتام پہ کھلا میدان ہے جو خشک مٹی سے اٹا پڑا ہے۔ میدان میں کہیں کہیں چھوٹی چھوٹی خودرو جھاڑیاں اگ آئی ہیں ورنہ بالکل چٹیل ہے۔ چھوٹی عمر کے بچے بچیاں اور ہر عمر کے لڑکےاکثر ادھر کھیلتے پائے جاتے ہیں حالانکہ انہیں اس طرف آنے کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔

اسی گلی کے آخری گھر میں ایک بڑھیا رہتی ہے۔۔ سوکھی چمرخ سی، جس کی کھال جھریوں کے بوجھ سے لٹک گئی ہے۔ دھول مٹی سے اٹا سر اور چہرہ، اسے مزید خوفناک بنادیتے ہیں، پھرجب وہ زبان کھولتی ہے تو چھوٹے سمجھ سے انجان بچے ماؤں کے پیچھے دبک جاتے ہیں اور جو اس کی باتوں کے معنی سمجھنے کی عمر میں ہوتے ہیں۔۔ وہ ایک دوسرے سے نظریں چرائے، کان منہ لپیٹے ادھر سے بھاگ اٹھتے ہیں۔۔ اس بڑھیا کو کبھی محلے والے خالہ رضیہ کے نام سے پکارتے تھے لیکن اب یہ بگڑ کے پاگل بڑھیا ہو گیا ہے۔

کہتے ہیں قطرہ بھر پانی بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ چاہے تو پتھر گھسا دے، اور اگر قطرہ بھر بھی نہ ملے تو مٹی سراپا پیاس بن جائے۔ پانی کی کمی اگر قحط سالی کا روپ دھار لے تو مٹی، دھول بن کے اڑنے لگتی ہے، کبھی بگولوں کی شکل میں اور کبھی طوفان کی صورت میں۔۔۔ ایسے میں بارش برس جائے تو یہی دھول بنی مٹی سوندھ کی مانند فضا میں مہک جاتی ہے۔ برسوں سے سینے میں چھپے بیجوں کو سبزے کی شکل میں پھیلا دیتی ہے۔ زندگی بن جاتی ہے، زندگی کی نوید بن جاتی ہے۔ لیکن اگر پیاس مستقل ہو جائے، قحط سالی گھر میں ڈیرا ڈال لے تو یہی ہریالی اگاتی مٹی، تڑخنے لگتی ہے ۔ اس میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں اور یہ ایسی زمین ہو جاتی ہے جہاں کچھ کاشت نہیں ہو سکتا۔ ایسی زمینیں بستی نہیں ہیں، وہاں سے مکین نقل مکانی کر جاتے ہیں۔ اور زمین تنہا سسکتی رہ جاتی ہے۔ ۔۔

اپنی جوانی میں جب خالہ رضیہ شادی ہو کر اس مکان میں آئی تھی تو اس سے زندگی کے سوتے پھوٹے تھے۔ وہ ایک سرسبز زمین کی مانند تھی، جس میں ہریالی تھی، شادابی تھی۔

اور پھر سال دو سال کے فرق سے اس سرسبز زمین میں تین پھول کھل گئے۔ تیسرے پھول کے کھلنے پہ خالہ رضیہ بھی کھل گئی۔ اس کی شادابی میں اضافہ ہو گیا۔ لیکن سال بھر بعد ہی اس کا شوہر تین بیٹیوں کا تحفہ دے کے کہیں ایسا گیا کہ پھر واپس خبر نہ دی۔ لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے تھے۔ کوئی کہتا کہ بیٹیوں کی ذمہ داری سے ڈر کے بھاگ گیا، کوئی کہتا کہ کوئی امیر ذادی اس پہ ریجھ گئی اور اسے اپنے ساتھ لے گئی۔ اور کوئی کہ غیر قانونی کاموں کے چکر میں خوب دولت کما رہا ہے، اب جب وہ روز نئی عورت لا سکتا ہے تو بےچاری رضیہ کے پاس کیوں آنے لگا۔

یہ باتیں خالہ رضیہ کے کانوں تک بھی پہنچ جاتی تھیں۔ ایسی ہر بات وہ بڑے حوصلے سے سنتی تھی۔۔۔ وہ ایک صابرہ عورت تھی۔ ایسی باتیں سننے پہ جہاں اسے اپنا صبر آزمانا پڑتا وہیں موقع پرست لوگوں کے حوصلے بلند ہو جاتے۔ ایسی ہر افواہ ایسے بے لگام حوصلوں کو بلندیوں کے نئے آسمان دکھاتی۔ لیکن خالہ رضیہ اپنے کھونٹے سے بندھی رہی۔۔ اسے امید تھی کہ جس نے چار گواہوں کی موجودگی میں قرآن پہ ہاتھ رکھ کے ان کی زندگی بھر کی ذمہ داری لی تھی وہ ضرور واپس آئے گا، اپنا وعدہ نبھائے گا۔ لیکن وہ نہیں آیا اور کئی آ گئے۔۔۔
ضرورت کے سو کام ہوتے تھے گھر سے باہر نکلنا ہی پڑتا تھا۔ طرح طرح کی باتیں کی جانے لگیں۔

"اری رضیہ۔۔۔”

"او رضیہ۔۔۔”

"کدھر جا رہی ہو۔۔۔”

"ارے کتنا انتظار کرے گی رضیہ۔۔۔۔ اور ہمیں کتنا کروائے گی۔۔۔ جانے والا واپس نہیں آئے گا۔۔۔ "

"تیری بھابھی میکے گئی ہوئی ہے ذرا واپسی پہ میری بات سنتی جانا۔۔۔۔ "

"انتہا ہو گئی انتظار کی، آئی نہ کچھ خبر میرے یار کی۔۔۔”

جتنے مرد اتنی نگاہیں۔۔۔ ۔۔ دنیا کی نگاہوں کے تیور بدلتے دیکھ کر وہ کسی نہ کسی بچی کی انگلی تھامے باہر نکلنے لگی تھی۔۔ مگر اس سب کے باوجود خالہ رضیہ کے گھر کے آگے جمگھٹا لگا رہنے لگا۔۔ اس نے چادر کا پلو اور نیچا کھینچ لیا۔۔۔ باہر نکلنے کے لئے ننھی بچی کا ساتھ مستقل بنالیا۔۔ مگر نیچی نگاہوں اور بند زبان نے لوگوں کے حوصلے اور بلند کردئیے۔۔۔ زبانیں کچھ اور کھول دیں۔۔ اور نگاہوں کے تیور تیر ہوگئے۔۔

وہ تنہا تھی اور تین تین بیٹیوں کا ساتھ تھا۔ اپنی تمام تر توجہ اپنی بیٹیوں کی پرورش اور زمانے کے سرد گرم سے محفوظ رکھے میں لگائے رکھی۔ عمر کی نقدی ڈھلنا شروع ہوئی تو اس نے اطمینان کی سانس لی رضیہ سے خالہ رضیہ تک کی منزل طے ہوئی۔ ۔۔ اپنے تئیں آبلہ پائی کا سفر تمام کیا۔۔ مگر اب گھر کے باہر مجمع پہلے سے تین گنا ہوگیا تھا۔۔ٹھٹھے اور بلند آواز ہوگئے تھے۔۔ایک پریشانی ہٹی نہیں تھی کہ دوسری آ موجود ہوئی۔۔۔ مشکلات کی بارش تھی کہ چھاجوں برس رہی تھی اور ایک لمحہ خشکی کا میسر نہیں۔۔۔۔ کوئی مصیبت سی مصیبت تھی۔

دنیا والوں کی نظریں اب اس کی بیٹیوں پہ تھیں۔ نظر رکھنے والے کئی ایک تھے مگر سر پر رکھنے والا ہاتھ کوئی ایک بھی نہیں تھا۔

محلے میں پھیلی باتوں کی وجہ سے اس کی لڑکیوں کے رشتے آنے سے پہلے ہی بند ہوگئے تھے۔۔۔ بڑی بیٹی کی عمر کا چاند گھٹنے والا ہوگیا تھا وہ اسے دعا کے لئے ایک پیر کے پاس لے گئی مگر جب واپس لوٹی تو تنہا تھی۔

لوگوں کی گردنیں مزید اونچی اور اس کے گھر کی دیواریں کچھ اور نیچی ہوگئی تھیں۔ اشارے کنایے فحش اور نظریں مزید بےباک ہوگئیں۔

خالہ کی دوسری بیٹی جدھر کام کرنے جاتی تھی، ادھر سے اس کا رشتہ آیا اور دروازے کے باہر اجتماع سن کر لوٹ گیا پھر اس کی بیٹی کو نئی جگہ نوکری تلاش کرنی پڑی۔ ایک روز اس نے نیا رشتہ اور نیا گھر تلاش کرلیا۔

خالہ کے گھر سر ہی سر امنڈ آئے اور دیواروں پر آنکھیں اگ آئیں۔

خالہ رضیہ بھی انسان تھی، مٹی سے بنا ہوا ایک وجود۔۔۔ مٹی کی تمام خصوصیات اس میں بھی بدرجہ اتم موجود تھیں۔ مٹی کی ہریالی سے لے کر تڑخنے تک کے تمام مراحل اس کی ذات پہ بھی اترے تھے۔ کہیں سے ٹھنڈی پھوار کی ایک بوند بھی وجود پہ نہیں گری تھی۔ کسی مہربان ذات نے سر پہ سایہ نہیں کیا تھا۔ برس ہا برس کی قحط سالی سے اس کے وجود کی مٹی تڑخنے لگی تھی۔

تیسری بیٹی پچھلی اندھیری کوٹھری کا جزو بن گئی خالہ رضیہ اسی کوٹھری میں اسے کھانا پینا دیتی اور کوسنے بھی اور پھر اس کے گھر سے اٹھتے بین، روز کا معمول ہی ہوگئے۔

اور پھر پورا ایک دن اور رات گزر گئے خالہ رضیہ کے گھر سے کوئی آواز نہیں ابھری۔۔۔ دوسرا دن ہوا۔۔۔ پھر تیسرے دن لوگ جمع ہوئے۔۔۔ پچھلی کوٹھری کا دروازہ کھلا تھا۔ خالہ رضیہ صحن میں ساکت تھی، اور حرکت مکوڑوں کی اس زندہ لکیر میں تھی جو کوٹھری میں جارہی تھی۔

اور پھر تدفین کا تیسرا روز تھا جب خالہ کے وجود کی دڑاریں کسی خود رو پودے کی طرح اس کی زبان پہ بھی اگ آئی تھیں۔ اور وہاں صرف کڑوی باتیں تھیں، کوسنے تھے۔ اور ننگی گالیاں تھیں۔۔۔

اب خالہ رضیہ کے گھر کا دروازہ ہمہ وقت کھلا رہتا ہے۔۔۔ مگر لوگ اس کے گھر کے سامنے سے گزرنے سے گریز کرتے ہیں یا بحالت مجبوری نظر بچا کر بھاگتے ہوئے گزرتے ہیں۔ کان منہ لپیٹ کر نکلتے ہیں مگر خالہ رضیہ کی آواز دور تک ان کا پیچھا کرتی ہے۔۔۔

Advertisements

12 comments on “خالہ رضیہ

  1. مجھے تین پیغام موصول ہوئے کہ ‘سمارا کے بلاگ’ پر چھپی ‘رضیہ خالہ’ پڑھوں، سو پڑھنے چلا آیا۔ عمدہ لکھا ہے۔ بعض جملے نہایت عمدہ ہیں۔۔۔ جیسے،
    "خالہ رضیہ صحن میں ساکت تھی، اور حرکت مکوڑوں کی اس زندہ لکیر میں تھی جو کوٹھری میں جارہی تھی۔”
    "برس ہا برس کی قحط سالی سے اس کے وجود کی مٹی تڑخنے لگی تھی۔”
    اور اس جملے کا جواب نہیں، "مشکلات کی بارش تھی کہ چھاجوں برس رہی تھی اور ایک لمحہ خشکی کا میسر نہیں۔۔۔”
    نہایت خوب بیان ہے اور اتنا ہی دلخراش خیال۔۔۔ امید ہے مزید عمدہ افسانے پڑھنے کو ملیں گے۔

    عمر۔

    • اس کا مطلب ہے کہ آپ کے علاوہ تین اور لوگوں نے بھی اس تحریر کو پڑھ لیا ہے۔ 🙂
      تشریف آوری اور پسندیدگی کے لئے بہت شکریہ۔ آپ خود بھی بہت عمدہ لکھتے ہیں۔

  2. "خالہ رضیہ بھی انسان تھی، مٹی سے بنا ہوا ایک وجود۔۔۔ مٹی کی تمام خصوصیات اس میں بھی بدرجہ اتم موجود تھیں۔ مٹی کی ہریالی سے لے کر تڑخنے تک کے تمام مراحل اس کی ذات پہ بھی اترے تھے۔ کہیں سے ٹھنڈی پھوار کی ایک بوند بھی وجود پہ نہیں گری تھی۔ کسی مہربان ذات نے سر پہ سایہ نہیں کیا تھا۔ برس ہا برس کی قحط سالی سے اس کے وجود کی مٹی تڑخنے لگی تھی۔”

    زبردست لکھا ، سوچ انگیز ہے اور تحریر میں پختگی ہے۔ ایک پلاٹ کا افسانہ اور آج کل کی زندگی کے لئے بالکل پرفیکٹ۔
    اللہ آپ کو خوش رکھے ۔

  3. "ایسے میں بارش برس جائے تو یہی دھول بنی مٹی سوندھ کی مانند فضا میں مہک جاتی ہے۔ برسوں سے سینے میں چھپے بیجوں کو سبزے کی شکل میں پھیلا دیتی ہے۔ زندگی بن جاتی ہے، زندگی کی نوید بن جاتی ہے-” بہت خوب

  4. بابا محمد یحیٰ خان کے بارے میں گوگل پر تلاش کے دوران آپ کے بلاگ سے رسائی ہوئی
    یہ افسانہ سرسری پڑھنا شروع کیا مگر اتنا پُر اثر لگا کہ پورا پڑھے بغیر نہ رہا گیا
    ماشاءاللہ بہت ہی خوب لکھا جو آواز دل سے نکلتی ہے الفاظ اس کے پیچھے ہاتھ باندے قطار اندر قطار چلے آتے ہیں
    اک معاشرتی المیئے کو آپ نے بہت اچھے طریقے سے نمایاں کیااللہ کرے زور قلم ذیادہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s