روح کی پاکیزگی

 

پلوٹینس (Plotinus) ایک یونانی مفکر تھا وہ کہتا ہے

"آپ کیسے ایک پارسا روح میں جھانکیں گے اور اس کی دلربائی کے بارے میں کیسے جھانکیں گے؟”

"اپنی ذات کی جانب رجوع کریں اور دیکھیں اور اگر آپ اپنے آپ کو خوبصورتی سے مزین نہ پائیں تب اس عمل کا مظاہرہ کریں جس عمل کا مظاہرہ ایک مجسمہ ساز کرتا ہے پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

گائڈنس۔۔۔۔ !

زاویہ سوم صفحہ 161 سے

میں نے لاہور میں مال روڈ پر ریگل کے پاس کھڑے ہو کر ایک ایسے شخص کو دیکھا جو نیلے رنگ کی عینک لگا کر سڑک کنارے کھڑا ہوتا تھا اور وہ ساتھ والے بندے سے کہتا تھا "مجھے سڑک کراس کرا دیں، آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔”

وہ بےچارہ نابینا تھا۔ جس کو درخواست کرتا وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو سڑک پار کرا دیتا تھا۔ ان دنوں مال روڈ اس طرح ٹریفک سے بھر پور نہیں تھی۔ وہاں وہ تھوڑی دیر ٹھہرتا تھا۔ پھر کسی اور نئے بندے یا کلائنٹ سے کہتا تھا کہ مجھے "سڑک پار کرا دیں، آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔”

اب سڑک پار کرتے کرتے وہ اتنے مختصر عرصے میں ایک ایسی دردناک کہانی اس شخص کو سناتا تھا جو اس کو سڑک پار کرا رہا ہوتا تھا کہ وہ بےچارہ مجبور ہو کر اس کو روپیہ دو روپیہ ضرور دے دیتا تھا۔ پڑھنا جاری رکھیں

لا دینیت۔۔۔؟


کاجل کوٹھا از بابا محمد یحییٰ خان سے اقتباس

یہاں پہ حضرت علی کرم اللہ وجہہُ کی وہ حکایت یاد آتی ہے۔۔۔ ایک لا دین شخص حاضر ہوا، کہنے لگا۔
"یا علی ابن ابو طالب! میں اللہ کو واحدہ لا شریک نہیں مانتا۔۔۔ جبکہ آپ رضی اللہ تعالی عنہہ مانتے ہیں۔ اب یہ آپ رضی اللہ تعالی عنہہ یہ بتائیے کہ مجھ اور آپ رضی اللہ تعالی عنہہ میں کیا فرق ہے۔۔۔ کھانا، پینا، پہننا آپ رضی اللہ تعالی عنہہ کے ساتھ بھی لگا ہوا ہے اور میرے ساتھ بھی۔۔۔میں بھی خوش ہوں، آپ رضی اللہ تعالی عنہہ بھی۔۔۔ پھر مجھے آپ رضی اللہ تعالی عنہہ کے اللہ کو ماننے یا کلمہ پڑھنے کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی؟” پڑھنا جاری رکھیں

دس دنیا ستر آخرت

اشفاق احمد کی کتاب زاویہ دوم کے باب "ان پڑھ سقراط” صفحہ نمبر 237 سے اقتباس

"خواتین و حضرات! سقراط کسی اسکول سے باقاعدہ پڑھا لکھا نہیں تھا۔ کسی کالج، سکول یا یونیورسٹی کا اس نے منہ نہیں دیکھا تھا۔ آپ کے حساب سے جو ان پڑھ لوگ ہیں وہ Experiment بھی کرتے ہیں۔ ایک حیران کن بات ہے اور آپ یقین نہیں کریں گے۔ میں جہاں جمعہ پڑھنے جاتا ہوں وہاں ایک مولوی صاحب ہیں۔ اب جو مولوی صاحب ہوتے ہیں ان کی اپنی ایک سوچ ہوتی ہے۔ انہیں سمجھنے کے لئے کسی اور طرح سے دیکھنا پڑتا ہے اور جب آپ ان کی سوچ کو سمجھ جائیں تو پھر آپ کو ان سے علم ملنے لگتا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

یہودی فلسفہء اعتماد۔۔۔!

پیا رنگ کالا از بابامحمد یحییٰ خان سے ایک اقتباس

حکایت یوں ہے کہ ایک بوڑھا کاروباری یہودی جب اپنی لاعلاج علالت کی وجہ سے سر پڑی کاروباری ذمہ داریاں پوری طرح نبھانے سے قاصر ہو گیا تو اس نے اپنے نابالغ فرزند کو اپنی جگہ تفویض کرنے کا فیصلہ کر لیا لیکن ایک خدشہ اسے رہ رہ کر پریشان اور فکرمند کر رہا تھا کہ بچہ ابھی کچا اور کاروباری معاملات کی پیرا پھیری سے ناواقف ہے۔ چونکہ جلد سے جلد بیٹے کو اپنی جگہ پہ بٹھانا اس کی مجبوری اور ضرورت بن چکا تھا، اس لئے خرانٹ بڈھے نے فوری طور پہ اسے وہی ازلی سبق پڑھانے کا سوچ لیا جو کبھی اس کے باپ نے اسے پڑھایا تھا پڑھنا جاری رکھیں

اللہ کی راہ میں

اشفاق احمد کے ڈرامے "من چلے کا سودا” سے…..

(پرانے بغداد کے ایک چھوٹےسے صحن اور ایک کمرے پر مشتمل گھر کے باہر ایک خوبصورت نوجوان بغداد کے درویشوں کا لباس پہنے آتا ہے اور بہت ہی ہولے سے دروازہ بجاتا ہے۔
کٹ کرکے اندر جاتے ہیں تو کوٹھڑی میں ایک سوکھا لمبا بابا اور ویسی ہی سوکھی اس کی بڑھیا موجود ہے۔ وہ زمین پر اپنے درمیان دھواں اٹھتے شوربے کی قاب رکھے بیٹھے ہیں اور اپنے اپنے قاشقوں سے شوربہ پی رہے ہیں۔ دستک سے چونک کر بابا کہتا ہے)

حبیب: جب سے اسامہ گیا ہے، اس دروازے پر ایسی ہی ہوا چلتی رہتی ہے۔۔۔۔گویا دستک دے رہی ہو۔ پڑھنا جاری رکھیں

بندہ بچا لو۔۔۔۔۔

اشفاق احمد کی کتاب زاویہ 2 کے باب ویل وشنگ سے انتخاب

ہمارے بابے جن کا میں اکثر ذکر کرتا ہوں، کہتے ہیں کہ اگر آپ کسی محفل میں کسی یونیورسٹی، سیمینار، اسمبلی میں، کسی اجتماع میں یا کسی بھی انسانی گروہ میں بیٹھے کوئی موضوع شدت سے ڈسکس کر رہے ہوں اور اس پر اپنے جواز اور دلائل پیش کر رہے ہوں اور اگر آپ کے ذہن میں کوئی ایسی دلیل آ جائے جو بہت طاقتور ہو اور اس سے اندیشہ ہو کہ اگر میں یہ دلیل دونگا تو یہ بندہ شرمندہ ہو جائے گا کیونکہ اس آدمی کے پاس اس دلیل کی کاٹ نہیں ہوگی۔ شطرنج کی ایسی چال میرے پاس آ گئی ہے یہ اس کا جواب نہیں دے سکے گا اس موقع پر "بابے” کہتے ہیں کہ

"اپنی دلیل روک لو، بندہ بچا لو، اسے ذبح نہ ہونے دو، کیونکہ وہ زیادہ قیمتی ہے۔”

ہم نے تو ساری زندگی ایسا کیا ہی نہیں۔ ہم تو کہتے ہیں کہ "میں کھڑکار پادیاں گا۔”

ہماری بیبیاں جس طرح کہتی ہیں کہ ” میں تے آپاں جی فیر سدھی ہوگئی، اوہنون ایسا جواب دتا کہ اوہ تھر تھر کانپنے لگ پئی، میں اوہنوں اک اک سنائی، اوہدی ماسی دیاں کر تو تاں اودھی پھوپھی دیاں وغیرہ وغیرہ۔”
(باجی میں نے تو اس کو کھری کھری سنا دیں، جس سے وہ تھر تھر کانپنے لگی۔ اس کو اس کی خالہ، پھوپھی سب کی باتیں ایک ایک کرکے سنائیں۔)