آپریشن جیرونیمو از برگیڈیئر ریٹائرڈ شوکت قادر

آپریشن جیرونیمو از برگیڈیئر ریٹائرڈ شوکت قادر

ترجمہ: عبدالقادر (روزنامہ امت)

انگریزی زبان میں لکھی گئی یہ کتاب اسامہ بن لادن کے قتل کے موضوع کا احاطہ کرتی ہے اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا پہلا سال مکمل ہونے کے موقع پہ شائع ہوئی ہے۔ مصنف عسکری اور سیاسی تجزیہ نگار ہیں اور اسی مہارت کو استعمال کرتے ہوئے اس کتاب میں انہوں نے اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی اور اس کی ہلاکت کے بارے میں اٹھنے والے سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

مصحف از نمرہ احمد

مصحف از نمرہ احمد

مصحف نمرہ احمد کا لکھا ہوا ناول ہے جو خواتین ڈائجسٹ میں مارچ 2011 سے قسط وار شائع ہوا۔۔۔

مصحف یعنی قرآن۔۔۔ نام سے ہی ظاہر ہے کہ اس کہانی کا مرکزی خیال قرآن کے اردگرد گھومتا ہے۔ یہ ناول ایک لڑکی کی کہانی ہے جس کے والد کے انتقال کے بعد گھر جائداد پہ لالچی چچا تایا نے قبضہ کرکے ماں بیٹی کو ان کے جائز حق سے نا صرف محروم کر دیا ہے بلکہ ان کے ساتھ گھر میں نوکروں جیسا سلوک بھی کر رہے ہیں۔۔۔ اس سلوک سے نالاں وہ لڑکی اپنی زبان سے سب کا دوبدو مقابلہ کرتی ہے۔۔۔

انہی حالات میں اسے ایک انجان لڑکی اسے قرآن دیتی ہے جسے وہ ناسمجھی میں واپس کر دیتی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

Kite runner by Khalid Hussaini

اس ناول کے مصنف خالد حسینی ہیں جن کا تعلق افغانستان سے ہے لیکن اب طویل عرصے سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ افغانستان، افغانی کلچر وغیرہ کے بارے میں جاننے کے بارے میں ایک اچھا تفصیلی ناول ہے۔۔ ناول کی کہانی افغانستان کے آخری تین چار عشروں کے حالات کی اچھی عکاسی ہے اور عام انسانوں کی زندگی پہ پڑنے والے اثرات پہ تفصیلی روشنی ڈالتی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

Digital Fortress by Dan Brown


Digital fortress کافی عرصے سے پڑھنے کا ارادہ تھا اور اب بالآخر پڑھا گیا۔ اچھا ناول ہے۔ اس میں کافی تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ ای میل اور نیٹ پیغامات کو کس طرح کنٹرولنگ اتھارٹیز انڈر آبزرویشن رکھتی ہیں اور انٹر نیٹ پہ بھیجا ہوا ہر پیغام پڑھا جاتا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

ذلتوں کے مارے لوگ از فیودور دوستوفیسکی

"
  The insulted and humiliated by Fyodor Dostoyevskyکا اردو ترجمہ "ذلتوں کے مارے لوگ”، ظ۔ انصاری صاحب نے کیا ہے۔

کرداروں کے نام روسی ہونے کی وجہ سے شروع میں ان کو سمجھنے اور ان سے تعلق بنانے میں کچھ وقت لگتا ہے۔۔ لیکن جب کہانی سے ربط بن جاتا ہے تو 400 سے زائد صفحات کی اس کتاب کو مکمل پڑھے بغیر چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔

کہانی کے عنوان سے ہی ظاہر ہے کہ اس میں ان لوگوں کی کہانی ہے جنہیں دنیا میں امیروں اور طاقتور لوگوں کے ہاتھوں ذلت اٹھانا پڑی۔۔۔ اس میں اولاد کے ہاتھوں والدین کو ہونے والی حزیمت کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔۔۔ پڑھنا جاری رکھیں

اتفاقات۔۔۔؟

اتفاقات۔۔۔؟

زندگی اتفاقات کا مجموعہ ہے۔

کسی نے کہا کہ اتفاقات پہ لکھو۔ اسی مقصد کے لئے اوپر والا جملہ لکھا ہے اور اس کے بعد۔۔۔۔ شاید ایک فل اسٹاپ۔۔۔ یعنی بات ختم۔

ایسا نہیں کہ مجھے اتفاقات پہ لکھنا نہیں آ رہا بلکہ میرے سامنے یہ سوال آ کھڑا ہوا ہے کہ کیا میں اتفاقات پہ یقین رکھتی ہوں۔۔۔؟ پڑھنا جاری رکھیں

میٹھے بول میں جادو ہے۔

میٹھے بول میں جادو ہے۔
لیکن میٹھے سے تو شوگر ہو جاتی ہے۔
پھر بھی زیادہ تر لوگوں کو میٹھا پسند ہوتا ہے۔
اسی لئے زیادہ تر لوگ شوگر کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

فئیر ویدر

فئیر ویدر

(یہ تحریر رافعہ خان کی تحریر "فئیر ویدر” سے متاثر ہو کے لکھی گئی ہے)

اپنے گھر سے ہونیورسٹی جانے کے لئے روز مجھے بس لینی پڑتی ہے۔ بس کا پک اپ پوائنٹ میرے گھر سے کچھ فاصلے پہ ہے۔ اس پوائنٹ تک پہنچنے کے لئے دو راستے ہیں۔ ایک صاف ستھری پختہ سڑک ہے، لیکن پیدل چلنے والوں کے لئے یہ نسبتاً لمبا راستہ ہے۔ دوسرا راستہ پگڈنڈی نما ہے، یعنی کچا۔ یہ راستہ گھروں کی پچھلی طرف سے نکلتا ہے۔ اگرچہ یہ پگڈنڈی نما ہے لیکن چوڑی پگڈنڈی ہے، ساتھ ہی یہ مکمل کچا بھی نہیں ہے، کچا نما ہے۔

کچا نما۔۔۔۔؟ پڑھنا جاری رکھیں

آگے سمندر ہے از انتظار حسین


آگے سمندر ہے از انتظار حسین

مشہور مصنف انتظار حسین کا لکھا ہوا یہ پہلا ناول ہے جو میں نے پڑھا ہے۔۔۔ یہ ناول کراچی کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ جس میں قیام پاکستان کے بعد کا زمانہ دکھایا گیا ہے۔۔ ناول کی خوبصورتی یہ ہے کہ جہاں یہ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے پاکستان پہنچنے والوں کی ترجمانی کرتا ہے وہیں انڈیا میں باقی رہ جانے والے لوگوں کے خیالات سے بھی آگاہی دلاتا ہے پڑھنا جاری رکھیں

سرمئی رنگ۔۔۔ آخری حصہ

ایک سال بعد عبدالرؤف کے گھر والے دوسرے علاقے میں منتقل ہو گئے ۔۔۔ گھروں کے درمیان دوریاں آئیں تو ملنے جلنے میں بھی تعطل آ گیا۔۔۔ اسے اچھی پیشکش ہوئی تو وہ ملک سے باہر اٹھ آیا۔ اور اس کے ساتھ ہی سیاہ سفید کا دائرہ بھی۔ گھر والوں سے فون اور انٹر نیٹ کے ذریعے باقاعدگی سے رابطہ رہتا تھا۔ وہ اپنے دوستوں اور رشتے داروں سے بھی رابطے میں رہتا تھا۔ لیکن ھادیہ نہ تو اس کے دوستوں میں شامل تھی اور نہ ہی رشتہ دار تھی۔ پہلے بھی ان کے درمیان بس رسماً اور ضرورتاً ہی گفتگو ہوا کرتی تھی۔ اور اب اس کا بھی کوئی امکان نہیں رہا تھا۔ باقی رہا فیاض، تو اس کے ساتھ تو بات چیت سلام دعا اور مصافحے سے آگے کبھی بڑھ ہی نہیں سکی۔۔۔ یوں پردہ قرطاس پہ ھادیہ اور فیاض نامی نقطے مدھم ترین ہوتے چلے گئے۔ پڑھنا جاری رکھیں