تصویر کے رخ

زیادہ تر لوگوں نے تصویر کے دوسرا رخ دیکھنے والی کہانی سنی ہوگی یا پھر پڑھی ہوگی۔ یہاں میرا مقصد پرانی اور پہلے سے جانی بوجھی ہوئی بات کو دہرانا نہیں ہے بلکہ اس پیغام کو سمجھنا ہے جو اس مثال سے سامنے آتا ہے یعنی معاملے کے صرف ایک پہلو کو دیکھ کر رائے نہیں بنانی چاہئے کہ یہ سچائی اور انصاف کے خلاف ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

گائڈنس۔۔۔۔ !

زاویہ سوم صفحہ 161 سے

میں نے لاہور میں مال روڈ پر ریگل کے پاس کھڑے ہو کر ایک ایسے شخص کو دیکھا جو نیلے رنگ کی عینک لگا کر سڑک کنارے کھڑا ہوتا تھا اور وہ ساتھ والے بندے سے کہتا تھا "مجھے سڑک کراس کرا دیں، آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔”

وہ بےچارہ نابینا تھا۔ جس کو درخواست کرتا وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو سڑک پار کرا دیتا تھا۔ ان دنوں مال روڈ اس طرح ٹریفک سے بھر پور نہیں تھی۔ وہاں وہ تھوڑی دیر ٹھہرتا تھا۔ پھر کسی اور نئے بندے یا کلائنٹ سے کہتا تھا کہ مجھے "سڑک پار کرا دیں، آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔”

اب سڑک پار کرتے کرتے وہ اتنے مختصر عرصے میں ایک ایسی دردناک کہانی اس شخص کو سناتا تھا جو اس کو سڑک پار کرا رہا ہوتا تھا کہ وہ بےچارہ مجبور ہو کر اس کو روپیہ دو روپیہ ضرور دے دیتا تھا۔ پڑھنا جاری رکھیں