The old man and the sea by Ernest Hemingway

The old man and the sea by Ernest Hemingway

ارنسٹ ہمنگ وے کے مشہور ناول کا اردو ترجمہ "بوڑھا اور سمندر” کے نام سے ابن سلیم نے کیا ہے۔۔۔ یہ ناول مصنف کا بہترین ناول شمار کیا جاتا ہے جس پہ اسے نوبل انعام بھی مل چکا ہے۔

سو سے کچھ زیادہ صفحات پہ مشتمل یہ کہانی ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کی نشست میں باآسانی مکمل کی جا سکتی ہے۔ کہانی کا انداز سادہ ہے اور بنا کسی کنفیوژن کے یہ قاری کو اپنے ساتھ سفر پہ لئے جاتی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

بری عورت کی کتھا از کشور ناہید

بری عورت کی کتھا از کشور ناہید

یہ حالیہ تازہ ترین کتاب ہے جو میں نے پڑھی ہے۔۔۔ یہ کشور ناہید کی اپنی آپ بیتی ہے لیکن اس کو انہوں نے کہانی سے زیادہ فلسفے کے انداز میں لکھا ہے اور حالات و واقعات کو بیان کرنے سے زیادہ ان کا تجزیہ بیان کیا ہے۔

اس میں ان کی مشکلات کا بیان ہے اور عمومی انداز میں ہمارے معاشرے میں ایک بچی سے لے کر لڑکی اور عورت تک جو مشکلات پیش آتی ہیں پڑھنا جاری رکھیں

The Reluctant Fundamentalist by Mohsin Hamid

The Reluctant Fundamentalist by Mohsin Hamid

ترجمہ: بنیاد پرست
مترجم: ندیم اختر (ماہنامہ ون اردو)

پاکستان میں آج کل اردو میں لکھے جانے والے اچھے ناولز اور کتابوں کی کافی کمی ہے۔۔ کافی عرصے سے نئے لکھنے والے سامنے نہیں آ رہے۔۔۔ لیکن ترجمے کی فیلڈ میں بہت عمدہ کام ہو رہا ہے۔۔ تقریباً تمام مشہور اور عمدہ غیر ملکی ناولوں کا اردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے حتیٰ کہ وار اینڈ پیس جیسے ضخیم ناول کا اردو ترجمہ بھی دستیاب ہے۔۔

تراجم کی فہرست دن بدن طویل ہوتی جا رہی ہے اور اسی لسٹ میں اگلا نام ہے بنیاد پرست کا، جو محسن حامد کے انگریزی ناول دی ریلکٹنٹ فنڈا مینٹلسٹ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ ترجمہ ندیم اختر صاحب نے کیا ہے اور ماہ نامہ ون اردو میں دو سال تک مستقل چھپنے کے بعد حالیہ شمارے میں اس ترجمے کی آخری قسط پیش کی گئی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

مصحف از نمرہ احمد

مصحف از نمرہ احمد

مصحف نمرہ احمد کا لکھا ہوا ناول ہے جو خواتین ڈائجسٹ میں مارچ 2011 سے قسط وار شائع ہوا۔۔۔

مصحف یعنی قرآن۔۔۔ نام سے ہی ظاہر ہے کہ اس کہانی کا مرکزی خیال قرآن کے اردگرد گھومتا ہے۔ یہ ناول ایک لڑکی کی کہانی ہے جس کے والد کے انتقال کے بعد گھر جائداد پہ لالچی چچا تایا نے قبضہ کرکے ماں بیٹی کو ان کے جائز حق سے نا صرف محروم کر دیا ہے بلکہ ان کے ساتھ گھر میں نوکروں جیسا سلوک بھی کر رہے ہیں۔۔۔ اس سلوک سے نالاں وہ لڑکی اپنی زبان سے سب کا دوبدو مقابلہ کرتی ہے۔۔۔

انہی حالات میں اسے ایک انجان لڑکی اسے قرآن دیتی ہے جسے وہ ناسمجھی میں واپس کر دیتی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

عشق آتش

تحریر: سیدہ سمارا شاہ

 

یار ڈاڈھی عشق آتش لائی ہے

ہر منظر پس منظر میں تھا۔۔۔ پیش منظر ایک الاؤکی صورت میں تھا جس کے اندر خشک لکڑیاں بھڑ بھڑ جل رہی تھیں اور اپنے جلنے سے الاؤ کو روشنی اور زندگی دئیے ہوئے تھیں۔ ۔ پس منظر اور پیش منظر کے درمیان اسی روشنی کا پردہ حائل تھا جس نے پس منظر پہ اندھیرا تان دیا تھا۔

پس منظر کی تمام آوازیں خاموش تھیں۔۔ پیش منظر کے سناٹے میں لکڑیوں کے جلنے کی بھڑ بھڑاہٹ تھی یا پھر مغنی کے گلے سے نکلتے ہوئے نغمہء عشق کی نغمگی، جو پیش منظر کا احاطہ کئے ہوئے تھی۔ ۔ ۔۔۔ لیکن نغمہء عشق ابھی نامکمل تھا، پہلے ہی مصرعے تک محدود تھا۔ ۔ مغنی کو نغمہ پورا گانے کی اجازت نہیں تھی۔ ۔ اس کا ریاض ادھورا تھا۔ ۔ ۔۔ ۔۔ پیش منظر میں دی جانے والی صدا، پس منظر کے خلاؤں سے ٹکرا کے گونج پیدا کرتی ہوئی واپس پیش منظر میں آ رہی تھی ۔۔

یار ڈاڈھی عشق آتش لائی ہے
یار ڈاڈھی عشق آتش لائی ہے

چٹختی لکڑیوں سے نکلتے شرارے اڑ اڑ کر ارد گرد کی زمین پہ بکھر رہے تھے۔ ایک وجود اس الاؤ کے گرد رقصاں تھا۔ لمبے قد، گھنگھریالے بال، سنہری رنگت اور سبز آنکھوں کے ساتھ یونانی دیوتا اپالو جیسے مردانہ حسن و وجاہت کا شاہکار، مائیکل اینجلو کے ڈیوڈ کا زندہ مجسم، یوسفِ ثانی جس کی موجودگی سے ایک دنیا میں آتشِ شوق بھڑک رہی تھی لیکن وہ خود کسی اور آگ میں جل رہا تھا۔ کندن یا راکھ بننے کے مرحلے سے گزر رہا تھا۔ ۔ ۔۔ اس کے اپنے اندر عشق کا الاؤ جل رہا تھا۔۔ اوروہ عشق کے سر، عشق کی لے اور عشق کی تال سے آتش عشق کا احاطہ کئے ہوئے تھا ۔اس کے قدموں کی تھاپ میں ماہر رقاص جیسی روانی تھی ۔ الاؤ اور رقصاں قدموں کے بیچ کا فاصلہ ہر تھاپ کے ساتھ کم ہو رہا تھا۔ پیش منظر میں لکڑیوں کے الاؤ کے گرد عشق کا الاؤ رقصاں تھا ۔ پڑھنا جاری رکھیں

گائڈنس۔۔۔۔ !

زاویہ سوم صفحہ 161 سے

میں نے لاہور میں مال روڈ پر ریگل کے پاس کھڑے ہو کر ایک ایسے شخص کو دیکھا جو نیلے رنگ کی عینک لگا کر سڑک کنارے کھڑا ہوتا تھا اور وہ ساتھ والے بندے سے کہتا تھا "مجھے سڑک کراس کرا دیں، آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔”

وہ بےچارہ نابینا تھا۔ جس کو درخواست کرتا وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو سڑک پار کرا دیتا تھا۔ ان دنوں مال روڈ اس طرح ٹریفک سے بھر پور نہیں تھی۔ وہاں وہ تھوڑی دیر ٹھہرتا تھا۔ پھر کسی اور نئے بندے یا کلائنٹ سے کہتا تھا کہ مجھے "سڑک پار کرا دیں، آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔”

اب سڑک پار کرتے کرتے وہ اتنے مختصر عرصے میں ایک ایسی دردناک کہانی اس شخص کو سناتا تھا جو اس کو سڑک پار کرا رہا ہوتا تھا کہ وہ بےچارہ مجبور ہو کر اس کو روپیہ دو روپیہ ضرور دے دیتا تھا۔ پڑھنا جاری رکھیں

سراب۔۔۔ آخری حصہ

حصہ اول

"”تم لوگوں کا شادی کے بارے میں کیا خیال ہے۔ کوئی ارادہ ہے یا ایسے ہی زندگی انجوائے کرنی ہے بنا کسی ٹینشن کے۔” پیپسی کا گھونٹ لیتے ہوئے اس نے کہا۔

"” کم از کم اگلے کچھ سالوں تک تو بالکل نہیں۔ شادی کے بغیر ہی سب کچھ آرام سے چل رہا ہے” جینیفر نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا، "ہو سکتا ہے کچھ سالوں بعد میں شادی کر ہی لوں۔ ۔۔لیکن وہ رجسٹرڈ میرج ہوگی۔ میں سفید لباس پہن کے چرچ میں کے شادی نہیں کروں گی۔”

"کیوں۔” اس نے پوچھا حالانکہ جواب اس کی توقع کے عین مطابق تھا۔ یہ ان کے معاشرے میں عام بات تھی۔ پڑھنا جاری رکھیں

دس دنیا ستر آخرت

اشفاق احمد کی کتاب زاویہ دوم کے باب "ان پڑھ سقراط” صفحہ نمبر 237 سے اقتباس

"خواتین و حضرات! سقراط کسی اسکول سے باقاعدہ پڑھا لکھا نہیں تھا۔ کسی کالج، سکول یا یونیورسٹی کا اس نے منہ نہیں دیکھا تھا۔ آپ کے حساب سے جو ان پڑھ لوگ ہیں وہ Experiment بھی کرتے ہیں۔ ایک حیران کن بات ہے اور آپ یقین نہیں کریں گے۔ میں جہاں جمعہ پڑھنے جاتا ہوں وہاں ایک مولوی صاحب ہیں۔ اب جو مولوی صاحب ہوتے ہیں ان کی اپنی ایک سوچ ہوتی ہے۔ انہیں سمجھنے کے لئے کسی اور طرح سے دیکھنا پڑتا ہے اور جب آپ ان کی سوچ کو سمجھ جائیں تو پھر آپ کو ان سے علم ملنے لگتا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

بلیک ہولز۔۔۔ جنگ سنڈے میگزین 28 نومبر 2010

السلام علیکم

میرا یہ مضمون اس ہفتے کے جنگ سنڈے میگزین میں شامل ہوا ہے۔ آپ لوگوں کے لئے یہاں شئیر کر رہی ہوں۔ پڑھنا جاری رکھیں