خالہ رضیہ

خالہ رضیہ

تحریر: سیدہ سمارا شاہ

گنجان بازار سے داہنے ہاتھ ایک پتلی سی گلی نکلتی ہے۔ اس گلی کے اختتام پہ کھلا میدان ہے جو خشک مٹی سے اٹا پڑا ہے۔ میدان میں کہیں کہیں چھوٹی چھوٹی خودرو جھاڑیاں اگ آئی ہیں ورنہ بالکل چٹیل ہے۔ چھوٹی عمر کے بچے بچیاں اور ہر عمر کے لڑکےاکثر ادھر کھیلتے پائے جاتے ہیں حالانکہ انہیں اس طرف آنے کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔

اسی گلی کے آخری گھر میں ایک بڑھیا رہتی ہے۔۔ سوکھی چمرخ سی، جس کی کھال جھریوں کے بوجھ سے لٹک گئی ہے۔ دھول مٹی سے اٹا سر اور چہرہ، اسے مزید خوفناک بنادیتے ہیں، پھرجب وہ زبان کھولتی ہے تو چھوٹے سمجھ سے انجان بچے ماؤں کے پیچھے دبک جاتے ہیں اور جو اس کی باتوں کے معنی سمجھنے کی عمر میں ہوتے ہیں۔۔ وہ ایک دوسرے سے نظریں چرائے، کان منہ لپیٹے ادھر سے بھاگ اٹھتے ہیں۔۔ اس بڑھیا کو کبھی محلے والے خالہ رضیہ کے نام سے پکارتے تھے لیکن اب یہ بگڑ کے پاگل بڑھیا ہو گیا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

عشق آتش

تحریر: سیدہ سمارا شاہ

 

یار ڈاڈھی عشق آتش لائی ہے

ہر منظر پس منظر میں تھا۔۔۔ پیش منظر ایک الاؤکی صورت میں تھا جس کے اندر خشک لکڑیاں بھڑ بھڑ جل رہی تھیں اور اپنے جلنے سے الاؤ کو روشنی اور زندگی دئیے ہوئے تھیں۔ ۔ پس منظر اور پیش منظر کے درمیان اسی روشنی کا پردہ حائل تھا جس نے پس منظر پہ اندھیرا تان دیا تھا۔

پس منظر کی تمام آوازیں خاموش تھیں۔۔ پیش منظر کے سناٹے میں لکڑیوں کے جلنے کی بھڑ بھڑاہٹ تھی یا پھر مغنی کے گلے سے نکلتے ہوئے نغمہء عشق کی نغمگی، جو پیش منظر کا احاطہ کئے ہوئے تھی۔ ۔ ۔۔۔ لیکن نغمہء عشق ابھی نامکمل تھا، پہلے ہی مصرعے تک محدود تھا۔ ۔ مغنی کو نغمہ پورا گانے کی اجازت نہیں تھی۔ ۔ اس کا ریاض ادھورا تھا۔ ۔ ۔۔ ۔۔ پیش منظر میں دی جانے والی صدا، پس منظر کے خلاؤں سے ٹکرا کے گونج پیدا کرتی ہوئی واپس پیش منظر میں آ رہی تھی ۔۔

یار ڈاڈھی عشق آتش لائی ہے
یار ڈاڈھی عشق آتش لائی ہے

چٹختی لکڑیوں سے نکلتے شرارے اڑ اڑ کر ارد گرد کی زمین پہ بکھر رہے تھے۔ ایک وجود اس الاؤ کے گرد رقصاں تھا۔ لمبے قد، گھنگھریالے بال، سنہری رنگت اور سبز آنکھوں کے ساتھ یونانی دیوتا اپالو جیسے مردانہ حسن و وجاہت کا شاہکار، مائیکل اینجلو کے ڈیوڈ کا زندہ مجسم، یوسفِ ثانی جس کی موجودگی سے ایک دنیا میں آتشِ شوق بھڑک رہی تھی لیکن وہ خود کسی اور آگ میں جل رہا تھا۔ کندن یا راکھ بننے کے مرحلے سے گزر رہا تھا۔ ۔ ۔۔ اس کے اپنے اندر عشق کا الاؤ جل رہا تھا۔۔ اوروہ عشق کے سر، عشق کی لے اور عشق کی تال سے آتش عشق کا احاطہ کئے ہوئے تھا ۔اس کے قدموں کی تھاپ میں ماہر رقاص جیسی روانی تھی ۔ الاؤ اور رقصاں قدموں کے بیچ کا فاصلہ ہر تھاپ کے ساتھ کم ہو رہا تھا۔ پیش منظر میں لکڑیوں کے الاؤ کے گرد عشق کا الاؤ رقصاں تھا ۔ پڑھنا جاری رکھیں

سرمئی رنگ۔۔۔ آخری حصہ

ایک سال بعد عبدالرؤف کے گھر والے دوسرے علاقے میں منتقل ہو گئے ۔۔۔ گھروں کے درمیان دوریاں آئیں تو ملنے جلنے میں بھی تعطل آ گیا۔۔۔ اسے اچھی پیشکش ہوئی تو وہ ملک سے باہر اٹھ آیا۔ اور اس کے ساتھ ہی سیاہ سفید کا دائرہ بھی۔ گھر والوں سے فون اور انٹر نیٹ کے ذریعے باقاعدگی سے رابطہ رہتا تھا۔ وہ اپنے دوستوں اور رشتے داروں سے بھی رابطے میں رہتا تھا۔ لیکن ھادیہ نہ تو اس کے دوستوں میں شامل تھی اور نہ ہی رشتہ دار تھی۔ پہلے بھی ان کے درمیان بس رسماً اور ضرورتاً ہی گفتگو ہوا کرتی تھی۔ اور اب اس کا بھی کوئی امکان نہیں رہا تھا۔ باقی رہا فیاض، تو اس کے ساتھ تو بات چیت سلام دعا اور مصافحے سے آگے کبھی بڑھ ہی نہیں سکی۔۔۔ یوں پردہ قرطاس پہ ھادیہ اور فیاض نامی نقطے مدھم ترین ہوتے چلے گئے۔ پڑھنا جاری رکھیں

سرمئی رنگ۔۔۔ حصہ اول

سرمئی رنگ

سمارا

سفید۔۔۔ ۔سیاہ۔۔۔۔ سیاہ۔۔۔۔سفید۔۔۔ سفید۔۔۔ سیاہ۔۔۔
گردش لیل و نہار رک گئی تھی۔مظاہر فطرت ساکت ہو گئے تھے۔ ۔ بہتا پانی، تیز ہوا دم سادھے تھے ۔نہ کوئی صدا کانوں تک پہنچ رہی تھی نہ کوئی خیال اپنی طرف توجہ کھینچ رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ سدا سفر میں رہنے والا وقت کا قافلہ بھی ساکن تھا۔۔۔ ۔ ۔ ۔اگر کچھ حرکت میں تھا توبس آنکھوں میں لہراتے دو رنگ۔ ۔۔۔ سیاہ اور سفید۔
ایک لمحے پتلیوں کے سامنے مکمل روشنی چھا جاتی تو دوسرے ہی پل وہ اندھیرے میں پھیلنے لگتیں۔ دونوں رنگ، اس کے وجود پہ اپنا رنگ جمانے کی بھر پور کوشش کر رہے تھے۔ ۔ جیسے ہی سفید رنگ سیاہ رنگ پہ غالب آنے لگتا اسی سمے سیاہی، سفیدی کی جگہ لینے لگتی۔ ۔۔ ۔ پڑھنا جاری رکھیں

یہ ہے میرا پاکستان

یہ ہے میرا پاکستان

لگ جا گلے کہ پھر یہ حسین رات ہو نہ ہو
شاید پھر اس جنم میں ملاقات ہو نہ ہو
لگ جا گلے۔۔۔۔۔۔

میں اپنے آٹھ ضرب دس کے کیبن میں بیٹھا، کانوں پہ ہیڈ فون لگائے کام میں مصروف تھا۔ ۔۔۔ میرے بالکل سامنے کمپیوٹر پر مختلف فائلیں کھلی ہوئی تھیں کہ سائڈ پہ رکھے ہوئے موبائل فون کی اسکرین روشن ہوئی۔ میں نے اس پہ چمکتا ہوا نام دیکھا اور کال ریسیو کر لی۔

"السلام علیکم ابو۔”
"وعلیکم السلام سجاد بیٹا، کیسے ہو۔۔؟”
"بالکل ٹھیک ہوں ابو۔ آپ کی طبیعیت کیسی ہے۔۔۔۔۔۔۔ پیسے میں نے بھجوا دئے تھے آپ کو مل گئے۔۔”
"ہاں مل گئے ہیں۔۔۔ بہت شکریہ۔”
"شکرئے کی کیا بات ہے ابو جی، یہ آپ کیسی غیروں جیسی باتیں کر رہے ہیں۔”
"شکرئے کی بات تو ہے نا بیٹا ۔۔۔ اگر میں غیروں جیسی بات کر رہا ہوں تو، تو ہی اپنوں جیسی بات کرکے دکھا دے ۔”
” میں تو اپنوں والی ہی بات کر رہا ہوں ابو۔۔۔ ۔”
"تو سب جانتا ہے، پھر مانتا کیوں نہیں۔”
"آپ بھی تو اپنی ضد پہ اٹکے ہوئے ہیں۔” پڑھنا جاری رکھیں

سراب۔۔۔ آخری حصہ

حصہ اول

"”تم لوگوں کا شادی کے بارے میں کیا خیال ہے۔ کوئی ارادہ ہے یا ایسے ہی زندگی انجوائے کرنی ہے بنا کسی ٹینشن کے۔” پیپسی کا گھونٹ لیتے ہوئے اس نے کہا۔

"” کم از کم اگلے کچھ سالوں تک تو بالکل نہیں۔ شادی کے بغیر ہی سب کچھ آرام سے چل رہا ہے” جینیفر نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا، "ہو سکتا ہے کچھ سالوں بعد میں شادی کر ہی لوں۔ ۔۔لیکن وہ رجسٹرڈ میرج ہوگی۔ میں سفید لباس پہن کے چرچ میں کے شادی نہیں کروں گی۔”

"کیوں۔” اس نے پوچھا حالانکہ جواب اس کی توقع کے عین مطابق تھا۔ یہ ان کے معاشرے میں عام بات تھی۔ پڑھنا جاری رکھیں

سراب ۔۔۔ حصہ اول

"گرلڈ سالمن ود پوٹیٹوز۔”
اس نے مینیو کارڈ کاسرخ فلیپ بند کر کے ویٹرس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا۔ ۔ کارڈ پہ لکھے ہوئے کھانوں میں یہ واحد ڈش تھی جو اس کے لئے شجر ممنوعہ نہیں تھی۔ دیگر تمام کھانوں میں غیر ذبیحہ گوشت یا پورک کی آمیزش تھی یا پھر ذائقہ بڑھانے کے لئے وائن ساس استعمال کی گئی تھی۔ ڈائننگ ہال کی مدہم روشنیاں آنکھوں کو بھلی لگ رہی تھیں۔ اس کی نظریں غیر ارادی طور پر ویٹرس کا پیچھا کرنے لگیں جو اب دوسری میز پر مہمانوں کی فرمائش نوٹ کرتے ہوئے ہلکی پھلکی دل لگی بھی کر رہی تھی۔ ۔ شاید انہیں خوش کرنا بھی اس کے فرائض میں شامل تھا۔ ۔ پڑھنا جاری رکھیں

بادلوں کا سفر

یہ افسانہ سہ ماہی ادبی جریدے "سمت” کے شمارہ نمبر 20 میں شامل ہوا ہے۔

بادلوں کا سفر

بادلوں کا سفر

سمندر سے نزدیکی کی وجہ سے ہوا میں نمی کی مقدار زیادہ تھی۔ درجہ حرات اگرچہ زیادہ نہیں تھا لیکن نمی کی وجہ سے حبس کا احساس تھا۔ بدلیاں آسمان پر اڑتی پھرتی تھیں۔ وہ کبھی سورج کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتیں اور کبھی چاند کے ساتھ اٹھکیلیوں میں مشغول ہو جاتیں۔ ہوا کے جھونکے انہیں جھولا جھلاتے ہوئے کہیں سے کہیں پہنچا دیتے۔ اور وہ اپنی شوخیوں اور دھن میں اس قدر مگن تھیں کہ انہیں ایک لمحے کو بھی یہ خیال نہیں آیا کہ ذرا رک کر نیچے زمین پہ بھی جھانک کر دیکھ لیں، جہاں شہر کے باسی ان پر نظریں جمائے بیٹھے تھے، اس آس میں کہ کھل کر نا سہی، پھوار کی طرح ہی ان کے جھلسے ہوئے جسموں پر یہ بدلیاں برس جائیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

کھوٹا سکہ

کھوٹا سکہ

"ٹپال، ٹپال دانے دار چائے۔”

"ٹپال، ٹپال دانے دار چائے۔”

میں کلاس چھوڑ کر باہر بیٹھے ہوئے، فائل کو انگلیوں سے بجاتے ہوئے انتہائی منہمک انداز سے گا رہا تھا۔

"یار! یہ تو واقعی دانے دار ہے۔” اسد نے چادر اوڑھے، سامنے سے گزرتی ہوئی لڑکی کو دیکھتے ہوئے کہا۔ جس کا چہرہ دانوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس کی بات پر سب دوستوں نے بھر پور قہقہہ لگایا اور ہم آواز ہو کر گانے میں شامل ہو گئے۔

"ٹپال، ٹپال دانے دار چائے۔”
"ٹپال، ٹپال دانے دار چائے۔” پڑھنا جاری رکھیں