سرمئی رنگ۔۔۔ آخری حصہ

ایک سال بعد عبدالرؤف کے گھر والے دوسرے علاقے میں منتقل ہو گئے ۔۔۔ گھروں کے درمیان دوریاں آئیں تو ملنے جلنے میں بھی تعطل آ گیا۔۔۔ اسے اچھی پیشکش ہوئی تو وہ ملک سے باہر اٹھ آیا۔ اور اس کے ساتھ ہی سیاہ سفید کا دائرہ بھی۔ گھر والوں سے فون اور انٹر نیٹ کے ذریعے باقاعدگی سے رابطہ رہتا تھا۔ وہ اپنے دوستوں اور رشتے داروں سے بھی رابطے میں رہتا تھا۔ لیکن ھادیہ نہ تو اس کے دوستوں میں شامل تھی اور نہ ہی رشتہ دار تھی۔ پہلے بھی ان کے درمیان بس رسماً اور ضرورتاً ہی گفتگو ہوا کرتی تھی۔ اور اب اس کا بھی کوئی امکان نہیں رہا تھا۔ باقی رہا فیاض، تو اس کے ساتھ تو بات چیت سلام دعا اور مصافحے سے آگے کبھی بڑھ ہی نہیں سکی۔۔۔ یوں پردہ قرطاس پہ ھادیہ اور فیاض نامی نقطے مدھم ترین ہوتے چلے گئے۔ پڑھنا جاری رکھیں

سرمئی رنگ۔۔۔ حصہ اول

سرمئی رنگ

سمارا

سفید۔۔۔ ۔سیاہ۔۔۔۔ سیاہ۔۔۔۔سفید۔۔۔ سفید۔۔۔ سیاہ۔۔۔
گردش لیل و نہار رک گئی تھی۔مظاہر فطرت ساکت ہو گئے تھے۔ ۔ بہتا پانی، تیز ہوا دم سادھے تھے ۔نہ کوئی صدا کانوں تک پہنچ رہی تھی نہ کوئی خیال اپنی طرف توجہ کھینچ رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ سدا سفر میں رہنے والا وقت کا قافلہ بھی ساکن تھا۔۔۔ ۔ ۔ ۔اگر کچھ حرکت میں تھا توبس آنکھوں میں لہراتے دو رنگ۔ ۔۔۔ سیاہ اور سفید۔
ایک لمحے پتلیوں کے سامنے مکمل روشنی چھا جاتی تو دوسرے ہی پل وہ اندھیرے میں پھیلنے لگتیں۔ دونوں رنگ، اس کے وجود پہ اپنا رنگ جمانے کی بھر پور کوشش کر رہے تھے۔ ۔ جیسے ہی سفید رنگ سیاہ رنگ پہ غالب آنے لگتا اسی سمے سیاہی، سفیدی کی جگہ لینے لگتی۔ ۔۔ ۔ پڑھنا جاری رکھیں