اتفاقات۔۔۔؟

اتفاقات۔۔۔؟

زندگی اتفاقات کا مجموعہ ہے۔

کسی نے کہا کہ اتفاقات پہ لکھو۔ اسی مقصد کے لئے اوپر والا جملہ لکھا ہے اور اس کے بعد۔۔۔۔ شاید ایک فل اسٹاپ۔۔۔ یعنی بات ختم۔

ایسا نہیں کہ مجھے اتفاقات پہ لکھنا نہیں آ رہا بلکہ میرے سامنے یہ سوال آ کھڑا ہوا ہے کہ کیا میں اتفاقات پہ یقین رکھتی ہوں۔۔۔؟ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

تصویر کے رخ

زیادہ تر لوگوں نے تصویر کے دوسرا رخ دیکھنے والی کہانی سنی ہوگی یا پھر پڑھی ہوگی۔ یہاں میرا مقصد پرانی اور پہلے سے جانی بوجھی ہوئی بات کو دہرانا نہیں ہے بلکہ اس پیغام کو سمجھنا ہے جو اس مثال سے سامنے آتا ہے یعنی معاملے کے صرف ایک پہلو کو دیکھ کر رائے نہیں بنانی چاہئے کہ یہ سچائی اور انصاف کے خلاف ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کی اہمیت— ایک امریکی ماں کی نظر سے

ترجمہ و تلخیص: سمارا

اس مضمون کی مصنفہ Tennille Webster ہیں۔ مختلف انٹر نیٹ سائٹس پر آپ کے مضامین چھپتے رہتے ہیں۔


مصنفہ اپنی بیٹی کے ساتھ

میں اپنے وقت کا زیادہ تر حصہ اسی اسکرین کے سامنے گزارتی ہوں جس کے آگے میں ابھی بھی موجود ہوں۔۔۔ یہ ایک چھوٹی سی دس انچ کی ایل سی ڈی اسکرین ہے۔ اس اسکرین اور میرے بچوں میں کچھ بھی مشترک نہیں ہے۔ یہ میرے بچوں کی مماثلت صرف اسی وقت اختیار کرتی ہے جب میں ان کی تصویریں دیکھ رہی ہوں۔ کام کے اوقات میں بچوں کی تصویریں دیکھتے ہوئے مجھے احساس جرم ہوتا ہے کہ میں کام کی بجائے کچھ اورکر رہی ہوں۔ گویا جس وقت کی مجھے تنخواہ ملتی ہے اس وقت میں کام کی بجائے اپنے بچوں کی تصویریں دیکھنے میں مشغول ہوں۔ میری نظر میں یہ اپنے کام اور ذمہ داری کے ساتھ بے ایمانی ہے۔ مجھے کام دینے والوں نے یہ سوچ کر مجھے نوکری دی ہے کہ میں بہتر طریقے سے اپنی ذمہ داری انجام دوں گی لیکن حقیقت میں، میں کام کی بجائے کمپیوٹر اسکرین پر اپنے بچوں کی تصویریں دیکھنا پسند کرتی ہوں۔

لیکن میں کام کرتی کیوں ہوں؟ پڑھنا جاری رکھیں

ٹیوننگ(Tuning)

ٹیوننگ(Tuning)

گھر بیٹھے بیٹھے دنیا بھر کے حالات سے واقف ہونا ایک ایسی عیاشی ہے جو گزشتہ صدی سے پہلے ممکن نہیں تھی۔ پہلے زمانے میں لوگ دوسرے علاقوں سے آنے والے مسافروں کا انتظار کرتے تھے جو آ کے انہیں ان دیکھی جگہوں کی باتیں بتائیں، دور دراز کے قصے سنائیں۔ اِن اَن دیکھی داستانوں میں بڑی کشش ہوتی تھی اور لوگ عرصے تک ان کے سحر میں مدہوش رہتے تھے۔ تخیلات کی ایک دنیا آباد تھی جہاں دور دیشوں میں دودھ کی نہریں بہتی رہتیں اور بیش قیمت جواہر راہوں میں عام پڑے ہوتے۔ پڑھنا جاری رکھیں

بلیک ہولز۔۔۔ جنگ سنڈے میگزین 28 نومبر 2010

السلام علیکم

میرا یہ مضمون اس ہفتے کے جنگ سنڈے میگزین میں شامل ہوا ہے۔ آپ لوگوں کے لئے یہاں شئیر کر رہی ہوں۔ پڑھنا جاری رکھیں

اسٹیفن ہاکنگ کے ساتھ وقت میں سفر—آخری حصہ

 

لیکن وقت میں سفر کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ میں وقت میں سفر کرنے پہ یقین رکھتا ہوں۔وقت ایک بہتے ہوا دریا کی طرح ہے۔ ہم اس کے دھارے میں بہتے جاتے ہیں۔ یہ ایک اور طرح سے بھی بہتے ہوئے دریا سے مماثل ہے کہ یہ مختلف مقامات پہ مختلف رفتار سے گزرتا ہے۔ رفتار کا یہ فرق دراصل مسقتبل میں سفر کی کنجی ہے۔ یہ تصور سب سے پہلے البرٹ آئن سٹائن نے تقریباً ایک سو سال پہلے پیش کیا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ کچھ جگہیں ہونی چاہئیں جہاں وقت کی رفتار آہستہ ہو جائے اور کچھ جگہیں ایسی ہوں جہاں وقت تیز رفتار میں چلے۔ اس کا تصور بالکل ٹھیک تھا۔ اور اس کا ثبوت ہمارے بالکل اوپر ہے یعنی خلا میں۔ پڑھنا جاری رکھیں

اسٹیفن ہاکنگ کے ساتھ وقت میں سفر—پہلا حصہ

اسٹیفن ہاکنگ کے ساتھ وقت میں سفر

(Time travel with Stephen Hawking)

ترجمہ و تلخیص: سمارا

اسٹیفن ہاکنگ ایک مشہور طبیعات دان ہیں۔ وہ آئن سٹائن کے بعد دنیا کے ذہین ترین شخص مانے جاتے ہیں۔ فزکس کے شعبے میں آپ کا کام قابل قدر ہے۔ حال ہی میں ڈسکوری چینل پہ وقت کے سفر یعنی ٹائم ٹریول کے بارے میں آپ کا پروگرام پیش کیا گیا ہے۔ جس میں ہاکنگ نے ماضی یا مستقبل میں سفر کرنے کی انسانی صلاحیت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔ دلچسپی کے لئے اس پروگرام کی تفصیلات انہی کی زبانی یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

یہ رزق حلال کمانے والے

السلام علیکم

یہ تصاویر آپ میں سے کئی لوگوں نے دیکھی ہوں گی۔ ان تصاویر میں جہاں سیلاب کی مشکلات نظر آ رہی ہیں وہیں مخلوق خدا بھی نظر آ رہی ہے۔ سیلاب کی مشکلات اور پریشانیاں اپنی جگہ ہیں، لیکن مجھے سب سے زیادہ ان لوگوں کی ہمت اور جذبے نے متاثر کیا ہے جو اس مشکل وقت میں بھی محنت کرکے رزق حلال کمانے کے لئے مشقت کر رہے ہیں اور کسی امداد کی آس پہ نہیں بیٹھے ہوئے۔ پڑھنا جاری رکھیں

ہم زندہ قوم ہیں!

ہم زندہ قوم ہیں!


بچپن سے ہی 14 اگست کا دن میرے لئے ایک الگ دن کی حیثیت رکھتا تھا۔ ایک ایسا دن جس کا مجھے عید کے دن کی طرح ہی انتظار ہوتا۔ اس دن کے آتے ہی ایک خوشی اور مسرت دل میں پیدا ہو جاتی۔ اگست کا مہینہ آتے ساتھ ہی ہم ابو کے پیچھے پڑ جاتے تھے کہ وہ جھنڈا لے کے آئیں۔ پھر جب تک گھر کی چھت پہ جھنڈا نہیں لگ جاتا تھا تب تک ابو کی جان نہیں چھوٹتی تھی۔ پڑھنا جاری رکھیں