The Reluctant Fundamentalist by Mohsin Hamid

The Reluctant Fundamentalist by Mohsin Hamid

ترجمہ: بنیاد پرست
مترجم: ندیم اختر (ماہنامہ ون اردو)

پاکستان میں آج کل اردو میں لکھے جانے والے اچھے ناولز اور کتابوں کی کافی کمی ہے۔۔ کافی عرصے سے نئے لکھنے والے سامنے نہیں آ رہے۔۔۔ لیکن ترجمے کی فیلڈ میں بہت عمدہ کام ہو رہا ہے۔۔ تقریباً تمام مشہور اور عمدہ غیر ملکی ناولوں کا اردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے حتیٰ کہ وار اینڈ پیس جیسے ضخیم ناول کا اردو ترجمہ بھی دستیاب ہے۔۔

تراجم کی فہرست دن بدن طویل ہوتی جا رہی ہے اور اسی لسٹ میں اگلا نام ہے بنیاد پرست کا، جو محسن حامد کے انگریزی ناول دی ریلکٹنٹ فنڈا مینٹلسٹ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ ترجمہ ندیم اختر صاحب نے کیا ہے اور ماہ نامہ ون اردو میں دو سال تک مستقل چھپنے کے بعد حالیہ شمارے میں اس ترجمے کی آخری قسط پیش کی گئی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

مصحف از نمرہ احمد

مصحف از نمرہ احمد

مصحف نمرہ احمد کا لکھا ہوا ناول ہے جو خواتین ڈائجسٹ میں مارچ 2011 سے قسط وار شائع ہوا۔۔۔

مصحف یعنی قرآن۔۔۔ نام سے ہی ظاہر ہے کہ اس کہانی کا مرکزی خیال قرآن کے اردگرد گھومتا ہے۔ یہ ناول ایک لڑکی کی کہانی ہے جس کے والد کے انتقال کے بعد گھر جائداد پہ لالچی چچا تایا نے قبضہ کرکے ماں بیٹی کو ان کے جائز حق سے نا صرف محروم کر دیا ہے بلکہ ان کے ساتھ گھر میں نوکروں جیسا سلوک بھی کر رہے ہیں۔۔۔ اس سلوک سے نالاں وہ لڑکی اپنی زبان سے سب کا دوبدو مقابلہ کرتی ہے۔۔۔

انہی حالات میں اسے ایک انجان لڑکی اسے قرآن دیتی ہے جسے وہ ناسمجھی میں واپس کر دیتی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

Digital Fortress by Dan Brown


Digital fortress کافی عرصے سے پڑھنے کا ارادہ تھا اور اب بالآخر پڑھا گیا۔ اچھا ناول ہے۔ اس میں کافی تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ ای میل اور نیٹ پیغامات کو کس طرح کنٹرولنگ اتھارٹیز انڈر آبزرویشن رکھتی ہیں اور انٹر نیٹ پہ بھیجا ہوا ہر پیغام پڑھا جاتا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

کاجل کوٹھا از بابا محمد یحییٰ خان

کاجل کوٹھا از بابا محمد یحییٰ خان

لگ بھگ ساڑھے نو سو سے زیادہ صفحات پہ لکھی گئی یہ ضخیم کتاب بابا محمد یحیٰی خان کی لکھی ہوئی "پیا رنگ کالا” کا دوسرا حصہ ہے۔

جن لوگوں نے اشفاق احمد کی کتابیں پڑھی ہوں گی وہ یقیناً ان میں موجود بابوں سے واقف ہوں گے۔ بابا محمد یحییٰ خان کے تعارف کے لئے بس اتنا ہی کہ یہ اشفاق احمد کے بابوں میں سے ایک ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں