یہودی فلسفہء اعتماد۔۔۔!

پیا رنگ کالا از بابامحمد یحییٰ خان سے ایک اقتباس

حکایت یوں ہے کہ ایک بوڑھا کاروباری یہودی جب اپنی لاعلاج علالت کی وجہ سے سر پڑی کاروباری ذمہ داریاں پوری طرح نبھانے سے قاصر ہو گیا تو اس نے اپنے نابالغ فرزند کو اپنی جگہ تفویض کرنے کا فیصلہ کر لیا لیکن ایک خدشہ اسے رہ رہ کر پریشان اور فکرمند کر رہا تھا کہ بچہ ابھی کچا اور کاروباری معاملات کی پیرا پھیری سے ناواقف ہے۔ چونکہ جلد سے جلد بیٹے کو اپنی جگہ پہ بٹھانا اس کی مجبوری اور ضرورت بن چکا تھا، اس لئے خرانٹ بڈھے نے فوری طور پہ اسے وہی ازلی سبق پڑھانے کا سوچ لیا جو کبھی اس کے باپ نے اسے پڑھایا تھا پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

تابوت سکینہ

تابوت سکینہ مسلمانوں کے لئے صرف ایک صندوق جتنی اہمیت رکھتا ہے اور قرآن میں اس کے بارے میں صرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ اسکو اس وقت فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہے مزید اسکے بارے میں قرآن اور حدیث میں خاموشی ہے-

لیکن تابوت سکینہ یہودی مزہب میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور اسے انتہائ مقدس سمجھا جاتا ہے- عیسائیت میں بھی یہ اہمیت کا حامل ہے اور اسکا ذکر انکی کتابوں میں بھی ملتا ہے پڑھنا جاری رکھیں

دہشت گردی—ایک تقابلی جائزہ

آج کل کے جدید زمانے میں جدید ٹیکنالوجی، اور ذرائع ابلاغ کی مدد سے دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئ ہے- جس طرح سے دنیا کی اکانومی، کلچر گلوبلائز ہو رہے ہیں اسی طرح سے مسائل بھی گلوبلائز ہو رہے ہیں ان مسائل میں اول نمبر کا مسئلہ دہشتگردی ہے اور اس گلوبلائزیشن نے پوری گلوب کو ہی گن کے نشانے پر لا کھڑا کیاہے-
دہشت گردی کی سادہ ترین تعریف یوں کی جا سکتی ہے
Terrorism is the use of terrorizing methods of governing or resisting a government.
اور دہشت کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے
Terror is an intense, overpowering fear.
اس تعریف کی رو سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ تشددکا نا جائز استعمال دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، پھر چاہے وہ حکومت کی طرف سے ہو یا پھر کسی حکومت مخالف گروپ کی طرف سے-
دہشت گردی کی یہ تعریف کوئ حکومتی سطح پر مانی ہوئ تعریف نہیں ہے، حکومتی سطوحات پر اسکو سمجھنے کے لئے قائم معیار بہت پیچیدہ ہیں اور یہ معیار وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں اور انہی تبدیل شدہ معیارات کی بدولت ہیروز، دہشت گردوں میں اور دہشت گرد، ہیروز میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں- پڑھنا جاری رکھیں

ذوالقرنین بادشاہ

ذوالقرنین کا قصہ قرآن پاک کی سورت الکہف میں ملتا ہے۔ اسکے علاوہ ان کا ذکر قرآن پاک کے ساتھ ساتھ بائبل میں بھی موجود ہے۔ قرآن پاک میں زوالقرنین کا قصہ اس طرح ملتا ہے۔ 

 

اور اے محمد ص، یہ لوگ تم سے زوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ ان سے کہو، میں اس کا کچھ حال تم کو سناتا ہوں۔ ہم نے اس کو زمین مین اقتدار عطا کر رکھا تھا اور اسے ہر قسم کے اسباب و وسائل بخشے تھے۔ اس نے (پہلے مغرب کی طرف ایک مہم کا) سرو سامان کیا۔ حتیٰ کہ جب وہ غروب آفتاب کی حد تک پہنچ گیا تو اس نے سورج کو ایک کالے پانی میں ڈوبتے دیکھا اور وہاں اسے ایک قوم ملی۔ ہم نے کہا،”اے ذوالقرنین، تجھے یہ قدرت بھی حاصل ہے کہ ان کو تکلیف پہنچائے اور یہ بھی کہ ان کے ساتھ نیک رویہ اختیار کرے۔” اس نے کہا،”جو ان میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو سزا دیں گے، پھر وہ اپنے رب کی طرف پلٹایا جائے گا اور وہ اسے اور زیادہ سخت عزاب دے گا۔ اور جو ان میں سے ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اس کے لئے اچھی جزا ہے اور ہم اس کو نرم احکام دیں گے۔”
پھر اس نے (ایک دوسری مہم کی) تیاری کی یہاں تک کہ طلوع آفتاب کی حد تک جا پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے جس کے لئے دھوپ سے بچنے کا کوئی سامان ہم نے نہیں کیا ہے۔ یہ حال تھا ان کا، اور زوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا اسے ہم جانتے تھے۔
پھر اس نے (ایک اور مہم) کا سامان کیا یہاں تک کہ جب وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا تو اسے ان کے پاس ایک قوم ملی جو مشکل سے ہی کوئی بات سمجھتی تھی۔ ان لوگوں نے کہا کہ "اے زوالقرنین، یاجوج اور ماجوج ہمارے اس سرزمین پر فساد پھیلاتے ہیں۔ تو کیا ہم تجھے کوئی ٹیکس اس کام کے لئے دیں کہ تو ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند تعمیر کر دے”۔ اس نے کہا "جو کچھ میرے رب نے مجھے دے رکھا ہے وہ بہت ہے۔ تم بس محنت سے میری مدد کرو، میں تمہارے اور ان کے درمیان بند بنائے دیتا ہوں۔ مجھے لوہے کی چادریں لا کر دو۔” آخر جب دونوں پہاڑوں کے درمیانی خلا کو اس نے پاٹ دیا تو لوگوں سے کہا کہ اب آگ دہکاؤ، حتیٰ ک ہجب (یہ آہنی دیوار) بالکل آگ کی طرح سرخ ہو گئی تو اس نے کہا”لاؤ، اب میں اس پر پگھلا ہوا تانبا انڈیلوں گا۔” (یہ بند ایسا تھا کہ) یاجوج و ماجوج اس پر چڑھ کر بھی نہ آ سکتے تھے اور اس میں نقب لگانا ان کے لئے اور بھی مشکل تھا۔ زوالقرنین نے کہا "یہ میرے رب کی رحمت ہے مگر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اس کو پیوند خاک کر دے گا، اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔” 

 

یہاں ذہن میں خیال آتا ہے کہ زوالقرنین بادشاہ سے تاریخ کا کونسا بادشاہ مراد ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں