بری عورت کی کتھا از کشور ناہید

بری عورت کی کتھا از کشور ناہید

یہ حالیہ تازہ ترین کتاب ہے جو میں نے پڑھی ہے۔۔۔ یہ کشور ناہید کی اپنی آپ بیتی ہے لیکن اس کو انہوں نے کہانی سے زیادہ فلسفے کے انداز میں لکھا ہے اور حالات و واقعات کو بیان کرنے سے زیادہ ان کا تجزیہ بیان کیا ہے۔

اس میں ان کی مشکلات کا بیان ہے اور عمومی انداز میں ہمارے معاشرے میں ایک بچی سے لے کر لڑکی اور عورت تک جو مشکلات پیش آتی ہیں پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

آپریشن جیرونیمو از برگیڈیئر ریٹائرڈ شوکت قادر

آپریشن جیرونیمو از برگیڈیئر ریٹائرڈ شوکت قادر

ترجمہ: عبدالقادر (روزنامہ امت)

انگریزی زبان میں لکھی گئی یہ کتاب اسامہ بن لادن کے قتل کے موضوع کا احاطہ کرتی ہے اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا پہلا سال مکمل ہونے کے موقع پہ شائع ہوئی ہے۔ مصنف عسکری اور سیاسی تجزیہ نگار ہیں اور اسی مہارت کو استعمال کرتے ہوئے اس کتاب میں انہوں نے اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی اور اس کی ہلاکت کے بارے میں اٹھنے والے سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

آگے سمندر ہے از انتظار حسین


آگے سمندر ہے از انتظار حسین

مشہور مصنف انتظار حسین کا لکھا ہوا یہ پہلا ناول ہے جو میں نے پڑھا ہے۔۔۔ یہ ناول کراچی کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ جس میں قیام پاکستان کے بعد کا زمانہ دکھایا گیا ہے۔۔ ناول کی خوبصورتی یہ ہے کہ جہاں یہ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے پاکستان پہنچنے والوں کی ترجمانی کرتا ہے وہیں انڈیا میں باقی رہ جانے والے لوگوں کے خیالات سے بھی آگاہی دلاتا ہے پڑھنا جاری رکھیں

یہ ہے میرا پاکستان

یہ ہے میرا پاکستان

لگ جا گلے کہ پھر یہ حسین رات ہو نہ ہو
شاید پھر اس جنم میں ملاقات ہو نہ ہو
لگ جا گلے۔۔۔۔۔۔

میں اپنے آٹھ ضرب دس کے کیبن میں بیٹھا، کانوں پہ ہیڈ فون لگائے کام میں مصروف تھا۔ ۔۔۔ میرے بالکل سامنے کمپیوٹر پر مختلف فائلیں کھلی ہوئی تھیں کہ سائڈ پہ رکھے ہوئے موبائل فون کی اسکرین روشن ہوئی۔ میں نے اس پہ چمکتا ہوا نام دیکھا اور کال ریسیو کر لی۔

"السلام علیکم ابو۔”
"وعلیکم السلام سجاد بیٹا، کیسے ہو۔۔؟”
"بالکل ٹھیک ہوں ابو۔ آپ کی طبیعیت کیسی ہے۔۔۔۔۔۔۔ پیسے میں نے بھجوا دئے تھے آپ کو مل گئے۔۔”
"ہاں مل گئے ہیں۔۔۔ بہت شکریہ۔”
"شکرئے کی کیا بات ہے ابو جی، یہ آپ کیسی غیروں جیسی باتیں کر رہے ہیں۔”
"شکرئے کی بات تو ہے نا بیٹا ۔۔۔ اگر میں غیروں جیسی بات کر رہا ہوں تو، تو ہی اپنوں جیسی بات کرکے دکھا دے ۔”
” میں تو اپنوں والی ہی بات کر رہا ہوں ابو۔۔۔ ۔”
"تو سب جانتا ہے، پھر مانتا کیوں نہیں۔”
"آپ بھی تو اپنی ضد پہ اٹکے ہوئے ہیں۔” پڑھنا جاری رکھیں

سراب۔۔۔ آخری حصہ

حصہ اول

"”تم لوگوں کا شادی کے بارے میں کیا خیال ہے۔ کوئی ارادہ ہے یا ایسے ہی زندگی انجوائے کرنی ہے بنا کسی ٹینشن کے۔” پیپسی کا گھونٹ لیتے ہوئے اس نے کہا۔

"” کم از کم اگلے کچھ سالوں تک تو بالکل نہیں۔ شادی کے بغیر ہی سب کچھ آرام سے چل رہا ہے” جینیفر نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا، "ہو سکتا ہے کچھ سالوں بعد میں شادی کر ہی لوں۔ ۔۔لیکن وہ رجسٹرڈ میرج ہوگی۔ میں سفید لباس پہن کے چرچ میں کے شادی نہیں کروں گی۔”

"کیوں۔” اس نے پوچھا حالانکہ جواب اس کی توقع کے عین مطابق تھا۔ یہ ان کے معاشرے میں عام بات تھی۔ پڑھنا جاری رکھیں

سراب ۔۔۔ حصہ اول

"گرلڈ سالمن ود پوٹیٹوز۔”
اس نے مینیو کارڈ کاسرخ فلیپ بند کر کے ویٹرس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا۔ ۔ کارڈ پہ لکھے ہوئے کھانوں میں یہ واحد ڈش تھی جو اس کے لئے شجر ممنوعہ نہیں تھی۔ دیگر تمام کھانوں میں غیر ذبیحہ گوشت یا پورک کی آمیزش تھی یا پھر ذائقہ بڑھانے کے لئے وائن ساس استعمال کی گئی تھی۔ ڈائننگ ہال کی مدہم روشنیاں آنکھوں کو بھلی لگ رہی تھیں۔ اس کی نظریں غیر ارادی طور پر ویٹرس کا پیچھا کرنے لگیں جو اب دوسری میز پر مہمانوں کی فرمائش نوٹ کرتے ہوئے ہلکی پھلکی دل لگی بھی کر رہی تھی۔ ۔ شاید انہیں خوش کرنا بھی اس کے فرائض میں شامل تھا۔ ۔ پڑھنا جاری رکھیں

یہ رزق حلال کمانے والے

السلام علیکم

یہ تصاویر آپ میں سے کئی لوگوں نے دیکھی ہوں گی۔ ان تصاویر میں جہاں سیلاب کی مشکلات نظر آ رہی ہیں وہیں مخلوق خدا بھی نظر آ رہی ہے۔ سیلاب کی مشکلات اور پریشانیاں اپنی جگہ ہیں، لیکن مجھے سب سے زیادہ ان لوگوں کی ہمت اور جذبے نے متاثر کیا ہے جو اس مشکل وقت میں بھی محنت کرکے رزق حلال کمانے کے لئے مشقت کر رہے ہیں اور کسی امداد کی آس پہ نہیں بیٹھے ہوئے۔ پڑھنا جاری رکھیں

ہم زندہ قوم ہیں!

ہم زندہ قوم ہیں!


بچپن سے ہی 14 اگست کا دن میرے لئے ایک الگ دن کی حیثیت رکھتا تھا۔ ایک ایسا دن جس کا مجھے عید کے دن کی طرح ہی انتظار ہوتا۔ اس دن کے آتے ہی ایک خوشی اور مسرت دل میں پیدا ہو جاتی۔ اگست کا مہینہ آتے ساتھ ہی ہم ابو کے پیچھے پڑ جاتے تھے کہ وہ جھنڈا لے کے آئیں۔ پھر جب تک گھر کی چھت پہ جھنڈا نہیں لگ جاتا تھا تب تک ابو کی جان نہیں چھوٹتی تھی۔ پڑھنا جاری رکھیں