خالہ رضیہ

خالہ رضیہ

تحریر: سیدہ سمارا شاہ

گنجان بازار سے داہنے ہاتھ ایک پتلی سی گلی نکلتی ہے۔ اس گلی کے اختتام پہ کھلا میدان ہے جو خشک مٹی سے اٹا پڑا ہے۔ میدان میں کہیں کہیں چھوٹی چھوٹی خودرو جھاڑیاں اگ آئی ہیں ورنہ بالکل چٹیل ہے۔ چھوٹی عمر کے بچے بچیاں اور ہر عمر کے لڑکےاکثر ادھر کھیلتے پائے جاتے ہیں حالانکہ انہیں اس طرف آنے کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔

اسی گلی کے آخری گھر میں ایک بڑھیا رہتی ہے۔۔ سوکھی چمرخ سی، جس کی کھال جھریوں کے بوجھ سے لٹک گئی ہے۔ دھول مٹی سے اٹا سر اور چہرہ، اسے مزید خوفناک بنادیتے ہیں، پھرجب وہ زبان کھولتی ہے تو چھوٹے سمجھ سے انجان بچے ماؤں کے پیچھے دبک جاتے ہیں اور جو اس کی باتوں کے معنی سمجھنے کی عمر میں ہوتے ہیں۔۔ وہ ایک دوسرے سے نظریں چرائے، کان منہ لپیٹے ادھر سے بھاگ اٹھتے ہیں۔۔ اس بڑھیا کو کبھی محلے والے خالہ رضیہ کے نام سے پکارتے تھے لیکن اب یہ بگڑ کے پاگل بڑھیا ہو گیا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

بری عورت کی کتھا از کشور ناہید

بری عورت کی کتھا از کشور ناہید

یہ حالیہ تازہ ترین کتاب ہے جو میں نے پڑھی ہے۔۔۔ یہ کشور ناہید کی اپنی آپ بیتی ہے لیکن اس کو انہوں نے کہانی سے زیادہ فلسفے کے انداز میں لکھا ہے اور حالات و واقعات کو بیان کرنے سے زیادہ ان کا تجزیہ بیان کیا ہے۔

اس میں ان کی مشکلات کا بیان ہے اور عمومی انداز میں ہمارے معاشرے میں ایک بچی سے لے کر لڑکی اور عورت تک جو مشکلات پیش آتی ہیں پڑھنا جاری رکھیں